اسلام اہم

جادو کا علاج خود سے کیسے کریں!

بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ جادو کا علاج خود سے کریں یا کسی عامل (expert) کی طرف رجوع کریں تو اس کا جواب یہی ہے کہ جب ہمیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم خود سے بھی علاج کرتے ہیں اور ڈاکٹر کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں اور یہ بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر تو بیماری ہلکی پھلکی ہو جیسا کہ سر درد ہے، نزلہ زکام کھانسی ہے، پیٹ خراب ہو گیا ہے، بخار ہو رہا ہے تو ہم خود سے ہی علاج کر لیتے ہیں، کبھی گھریلو ٹوٹکا کر لیا تو کبھی میڈیسن لے لی۔ لیکن اگر بیماری حد سے بڑھ جائے یا خاص نوعیت کی ہو جیسا کہ ٹی۔بی ہے، ہیپاٹائیٹس ہے، کینسر ہے تو ہم ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اس کا علاج خود سے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تو یہی حساب جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا بھی ہے۔

اگر تو جادو ٹونا یا تعویڈ گنڈا نیا نیا ہوا ہے یا جادو ٹوںا اور تعویذ گنڈا کسی محلے کے عامل بابے نے کیا ہے کہ وہ اتنا تجربہ کار نہیں تھا، نیا نیا سیکھ رہا تھا یا کتابوں سے سیکھنے والوں میں سے تھا تو اس کا اثر کم ہوتا ہے لہذا خود سے علاج کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر جادو ٹونا پرانا ہو گیا ہے جیسا کہ بعضوں کو تو پانچ دس سال بعد احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ کچھ انہونی ہوئی ہے یا جادو ٹونا اور تعویذ گنڈا کسی ماہر جادوگر سے کروایا گیا ہے تو پھر کسی ماہر عامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ جادوگروں میں بھی عالم، ماہر اور تجربہ کار ہوتے ہیں اور یہ جتنے ماہر ہوں، اتنے ہی خبیث ہوتے ہیں۔ ماہر جادوگر کے جادو کو اصل میں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کوئی ماہر عامل ہی سمجھ سکتا ہے۔ اور پھر یہ کہ ماہر جادوگر کے جنات بھی ماہر ہوتے ہیں یعنی دھوکا دینے میں لہذا انہیں پکڑنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔

تو اگر تو طبیعت میں تغیر تھوڑا بہت ہے تو ابھی جادو کا اثر کم ہے، خود کے علاج سے جاتا رہے گا۔ لیکن اگر تو زندگی واقعی میں اتنی ڈسٹرب ہو چکی کہ مرنے کو جی کرتا ہے تو اب ماہر عامل سے رجوع کر لیں، بھلے دوسرے شہر کا چکر بھی لگانا پڑے کہ انسان جسمانی بیماری کے علاج کے لیے بھی تو سفر کرتا ہے ناں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود سے علاج کے لیے جو ہمت اور عزم چاہیے، وہ بعض اوقات جادو کے زور سے انسان میں ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ جسم کے ہر درد کا علاج پینا ڈول نہیں ہے اگرچہ اس سے وقتی آرام تو آ جائے گا لیکن بیماری جڑ سے ختم نہیں ہو گی۔ تو پہلے جادو کا تعین کرنا پڑتا ہے کہ جس قسم کا جادو ہوا ہے، مثلا میاں بیوی میں جدائی کا جادو ہے تو اس کا رقیہ شرعیہ اور ہے۔ اگر شادی اور رشتوں کی بندش کا تعویذ گنڈا ہے تو اس کا علاج اور ہے۔ اگر سحر محبت ہے تو رقیہ شرعیہ فرق ہو گا۔ اور اگر کاروبار کی بربادی اور ملازمت کے جاتے رہنے کا جادو ٹونا ہے تو اس کا رقیہ شرعیہ اور ہو گا۔

