ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

جادو کے جملے

کچھ عرصہ پہلے مشرق وسطیٰ کے کسی اخبار میں ایک فیچر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک عربی فیملی کے حوالے سے اس میں تفصیل بیان کی گئی۔کہانی اتنی دلچسپ تھی کہ لفظ بہ لفظ پڑھنی پڑی بلکہ اس کے نوٹس بھی لے لئے کہ کبھی اس موضوع پر قلم اٹھاﺅں گا۔ دو تین دن پہلے ایک خاتون نے ای میل بھیجی جس میں سوال تھا ،” پاکستانی معاشرے میں طلاق کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اورہمارے دائیں بائیں اکثر خاندان ٹوٹتے نظر آ تے ہیں، اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جاسکتا ہے؟“ اس کا سائنٹفک اور مفصل جواب توسماجی ماہرین کو دینا چاہیے،میرے ذہن میں وہی عربی عورت پر لکھا گیا فیچر آگیا، اس میں ٹوٹتے رشتوں اور بکھرتے خاندانوں کو جوڑے رکھنے کا نسخہ بتایا گیا ، یہ اور بات کہ آج کل جس طرح کی فضا بن چکی ہے، اس میں یہ مشورہ پڑھ کر ممکن ہے کچھ لوگوں کی پیشانی پر بل پڑجائے ، لیکن ان کے نہ ماننے سے ا س کی افادیت کم نہیں ہوجائے گی۔

فیچر رائیٹر نے ایک چھوٹے سے شہر میں مقیم خاندان کی سچی کہانی بیان کی تھی۔ میاں بیوی کسی دوسر ے شہر سے وہاں آ کر آباد ہوئے۔ کچھ ہی عرصے کے دوران محلے بھر میں خاتون خانہ اور ان کے شوہر میں بے مثال ہم آہنگی اور بہتری ازدواجی تعلقات کی دھوم مچ گئی۔ لوگ حیران ہوتے کہ ان میاں بیوی کی شادی کو پچیس تیس سال ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک یہ آپ میں ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں اور ان کی باہمی محبت دیدنی ہے۔ محلے کی چند عورتیں ایک بار اکٹھی ہو کر خاتون کے پاس گئیں اور ان کی شاندار ازدواجی زندگی کا راز پوچھا۔ خاتون نے ان کا خیرمقدم کیا، خاطر مدارت کی اور پھر جب سوال سنا تو مسکرا کر بولی:”آپ لوگوں کے خیال میں کیا وجہ ہوسکتی ہے؟“

عورتوں نے جواب دیا ،میاں بیوی میں بہت اچھا تعلق اور باہمی محبت کے پیچھے چار پانچ فیکٹرز ہوتے ہیں۔بیوی بہت اچھے کھانے پکاتی ہو اور یوں معدے کے راستے خاوند کے دل میں گھر کر لے، وہ خوبصورت ہو اور خاوند اس کی جسمانی خوبصورتی کا اسیر ہوجائے ، اس کا نسب اعلیٰ ہو اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے مرد اس کا احترام کرنے پر مجبور ہو،اولاد سعادت مند ہوجس کی وجہ سے خاوند خوش ہو اوراولاد کی تربیت پر اپنی بیوی کا ممنون ہوجائے،سب سے آخری وجہ وہ ٹوٹکا یا جادو ہوسکتا ہے، جس کی وجہ بیوی مرد کو ہاتھ تلے رکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ “ یہ جواب سن کر وہ خاتون مسکرائی اور ان کی تصحیح کرتے ہوئے بولی،” کھانا بہت اہم ہے اور اس کے ذریعے خاوند کو خوش رکھا جاسکتا ہے، لیکن کھانے میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھانا باعث نزاع بن جائے ۔جسمانی خوبصورتی کی ایک معیاد ہوتی ہے، وقت کے ساتھ یہ ڈھل جاتی ہے، اپنی خوبصورتی کو کسی حد تک عمر کے ساتھ ساتھ برقرار بھی رکھا جاسکتا ہے ، لیکن بیماریاں بھی انسان کے تعاقب میں ہوتی ہیں،معمولی سی غفلت کسی سنگین بیماری تک پہنچا دیتی ہے اور آخر جسمانی حسن کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔اعلیٰ نسب یا خاندانی وجاہت سے مرد جلد اکتا جاتا ہے اور پھر یہ کارڈ بے اثر ہوجاتا ہے۔سعادت مند اولاد مرد کا فخر ہے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ اولاد کی اچھائیاں باپ کے کھاتے میں جاتی ہیں اور برائیاں ماں کے ، اور ظاہر ہے باپ کی نظر سے اولاد کی خامیاں اوجھل نہیں رہ سکتیں، کوئی نہ کوئی نظر آ ہی جاتی ہے اور لڑائی کو پھر کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں آخری بات ایسی ہے جو مفید ہے، مرد کو ٹوٹکے یا جادو کے ذریعے قابو کیا جاسکتا ہے۔“

