اسلام

جہالت میں فتویٰ کیوں دیا۔۔۔؟

آج ہر طرف کورونا وائرس نے اپنی چھوٹی جسامت کے باوجوددنیا کو تباہی کے دہانے پہ لاکھڑا کیا ہے،دنیا تبدیل ہوکر رہ گئی ہے،رہن سہن میں تغیر واقع ہو چکا ہے،ہر شخص کو اپنی اپنی فکر لاحق ہے،گویا دنیا قیامت سے قبل قیامت کا منظر پیش کر رہی ہو

آج ہر طرف کورونا وائرس نے اپنی چھوٹی جسامت کے باوجوددنیا کو تباہی کے دہانے پہ لاکھڑا کیا ہے،دنیا تبدیل ہوکر رہ گئی ہے،رہن سہن میں تغیر واقع ہو چکا ہے،ہر شخص کو اپنی اپنی فکر لاحق ہے،گویا دنیا قیامت سے قبل قیامت کا منظر پیش کر رہی ہو،ایسے میں جب عمومی حالات تبدیل ہوچکے ہوں ،تو ساتھ ساتھ اس کا اثر سیاسی،سماجی،مذہبی امور میں بھی ظاہر ہوتاہے،الحمد للہ دین اسلام اپنی جامعیت کی وجہ سے بنسبت دیگر ادیان کے کامل بلکہ اکمل ہے،جب جب کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو ایسے علماء کرام جو اپنے اندر علمی رسوخ رکھتے ہیں،اجتماعی اجتہاد سے لوگوں کو دین میں موجود اس مسئلہ کا جامع حل پیش کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر مثبت اثرات کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ واقع ہوتا ہے،لیکن جب اس روش کو چھوڑ کر ہر کوئی (عام فہم افراد) اپنی من مانی کے فتوے دینا شروع ہوجاتاہے،تو نتیجے میں عام طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین ایک قسم کی بے چینی پھیلنا شروع ہو جاتی ہے،جو آگے چل کر مذہب اور خصوصا مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سے منافرت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

فتویٰ جیسی بھاری ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اس کا مجاز کون ہے یہ ایک وضاحت طلب مسئلہ ہے،اس کے لئے علم دین ہونے کے ساتھ ساتھ علمیت کے اندر رسوخ کا ہونا اور اس مطابق معیاری تقویٰ کا ہونالازمی جزء ہے،مسئلہ دیکھ کر فی الفور فتویٰ صادر نہیں کیا جاتا بلکہ ایک متقی و صاحب بصیرت عالم اس مسئلہ کی پوزیشن کو جانچتا ہے،اس کی گہرائی میں غوطہ زن ہوجاتا ہے ،پھر جاکر کسی نتیجے پہ پہنچ کراس مسئلہ کا حل پیش کرتا ہے،آج کل سوشل میڈیا نے ہر کسی کو نام نہاد مفتی بنادیا ہے،ماسوائے کچھ صاحب علم افراد کے،کچھ افراد موجودہ(کورونا)صورتحال میں اپنی سرسری معلومات کے مطابق فتوے پہ فتوے لگا رہے ہیں،فتویٰ دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ،صحابہ کرام اور سلف صالحین کا کیا طریقہ کار رہا ہے،اور اس سے ہمیں کیا درس حاصل ہوتا ہے،آپ ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں اس شخص پر شدید نکیر فرمائی تھی جس نے فتویٰ دینے میں عجلت کا مظاہرہ کیا،قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک صحابی زخموں سے بلکل چور تھا ساتھ ساتھ اس کو جنابت لاحق ہوچکی تھی،ایسے میں اس نے اس پر غسل کے وجوب کا حکم دیا یہ بھی خیال نہ رکھا کہ وہ زخموں سے بلکل چور ہے،نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شخص فوت ہوگیا،جب آپﷺ کو اس بابت علم ہوا تو آپ نے شدید غم و غصے کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا:”قتلوہ قتلھم اللہ! الا سالوا اذ لم یعلموا فانما شفاء العی السوال،انما یکفیہ ان یتیمم(صحیح الجامع الصغیر)”
ترجمہ:”اسے اپنے ہی ساتھیوں نے ہلاک کردیا،اللہ ان کو ہلاک کردے!ان کو علم نہیں تھا

تو انہوں نے پوچھا کیوں نہیں،جہالت کا علاج صرف اور صرف پوچھنے میں ہے”اس سے بے علمی میں فتویٰ دینے کی کراہت کا اندازہ آپﷺ کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے ”قتلھم اللہ”(اللہ ان کو ہلاک کردے)اور ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فتویٰ جب علمیت کی بنیاد پر دی جائے تو وہ خیر لاتی ہے،لیکن جب وہ جہالت میں دی جائے تو وہ ہلاکت اور تخریب کا باعث بنتی ہے،مفتی حضرات کے پاس فتویٰ کی اہلیت کے لئے علمیت اور احتیاطی رویہ کا ہونا لازمی ہے۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:”جس نے ہر اس مسئلہ پر فتویٰ دیا جو اس سے پوچھا گیا تو وہ دیوانہ ہے”حضرت ابوبکر فرماتے ہیں:”اگر میں وہ بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں تو کونسا آسمان ہوگا جو مجھ پر سایہ کرے ،اور کونسی زمین ہوگی جو مجھے پناہ دے”حضرت ابن القیم رحمہ اللہ و غیرہ نے اس بات پر اجماع نقل فرمایا ہے کہ”بغیر علم کے دین میں فتویٰ دینے کا کوئی مجاز نہیں” وہ اس کو قرآن کریم کی اس آیت کے ضمن میں لیتے تھے”و ان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون(الاعراف)”انہوں نے اس بابت احادیث،آثار صحابہ اور سلف صالحین کے اقوال نقل کئے ہیں جس سے نام نہاد مفتیوں،طفلان مکتب اور نیم ملاؤں کے لئے دروازے بند ہوگئے ہیں۔

حضرت ابوحصین اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”تم میں سے ایک شخص کسی مسئلہ پر بے دھڑک فتویٰ دیتا ہے ،لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مسئلہ حضرت عمر کو پیش آتا تو اس کے کے لئے بدری صحابہ کو جمع فرماتے”اگر اشعری محترم اس دور میں ہوتے تو پتہ نہیں ان کے دل پر کیا گزرتی۔مذکورہ دلائل نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فتویٰ دینا ایک حساس معاملہ ہے جس کے لئے علم و تقویٰ کے اسلحے کا ہونا لازمی ہے، خیر یہ تو ہوئی جہالت پر مبنی فتویٰ کی بات لیکن اس سے بڑھ کر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ غرور کی بیماری ہمارے علوم شریعت کے نووارد حضرات میں اتنی سرایت کر گئی ہے جو”ھم رجال و نحن رجال”لبادہ اوڑھے اس میدان میں کوسوں دور نکل چکے ہیں،اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور اس جہالت کے بدبودار گٹر سے باہر نکالے۔ (آمین)۔