مزید پڑھیں: کیا جادو ایک نفسیاتی مسئلہ ہے؟

تو ماہر عامل پہلے جادو کی قسم (category) کا تعین کرتا ہے۔ اور دوسرے نمبر پر جادو کی صورت (form) کا تعین کرتا ہے کہ جادو کس چیز پر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جادو کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اس چیز کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے کہ جس پر جادو ہوا ہو۔ بعض اوقات جادو کی چیز کھلائی جاتی ہے اور وہ جسم میں جا کر چپک جاتی ہے تو ماہر عامل دم کر کے نمک والا پانی پلاتا ہے کہ جس سے مریض قے کرتا ہے اور وہ چیز نکل آتی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات "سنا مکی” [ایک جڑی بوٹی جو پنساری سے مل جاتی ہے] کے قہوے پر دم کر کے اس کا بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ جس سے پیٹ اور مقعد کے رستے جادو کی چیزیں نکل جاتی ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جادو پانی میں بہایا جاتا ہے، بعض اوقات کہیں قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے، بعض اوقات مریض کے گھر میں کہیں چھپایا جاتا ہے۔

میرے ایک شاگرد کی بہن پر جادو ہوا تو انہوں نے پڑھائی کی تو انہیں خواب میں ایک جگہ نظر آئی کہ جہاں جادو چھپایا گیا تھا۔ وہ وہاں گئے، جگہ کھودی تو ایک پتلا نکلا کہ جس میں سوئیاں چھبوئی گئی تھیں۔ وہ سوئیاں نکالیں اور اللہ اکبر کہہ کر اس پتلے کو جلا دیا۔ تو جادو کی چیز یا تعویذ وغیرہ اگر مل جائے تو اسے اللہ اکبر کہہ کر جلا دیں یا ضائع کر دیں تو اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ تو بعض اوقات انسان اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ عزوجل خواب کے ذریعے اسے جادو کی چیز اور جگہ سے مطلع کر دیتے ہیں۔ تو یہ بھی طریقہ ہے جادو کے معلوم کرنے کا۔ اسی طرح بعض اوقات ماہر عامل، مریض کو اذیت پہنچانے جن کو حاضر کر کے اس سے معلوم کرتا ہے کہ جادو کیسے کیا ہے اور کس چیز پر کیا ہے؟ اور پھر اس چیز کو ضائع کرتا ہے تا کہ جادو زائل ہو جائے۔

تو دو چیزیں ہیں؛ ایک یہ کہ آپ جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے سے حفاظت میں رہیں تو اس کے لیے منزل کو روزانہ کا معمول بنا لیں کہ ایک مرتبہ صبح اور ایک مرتبہ شام کو پڑھ لی۔ اور اس کے ساتھ معوذات کو یعنی وہ دعائیں کہ جن کے شروع میں "اعوذ باللہ” آتا ہے۔ یہ یعنی منزل اور معوذات ایک فائل میں جمع کر کے میں اس کی پی۔ڈی۔ایف شیئر کر دوں گا بلکہ جنہیں چاہیے وہ مجھ سے واٹس ایپ نمبر پر ایک میسج کر کے لے لیں کہ ابھی مجھے اسے مرتب کرنا ہے۔ ایک منزل میں نے پہلے شیئر کی تھی لیکن اس میں دو چار آیات وہ نہیں تھیں جو میرے معمول میں ہے کہ وہ مجھے وہ کہیں سے مل گئی تھی لہذا محنت سے بچنے کے لیے شیئر کر دی تھی۔ اب سوچ رہا ہوں کہ اپنی والی منزل بھی شیئر کر دوں لیکن تیار کرنی پڑے گی۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی وظیفے میں اذن یعنی اجازت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ مجھے اس سائنس کی وجہ معلوم نہیں لیکن اگر میں پچھلے بیس سال سے ایک منزل پڑھ رہا ہوں اور کسی کو کہوں گا کہ تمہیں اجازت ہے کہ تم یہ پڑھنا شروع کر دو تو اس منزل کو پڑھنے کا وہی اثر اس کے پڑھنے میں منتقل ہو گا جو میرے پڑھنے کا ہے۔ اور میرے پڑھنے کا اثر مجموعی طور پر بیس سال میں جمع ہوا ہے یعنی ایک چیز کو مسلسل وظیفہ بنائے رکھنے سے بھی اس کا اثر بڑھتا رہتا ہے۔ اس اجازت اور اذن والی بات کو اس فن کے تقریبا تمام ماہرین مانتے ہیں اگرچہ آپ کو یہ معقول نہ بھی معلوم ہو لیکن یہ ہوتا ہے۔ تو کوشش کریں کہ ایک وظیفہ اگر کسی کے معمول میں ہو تو اس سے وہ پڑھنے کے لیے لیں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی پڑھائی کا اثر بدل ہو جائے گا۔ باقی اس کا شرعی حکم کسی سلفی عالم دین سے پوچھ لیں، مسکراہٹ۔

