بلاگ

جہالت کا کورونا

غالبا بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت تھا 1994 کی بات ہوگی یہ جب اپنے بچپن میں ہم نے پہلی دفعہ پولیو مہم کا نام سنا تھا اور بی بی ہی نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ شاید نارنجی رنگ کے باتصویر پوسٹرز تھے جو شہروں میں آویزاں کئے گئے کہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو قطرے پلوائیں۔ اس وقت بھی ایک منفی سوچ بہت مقبول تھی۔ البتہ تب گلیوں بازاروں، محلوں، گھروں میں اس وقت عاشقی اور بات کے کوٹھوں چڑھنے کے لئے صرف ہونٹوں کا سہارا ہی لیا جاتا تھا۔ سب دلائل تو یاد نہیں لیکن ایک "مردانگی” چونکہ مسلمان معاشروں کا آخری اثاثہ ہے تو "نامردی” اور بانجھ پن کا خطرہ بہت نمایاں تھا کہ اپنے بچوں کو اس سے دور رکھیں۔ ورنہ بچے پیدا کرنے کے "قابل” نہیں رہیں گے۔ اس وقت پاکستان کی آبادی دس گیارہ کروڑ تو ہوگی کیوں کہ 1998 کی مردم شماری میں ہم الا ماشااللہ پورے تیرہ کروڑ تھے۔ تو اب جب کہ پچیس سال سے اوپر گزر چکے ہیں، ان قطرے پینے والوں نے جوان اور جوان جہاں ہو گر شادیاں بھی کیں اور خیر سے ہم ڈبل ہو چکے ہیں گیارہ سے کم از کم بائیس کروڑ۔ البتہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی یہ ہے کہ تب یہ سب "عظیم انکشافات” کرنے والوں کو اب نہ موت آئی نہ شرم۔ لیکن اس ربع صدی میں صرف کچھ بدلا ہے تو یہ کہ وہ سازشی تھیوریاں، افواہیں اور قیاس آرائیاں سوشل میڈیا کی بزم کی زینت بن چکی ہیں۔

اب لانڈھی میں کوئی گلی کے تھڑے پر پان کی پیک پھینکتا مجاہد، کسی شاہدرہ کے کسی چوبارے پر رہتا غازی، یا کے پی کے کے کسی مدرسے سے بھاگا ہوا اسلام کا سپاہی، ان سب پر اچانک یہودی، صیہونی، دجالی اور جو بھی امریکی پینٹاگون اور یورپی ممالک بڑے ہیں ان کا راز ان کے کان میں سرگوشی ہو جاتا ہے۔ اور یہ اپنے اپنے موبائل پر سستی ساوتھ انڈین فلموں کے سکرپٹ سے بھی گئی گزری ایسی ایسی سٹوری اردو ٹائپنگ سے گھڑتے ہیں کہ بندے کو سمجھ نہیں آتی کہ شہر کا کونسا چوک ہو جہاں کھڑا کر کے انہیں پورے اکیس جوتوں کی سلامی دی جائے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن اس کے بعد یہ کچھ ذہنی دولے شاہ کے چوہوں کے ہاتھ و کی بورڈ پر چڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ اب یہ "محقق”، اپنی "تحقیق” کا دائرہ وسیع کرتے ہیں اور ملک میں اپنے جیسے دوسرے محققین اور دوسرے ملکوں کے ریسرچرز (کانسپریسی تھیورسٹ) سے استفادہ کر کے اس کو سوشل میڈیا کے گروپس اور یو ٹیوب پر چڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح عوام میں ” خوفناک حقیقت اور عالمی سازش” کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ بیچ بیچ میں ذوق طبع اور اپنی آڈیئنس کے حساب سے انگلش اردو، آیات و احادیث اور نام نہاد "ریفرینس” بھی ڈالتے ہیں۔ کرتے کراتے اچھے بھلے سینس ایبل لوگ، بھی ان کی باتوں سے مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔

اساتذہ تعلیمی اداروں میں، بزرگ گھروں میں، ملا منبر و محراب پر اور کچھ اینکرز ٹی وی سکرینوں پہ اپنی عقل و دانش کو گروی رکھ کے انہی تھیوریز یا جھوٹے نظریات کو حسب ضرورت ری مکس کر کے پیش کرتے ہیں۔ اور بادی النظر میں یہ حماقت انگیز تحریروں کو جھٹلانا یہودی ایجنٹ ہونے کا، یا اس کو "دجالی فتنہ” یا "غیر ملکی سازش” آپ کی ایمانیات کی آزمائش بن جاتا ہے۔ چنانچہ اب باشعور اور پڑھا لکھا طبقہ الٹا ان کی نظر میں جاہل کہلاتا ہے۔کچھ ایسا معاملہ اب کورونا کے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہی پچیس سال پرانی باسی کڑاہی پر نیا تڑکہ لگ رہا ہے۔ فری میسنز کے دنیا پر حکومت، ایلومیناٹی کے بین الاقوامی پلان،فارماسوٹیکل کمپنیز اور ریسرچ لیبز کی ملی بھگت، ویکسین کے بیچنے سے لے کر مائنڈ کنٹرول کرنے، معاشی طاقت بننے سے لے کر انسانوں کی آبادی ختم کرنے اور ہاں عبادات پر پابندی سے لے کر ویکسین کے ذریعے جینز میں تبدیلی کر کے ذہنوں سے اللہ نکالنے تک، مارکیٹ میں ہر طرح کی سازشی تھیوری، تھوک کے حساب سے دستیاب ہے۔ بعینہ پولیو ویکسین سے منع کرنے والے آزمودہ دلائل کاپی پیسٹ کر کے کورونا کی نئی پیکنگ میں پیش کئے جا رہے ہیں۔