جادو والی بات سن کر فطری طور پر خواتین کی رگ تجسس پھڑکی ،ا نہوں نے جادو کی تفصیل پوچھنی چاہی کہ کوئی تعویز ہے یادم کی ہوئی چینی یا پھر کچھ اور؟اس پر جہاندیدہ عربی خاتو ن نے اپنی کامیاب زندگی کانچوڑ بتاتے ہوئے کہا کہ نہیں ایسا کچھ نہیں، جادو کے تین جملے ہیں اور دو بنیادی اصول ۔ جادو کے جملے ہیں، ”جی اچھا، بہت بہتر ، آئندہ یہ نہیں ہوگا“ ، جبکہ دو اصول یہ ہیں،”اپنی غلطی کا کبھی دفاع نہ کرنا اور تنقید کومثبت لیتے ہوئے اسے انا کا مسئلہ نہ بنانا۔“ پھر اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا،” جب میری شادی ہوئی تو شروع میں بڑی پریشان ہوئی۔ خاوند ایک سرکش، اڑیل گھوڑے کی مانند تھا، جو بات بات پر بدک جائے۔ غصہ جلدی آجاتا اور پھر جب بحث کی جاتی تو یہ انتہا پر پہنچ جاتا۔ ادھر میں بھی گھر کی لاڈلی تھی، تھوڑی سی تنقید مجھے مضطرب اور پریشان کر دیتی، غلطی ہوجانے کے بعدتسلیم نہ کرتی بلکہ الزام دوسروں پر دھر دیتی، میری انا مجھے منفی رخ پر لے جا رہی تھی۔قریب تھا کہ ہماری شادی ختم ہوجاتی ، مگر ایک روز میری ایک بزرگ عزیزہ ملنے آئیں، ایک دو دن رہیں تو انہیں سب چیزوں کا اندازہ ہوگیا، انہوں نے مجھے جادو کے ان تین جملوں اور دو اصولوں سے روشناس کرایا اور سمجھایا کہ انہیں اپنی زندگی کا وتیرہ بنا لوں۔

میں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد سے زندگی ہی بدل گئی۔ میں نے خاوند سے بحث میں الجھنا ہی چھوڑ دیا، جب اپنی غلطی ہوتی تو فوراً اسے تسلیم کر لیتی اور پھر اسے دوبارہ نہ دہرانے کا عہد کرتی، جب غلطی میری نہ ہوتی ، تب بھی خاموش ہوجاتی ، خاوندآگ بگولا ہوتا تو اسے جادو کے تین جملوں سے ٹھنڈا کر لیتی۔چیزوں کا انا کا مسئلہ بنانا چھوڑ دیا، آہستہ آہستہ اندازہ ہوا کہ جن باتوں کو آج ہم پہاڑ جتنا بڑا سمجھ رہتے ہوتے ہیں، کچھ عرصے بعد وہ چیونٹی کی طرح ننھی نظر آنے لگتیں۔خاوند کے غصے کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دینے کا یہ فائدہ ہوا کہ اس کا پارہ فوراً نیچے آجاتا اور پھر وہ اپنی غلطی کا احساس کر کے پیار بھری باتیں کرنے لگتا، رفتہ رفتہ اس نے غصہ کرنا ہی کم کر دیا،یوں اپنے جادو کی وجہ سے معاملہ سدھر گیا۔“
محلے کی عورتیں جو یہ طولانی تقریر سن کر بور ہو رہی تھیں، چڑ کر بولیں ،” آپ کی باتیں عجیب ہیں، آخر ہم اپنے خاوندوں کے ہاتھوں عزت نفس کیوں مجروح کرائیں، پھرڈانٹ کے بعد میاں کی پیار بھری باتوں پر کس طرح یقین کیا جائے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ آخر عورت ہی کیوں تنقید برداشت کرے؟ “تجربہ کار خاتون نے جواب دیا،”، دیکھو چند باتیں سمجھ لو تو یہ سب شکوے شکایتیں ختم ہوجائیں گے۔ عورت گھر کی مالکہ ہے اور مرد مکان کا۔ بچے اگر باہر گلی میں گڑبڑ کریں گے تو محلے والوں کی ناراضی کانشانہ مالک مکان کو بننا پڑے گا، گھر کے اندر مسائل پیدا کریں گے تو گھر کی مالکہ کو۔بیوی کو ویسے بھی شوہر کا نباض ہونا چاہیے،جراح نہیں۔یہ سرجری، جراحی کا کام وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بیوی کو اپنے لئے محفوظ قلعہ چاہیے ہوتا ہے اور مرد کو سکون۔ خوشگوار گھریلو زندگی میں دونوں کو اپنی پسند کی چیزیں مل جاتی ہیں۔رہی عزت نفس تو وہ انسان اپنے ہاتھوں خود مجروح کرتا ہے۔کوئی بھی معقول شخص بلاوجہ غصہ نہیں کرتا، اس لئے وجہ کا سبب بننے والے کو کبھی غصہ برداشت بھی کر لینا چاہیے، اس کی ہمت اور قوت پیدا کی جائے۔ اب بچا آخری سوال کہ عورت ہی کیوں ؟جواب ہے کہ عورت نہیں بلکہ ماں یا بیوی۔ یوں سمجھ لو کہ جو ذمہ دار ہوگا ، وہ برداشت کرے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ اپنے اندرتحمل، برداشت اور انڈرسٹینڈنگ لا کر بہت سے بڑے بڑے مسائل کو جنم لینے سے روکا جا سکتا ہے،آخری تجزیے میں گھر اور زندگی کا سکون اہمیت رکھتا ہے ، ٹکراﺅ ، مقابلہ بازی اور انا کی  تسکین وقتی آسودگی تو دے سکتی ہے، مگر جو کانٹے اس کے نتیجے میں پیدا ہوں گے، وہ ہر حال میں ہمیں ہی چننے پڑیں گے۔ “

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...