دوسرا یہ کہ اگر جادو ٹونا ہو گیا ہو تو اس کا علاج کیا ہے؟ اس کے علاج کے لیے میں نے ایک فاضل عالم دوست قاری شفیق الرحمن صاحب کا ایک آڈیو دم شیئر کیا تھا جو 20 سے 25 منٹس پر مشتمل تھا۔ یہ رقیہ شرعیہ صبح وشام، ہینڈ فری لگا کر سنیں، اور سامنے پانی کا گلاس رکھ کر دم ختم ہونے پر اس میں پھونک ماریں اوریہ پانی پینے کے لیے استعمال کریں۔ اگر گھر میں کسی جگہ سے ڈر اور خوف کا احساس پیدا ہوتا ہو تو اس جگہ یہی دم اور پھونک والا پانی بسم اللہ پڑھ کر چھڑک دیں بلکہ گھر کے سب کونوں میں چھڑک دیں۔ بسم اللہ پڑھ کر چھڑکنے سے یہ ہو گا کہ نیک اور نقصان نہ پہچانے والا جن محفوظ رہے گا۔ اور پانی چھڑکنے کے لیے کپڑوں کی استری والا شاور استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسرا کام یہ کریں کہ روزانہ گھر میں سورۃ البقرۃ کی اونچی آواز سے تلاوت لگائیں جیسا کہ الشریم یا سعد الغامدی کی آواز میں لگا لیں۔ اور یہ تلاوت آپ کو نیٹ سے مل جائے گی۔ یہ کام 21 دن تک کر لیں۔ اگر اس کے بعد بھی اثرات محسوس ہوں تو 41 دن تک کر لیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جائے تواس سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔

علاج کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بیری کے سات پتے لیں، انہیں پانی میں ڈال کر ابال لیں اور اب اس پانی پر دم کریں اور پھونک ماریں اور اس پانی کو پینے کے لیے استعمال کریں۔ اور اگر نہا بھی لیں تو بہتر ہے۔ اور غسل کا پانی ایک ٹب میں جمع کر کے کسی پودے کو لگا دیں۔ اسی طرح اگر جادو ٹونا ہے تو دو رکعت پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ آپ کو دکھا دے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں دکھلایا گیا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھلایا گیا کہ لبید بن عاصم یہودی نے آپ کے بالوں پر جادو کر کے اسے ذرواں کے کنویں میں پھینک دیا ہے تو آپ نے اسے نکلوا کر کنواں بند کروا دیا تھا تا کہ لوگوں میں فساد نہ پھیلے۔ پھر جادو اگر سخت ہو تو سورۃ طہ کی تلاوت گھر میں لگائیں جو کہ شیخ اللحیدان کی آواز میں نیٹ پر دستیاب ہے اور اسے شیخ نے تکرار کے ساتھ پڑھا ہوا ہے۔ یہ اخیر درجے کے جادو، جادوگر اور اس کے جن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