ایک طرف جہاں دنیا اس کے پھیلاو سے نبرد آزما ہے، مریضوں کی شفا کے لئے محنت کر رہی ہے تو دوسری طرف ویکسین کی تیاری کے لئے سر توڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ اور ہمارے ہاں جہالت کا یہ عالم ہے کہ گھر بیٹھے "ورک ایٹ فیس بک” اور "سی ای او ایٹ ڈو نتھنگ” ٹائپ لوگ دھڑا دھڑ مارکیٹ میں روزانہ نئی دجالی، یہودی، امریکی یا چینی سازش کی سستی، بے بنیاد اور غیر عقلی تھیوری کبھی لکھ کر تو کبھی یو ٹیوب پر چڑھا دیتے ہیں۔ جو ویکسین ابھی بنی نہیں اس کو دنیا پر قبضہ، مائنڈ کنٹرول، نا مردی اور ہلاکت کا ہتھیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی منحوس ذہنیت ہے جن کی وجہ سے دنیا میں صرف 3 ممالک پاکستان، نائجیریا اور افغانستان میں پولیو وائرس رہ گیا ہے۔ اور ان تین ممالک کی وجہ سے پوری دنیا خطرے میں ہے۔ یہ تین ممالک ہی کیوں، کیوں کہ ان میں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں آج بھی احتیاط کو کفر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں یہ مذہبی پردے میں چھپا کر جہالت اور ہٹ دھرمی لوگوں کو صرف ویکسین نہ پلانے پر ہی نہیں اکساتی، بلکہ اس کے خلاف فتوے نشر کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر لمبی لمبی پوسٹس لکھواتی ہے۔ اور نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں پولیو ورکرز جن کے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیئے چند سو روپیہ روزانہ کی دیہاڑی پر نکلتے ہیں، وہ انہی ذہنی عقلی طور پر پسماندہ لوگوں سے گولی کھاتے ہیں۔ یہ بدبودار سوچ رکھنے والے بھی کسی جہالت کے کورونا سے کم نہیں جو دنوں میں اپنی سوچ کو وائرس کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں داخل کرتے ہیں جہاں یہ اسی طرح کبھی کھل کر اور کبھی غیر محسوس طریقے سے مائنڈ سیٹ کو متاثر کرتے ہیں۔

اسی طرح کے پراپیگینڈے نے جو پچیس سال پہلے ہوا اور آج ہمارے ملک میں معصوم پولیو ورکرز کی جانیں لے رہا ہے، اس کو ہی خدانخواستہ فیس بک کی تحاریر سے فتوی جات میں تبدیل ہوتے اور پھر گولیوں میں ڈھلتے دیر نہیں لگنی۔ آج آپ کی جانیں بچانے پولیس اور ڈاکٹرز اور ریسکیو 1122 والے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے پھر رہے ہیں، آنے والے کل میں جان کا خطرہ آپ کی نسلوں کی جان بچانے کی خاطر ویکسین پلانے والوں کو ہوگا۔ آج پولیو ورکرز کو گولی ماری جا رہی ہے، کل اسی گولی پر کورونا ورکرز کا نام لکھا ہوگا۔

شاید ہم ہی غلط ہیں کیوں کہ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ جہاں صرف جہالت ہی خوش رکھ سکتی ہے وہاں عقل مند ہونا بے وقوفی ہے۔ جب سمارٹ فون یوز کرنے والے، تعلیم یافتہ اور پروفیشنل لوگوں کو اس کا شکار ہوتے دیکھتا ہوں تو نظر میں یہ زاویہ بھی آتا ہے کہ ہماری ہر طرح کی تعلیم و تربیت کا نظام بری طرح سے ناکام ہے۔ یہ لوگوں کو بنیادی شعور دینے سے قاصر ہے جو سیاہ کو سفید سے، کھرے کو کھوٹے سے، سچ کو جھوٹ سے، اور بناوٹی کو اصلی سے جدا کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ اور مذہبی رہنمائی کا دعوی کرنے والے ان پوسٹس پر گرتے ہیں ان کی توجیہات بیان کرتے ہیں تو یہ بھی بات سوچنے کی ہے کہ دین تو کہتا ہے کہ فاسق خبر لائے تو خوب "تحقیق” کر لو۔ تو یہ کس کو فالو کرتے ہیں۔ خیر مورخ ہمارا سچ لکھنے والا ہوا تو ایک دن ضرور مارا جائے گا لہذا کسی اور قوم کا مورخ لکھے گا کہ دنیا میں ایک قوم، سوری ہجوم ایسا تھا جو کورونا وائرس سے بچ گیا، لیکن جہالت کے کورونا سے مارا گیا!

(نوید تاج غوری)