مجھ پر اکثر اٹیک ہوتے رہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں لوگوں کو جادو کا علاج تجویز کرتا ہوں یا بعض پر جو کہ قریبی ہوں، خود بھی دم کر دیتا ہوں تو یہ چیزیں جادوگروں کو نہیں بھاتیں کہ اس سے ان کا کاروبار خراب ہوتا ہے لہذا وہ ہر اس شخص کو بھی تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو جادو کے علاج تجویز کرتا ہو یا ان کے کاروبار کو لات مارتا ہو۔ تو اللہ عزوجل ایسے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں فورا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب اٹیک ہوا ہے اور یہ اس نوعیت کا ہے۔ ایک رات مجھ پر بہت سخت اٹیک ہوا، سر پھٹنے لگا، ہر دوا کر لی لیکن افاقہ نہیں ہو رہا تھا، ہر پڑھائی بھی کر لی لیکن اثر نہیں ہو رہا۔ نیند کا بھی غلبہ تھا اور عشاء سے ایک بجنے والا تھا لیکن میں نے ہمت کی، ہینڈ فری لیا اور سورۃ طہ لگا لی۔ دو گھنٹے لگے، بہت سخت کیفیت میں گزرے لیکن رات تین بجے درد ایسے غائب تھی کہ جیسے تھی ہی نہیں۔ اگر دم سننے سے درد پڑھنے لگے تو یہ کنفرم ہے کہ مسئلہ بھی ہے اور علاج بھی یہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان دم سنتا ہے تو اذیت پہنچانے والے جن کو بھی تکلیف پہنچتی ہے اور ہم سے ستر گنا زیادہ پہنچتی ہے۔ زیادہ یہ سوچ کر حوصلہ کر لیں کہ اس خبیث کو زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہے۔ اور بعض اوقات یہ تکلیف جادوگر تک بھی منتقل ہو جاتی ہے اور بعض اوقات جادو کروانے والے پر بھی لوٹ جاتی ہے۔

ایک مرتبہ قاری صاحب نے بتلایا کہ ان کے پاس ایک مریض لایا گیا، جن حاضر ہو جاتا لیکن اس پر قرآن پڑھتے تو ہنسنے لگتا کہ اور پڑھ لو اور پڑھ لو۔ اپنا شوق پورا کر لو۔ قاری صاحب کہتے ہیں کہ عصر سے عشاء ہو گئی لیکن وہ پکڑ میں نہیں آ رہا تھا جیسے اسے قرآن مجید پڑھنے سے کچھ ہو ہی نہیں رہا یا قرآن اس پر اثر ہی نہیں کر رہا۔ تو انہوں نے اللہ سے دعا مانگی اور آیات بدل بدل کر اس پر پڑھیں تو جیسے ہی یہ آیت پڑھی: إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ۔ ترجمہ بلاشبہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے تو وہ چیخ پڑا کہ پکڑ لیا، پکڑ لیا۔ قاری صاحب نے اس سے پوچھا کہ تم پر اتنا قرآن پڑھنے سے کوئی اثر نہیں ہوا اور ایک آیت پر تم اتنا چیخنا چلانا شروع ہو گئے۔ تو اس نے یہی بتلایا کہ ہم جنات میں بھی استطاعت کا فرق ہوتا ہے جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے کہ کوئی کمزور ہے اور کوئی پہلوان ہے۔

اس نے بتلایا کہ قرآن مجید اس پر اثر کر رہا تھا لیکن اس کی برداشت کی قوت زیادہ تھی۔ تو عامل عام طور تھوڑی محنت کر کے چھوڑ دیتے ہیں کہ کم ہمت ہیں یا مصروفیات زیادہ ہیں اور جنات کی جان چھوٹ جاتی ہے۔ عامل اگر عزم کر لے تو پھر بالاخر ہم سے جان چھوٹ ہی جاتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم جنات میں سے بعض پر بعض آیات زیادہ اثر کرتی ہیں جیسا کہ جن اگر عیسائی ہو، تو اس پر عیسائیوں اور یہودی ہو، تو اس پر یہودیوں اور ہندو ہو، تو اس پر بت پرستی کے رد کی آیات زیادہ اثر کرتی ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ جنات کے کرتوتوں کہ کا بھی ہوتا ہے جو جن جس برائی میں زیادہ ملوث ہو یا جس گناہ کو لوگوں میں زیادہ پھیلا رہا ہو، اس پر اس سے متعلقہ آیات کا اثر زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ وہ جن جو زنا میں ملوث ہو، اس پر زنا کی سزا کی آیات زیادہ اثر کرتی ہیں۔

بعض لوگوں کا تجربہ یہ بھی ہے کہ اگر سورۃ البقرہ کی اڑتالیس دن تک گھر میں تلاوت کی جائے اور گھر کے سب لوگ کریں تو اس سے جادو ریورس بھی ہو جاتا ہے اور جادو کروانے والے منت سماجت کرنے پر آ جاتے ہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت بند کر دیں۔ اور اگر اس سب کچھ کے بعد بھی اثرات محسوس ہوں تو ماہر عامل کی طرف رجوع کریں۔ اور اگر اثرات ختم ہو جائیں تو اب منزل کو زندگی بھر کا معمول بنا لیں کہ آئندہ کے لیے جادو ٹونے سے حفاظت رہے۔ لیکن منزل بھی اسی کو فائدہ دے گی جو نماز روزے کا پابند ہو۔ اور شریعت پر عمل اور اس کی پابندی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں جو انسان کو جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے سے محفوظ رکھے۔ اسی لیے تو باعمل انسان پر جادو جلدی اثر نہیں کرتا اور جادوگر کو سالوں محنت کرنی پڑتی ہے اور باعمل انسان کا جادو جلد پکڑ میں بھی نہیں آتا کہ اس کا اثر ہی اتنا کم ہوتا ہے کہ وہ اسے معمول کی بیماری سمجھ رہا ہوتا ہے۔

قاری صاحب کے پاس ایک کیس آیا کہ جس میں جنات تقریبا چودہ سال سے ایک لڑکی پر اثر ڈالنے میں لگے تھے اور اتنے عرصے بعد جا کر کامیاب ہوئے۔ اور جادو بھی اس کی کتاب پرہوا تھا، مذہبی کتاب پر۔ قاری صاحب نے وہ کتاب مریض کے گھر سے منگوائی اور اسے پھاڑنے لگے تو وہ چیخنے چلانے لگے کہ ہماری چودہ سالہ محنت ضائع ہو جائے گی۔ قاری صاحب نے ان سے پوچھا کہ اتنا وقت تم نے برباد کر دیا کہ اتنے عرصے میں اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ تو وہ کہنے لگے نہیں، ہم نے اس عرصے میں اس کا بہت کچھ بگاڑ لیا ہے۔ قاری صاحب نے کہا کہ کیا بگاڑ لیا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ہم دن میں ایک دو مرتبہ اس کا بس بیڈ بجا دیتے تھے۔ تو قاری صاحب نے کہا، یہ کیا نقصان ہوا؟ تو وہ کہنے لگے، اتنی سی بات پر یہ سارا دن پریشان رہتی تھی اور کچھ نہ کر پاتی تھی۔ تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ بعض اوقات یہ آپ کا کچھ نقصان نہیں کر پاتے یعنی فزیکلی لیکن بہت نقصان کر رہے ہوتے ہیں یعنی ذہنی طور ڈسٹرب کر کے۔

میرے ایک عزیز دوست اور شاگرد، بہت ہی نیک، کہنے لگے: حافظ صاحب! واش روم کی ٹوٹیاں کھول جاتے ہیں، کیا کریں؟ میں نے کہا: ٹوٹیاں بند کر دیا کریں۔ تو وہ ہنسنے لگ گئے۔ میں نے کہا آپ کا اور تو کچھ نہیں بگاڑ رہے ناں، تو اب انہیں اس پر خوش ہونے دیں کہ انہوں نے آپ کا کچھ بگاڑ لیا ہے اور ٹوٹی بند کر دیا کریں۔ اگر آپ اس کی وجہ سے ٹینشن لے لیں گے تو پھر انہوں نے واقعتا میں آپ کا کچھ بگاڑ لیا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں بگاڑا، ٹوٹی ہی تو کھولی ہے۔ تو چھوٹی موٹی چیزوں کو نظر انداز کریں کہ ان کی طرف توجہ کریں گے تو شیطان پھول جائے گا کہ میں نے بڑا تیر مار لیا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ اس کا اس طرح سے تذکرہ بھی نہ کرو کہ یہ پھول جائے بلکہ بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھ لیا کریں، اس سے یہ مزید چھوٹا ہو جاتا ہے۔

تو بعض لوگ جادو کے علاج کے لیے کسی ماہر عامل کا پوچھ رہے تھے۔ مجھ سے جو لوگ پوچھتے ہیں تو میں انہیں اپنے ایک فاضل دوست قاری شفیق الرحمن صاحب کی طرف ریفر کر دیتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے انہیں اس حوالے سے کافی نوازا ہے۔ وہ اپنے ادارے الحکمہ انسٹی ٹیوٹ، نزد پائپ سٹاپ، گرین ٹاؤن، لاہور میں ہر اتوار، سوموار اور بدھ کے دن ظہر سے مغرب تک دم کی اجتماعی مجلس لگاتے ہیں۔ ایک بڑے کمرے یا ہال میں مجلس ہوتی ہے کہ جس میں ایک طرف خواتین اور ایک طرف مرد ہوتے ہیں اور درمیان میں سپلِٹر ہوتا ہے۔ وہ اونچی آواز سے اسپیکر میں دم کرتے ہیں، کئی ایک کے جنات حاضر ہوتے ہیں، ان سے مکالمہ کرتے ہیں، ان میں بعض کو کلمہ پڑھواتے ہیں، بعض کا جادو نکلواتے ہیں، پڑھائی تجویز کرتے ہیں، اور پانی دم کر کے دیتے ہیں۔

باقی ان کی کوئی فیس نہیں ہے، وہ فی سبیل اللہ یہ کام کرتے ہیں۔ البتہ آپ ان کے ادارے کو اپنے طور کچھ ڈونیٹ کرنا چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں لیکن لازم نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ایک شخص دن رات خدمت خلق کے ایک کام میں مصروف ہو اور اس کا کوئی اور ذریعہ آمدن بھی نہ ہو تو اسے دینے میں حرج نہیں بلکہ دینا چاہیے اور اس کے لینے میں بھی حرج نہیں ہے، بھلے مانگ کر لے۔ اور اگر ایک ہفتے میں اس سے مستفید ہونے والے سینکڑوں میں ہوں تو بہرحال اس کام کو چلانے کے لیے کچھ تو وسائل چاہیے ہوتے ہیں تو اس میں ان کے ساتھ تعاون کی نیت سے کچھ صدقہ کرنا چاہیں تو بہت اچھا ہے۔ باقی مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ راولپنڈی میں اقبال سلفی صاحب کے ادارے میں شیخ صاحب خود تو نہیں لیکن ان کی مقرر کردہ خواتین جو کہ دم کرتی ہیں، ان کی طرف سے یہ رویہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک مقرر کردہ فیس کے بعد بھی کچھ رقم کی امید رکھتی ہیں اور مریض کی معاشی حالت معلوم کر کے اس کے بعد اس نسبت سے اس کو وقت دیتی ہیں۔

تو دیکھیں، آپ ڈاکٹر کے پاس بھی جاتے ہیں تو فیس تو دیتے ہیں۔ تو ایک دم اور جھاڑ پھونک کرنے والے لیے کوئی نارمل یا متعین فیس لینے میں حرج نہیں ہے، یہ شرعا یہ جائز ہے، اس کے دلائل موجود ہیں۔ لیکن دم کرنے والا اگر ایسے ایٹی چیوڈ کا اظہار کرے کہ جس سے دم کروانے والے کا تاثر یہ ہو کہ یہ لالچ ہے تو پھر دم کرنے والے کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے، یہ میں ضرور کہوں گا۔ تو کمی کوتاہی موجود ہے، اس سے انکار نہیں۔ لیکن یہ کمی کوتاہی آپ کو ڈاکٹر حضرات میں بھی نظر آ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی ڈاکٹر ایکسپرٹ ہے اور آپ کو اس سے فائدہ ہوتا ہے تو آپ اس کے پاس جاتے ہیں کہ اصل مقصد تو بیماری کا علاج ہے، پیسے کو تو انسان اپنے علاج پر کبھی ترجیح نہیں دیتا اگرچہ ڈاکٹروں کے رویوں سے بد دل ضرور ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ لیکن اگر پیسہ بھی خرچ کریں اور علاج بھی نہ ہو رہا ہو تو پھر تو پیسہ خرچنا بے وقوفی ہے ناں۔ اس سے ضرور بچیں۔