جب زندگی شروع ہو گی

جب زندگی شروع ہو گی۔۔۔اکیسویں قسط

اندھیرے میں میرا سفر جاری تھا۔ باہر دور تک گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ مگر اس تاریکی میں کوئی اندیشہ۔۔۔ کوئی خوف نہیں تھا۔ تاریکی کی اس تہہ پر دبیز سناٹے کی ایک اور تہہ جمی ہوئی تھی۔ مگر اس سناٹے میں بھی کوئی وحشت کوئی دہشت نہیں تھی۔ اندھیرے کی طرح یہ سناٹا بھی اپنے اندر ایک عجیب نوعیت کا سکون اور سرور لیے ہوئے تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ خاموشی میں بغیر آواز کے نغمے بکھرے ہوئے ہیں جو کانوں کے بجائے دل کے دروازوں سے وجودِ ہستی پر ہولے ہولے دستک دے رہے ہیں۔ بغیر ساز کے کچھ سُر فضا میں بکھرے ہوئے ہیں جوسماعتوں کے در و دیوار کے بجائے شعور کے دریچوں سے میکدۂ دل کی دنیا میں داخل ہوکر محوِ رقص ہیں۔ رہی تاریکی تو مجھے اس کا مقصد صرف ایک نظر آتا تھا۔ وہ یہ کہ تاریکی اُس روشنی کو خوب نمایاں کردے جو بہت دور فضا میں بلند ایک دیے کی مانند روشن تھی۔ یہ روشنی آسمان کے کسی تارے کی نہ تھی کہ اس وقت زمین کی طرح آسمان بھی تاریکی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ یہ روشنی ایک بلند پہاڑ کی چوٹی سے اٹھ رہی تھی۔ اندھیرے میں یہ روشنی بے حد حسین اور دلکش لگ رہی تھی۔۔۔ اتنی کہ اس سے نظر ہٹانے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اس اندھیرے میں دیکھنے کو اور رکھا ہی کیا ہے۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کیا ہی اچھا ہوکہ میں نیچے کا منظرروشنی میں دیکھ سکوں ۔ میں نے سبحان اللہ کہا جس کے ساتھ ہی تاریکی چھٹ گئی اور نیچے کا منظر صاف نظر آنے لگا۔

نیچے تاحد نظر وسیع و عریض پھیلا ہوا ایک سرسبز و شاداب میدان تھا جس کے عین وسط میں سنگِ مرمر کا ایک سفید پہاڑ نظر آرہا تھا۔ یہ کسی پہاڑی سلسلے کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تنہا و یکتا سنگِ مرمر کا ایک بلند ٹیلہ تھا جو زمین کے سینے میں کسی تنہا ستون کی طرح ایستادہ تھا۔ اس پہاڑ کی چوٹی بلند ہوتے ہوتے ایک نیزے کی نوک کی طرح باریک ہوکر ختم ہورہی تھی۔ مگر یہ پہاڑ کا خاتمہ نہ تھی بلکہ یہ نوک اس عظیم الشان اور عالیشان محل کی بنیاد کا کام کررہی تھی جو عین اس کے سرے پر بنا ہوا تھا۔ مجھے یہ منظر حقیقت سے زیادہ کسی مصور کے تخیل کا شاہکار محسوس ہورہا تھا۔ اس لیے کہ میدانوں میں ایسے پہاڑ، پہاڑ کی اتنی باریک چوٹی اور چوٹی کے سہارے کھڑے ایسے محل حقیقت میں نہیں موجود ہوا کرتے۔ مگر وہ پچھلی دنیا کی باتیں تھیں۔ اب تو آزمائش اور طبعی قوانین کی وہ سابقہ دنیا ختم ہوچکی تھی۔ ایک نئی دنیا وجود میں آچکی تھی جس میں میری بادشاہی تھی اورمیں تھا ۔ میں نے سوچا کہ انسانی تاریخ ہزاروں لاکھوں برس کا سفر طے کرکے دورِ توحید میں داخل ہوچکی ہے۔۔۔ جب زمین کا انتظام خدا کے فرشتوں نے سنبھال کر ہر ناممکن کو ممکن کردیا ہے۔ اور ایک ایسی دنیا بنادی ہے جس کی تاریکی ہر خوف اور خاموشی ہر اندیشے سے پاک ہے۔ جس کا اندھیرا چراغاں کا حصہ اور خاموشی موسیقی کا سامان ہوا کرتی ہے۔

مزیدپڑھیں: جب زندگی شروع ہوگی۔ بیسویں قسط

میری خواہش پر ایک دفعہ پھر تاریکی چھاچکی تھی۔ تاریکی سے مجھے خیال آیا کہ کچھ اہل جہنم کا حال بھی دیکھوں۔ میں نے سبحان اللہ کہا اور اس کے ساتھ ہی میرے بائیں طرف نیچے کی سمت ایک اسکرین سی نمودار ہوگئی۔ اس پر جو منظر نمودار ہوا وہ حد درجہ دہشت ناک تھا۔ یہ جہنم کے وسطی حصے کا منظر تھا۔ خوفناک اور توانا فرشتے بھڑکتی ہوئی آگ سے چند انتہائی بدہیبت اور بدشکل انسانوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر باہر نکال رہے تھے۔ ان کے گلوں میں طوق تھے اور ہاتھ پاؤں میں بھاری اور نوکیلی زنجیریں بندھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے کا گوشت آگ میں جھلس چکا تھا۔ ان کے جسم پر تارکول کا بنا ہوا لباس تھا، جس سے سلگتی آگ ان کے گوشت کو جلارہی تھی۔ وہ شدتِ تکلیف کے مارے چیخ رہے تھے۔ رو رو کر اللہ سے فریاد کررہے تھے کہ انھیں ایک دفعہ دنیا کی زندگی میں جانے کا موقع دیا جائے پھر وہ کبھی ظلم، کفر اور ناانصافی کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے۔ مگر وہاں چیخنا، رونا اور دانت پیسنا سب بے سود تھا۔ پھر ان جہنمیوں نے چلا چلا کر پانی مانگنا شروع کیا تو فرشتے ان کو گھسیٹتے ہوئے پانی کے کچھ چشموں تک لے گئے۔ یہاں ابلتے پانی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ مگر یہ جہنمی اتنے پیاسے تھے کہ اسی پانی کو پینے پر مجبور تھے۔ وہ کھولتے ہوئے پانی کو پیتے اور چیختے جارہے تھے۔ وہ اس پانی سے منہ ہٹاتے مگر کچھ ہی دیر میں اتنی شدید پیاس لگتی کہ پھر جانوروں کی طرح اسی پانی کو پینے پر خود کو مجبور پاتے۔ اس عمل کے نتیجے میں ان کے چہروں کی کھال اتر گئی اور ان کے ہونٹ نیچے تک لٹک گئے تھے۔

یہ منظر دیکھ کر میں نے بے اختیار اللہ کی پناہ مانگی اور اس کا شکر ادا کیا کہ اُس نے مجھے اِس بدترین انجام سے بچالیا۔ پھر میں اس منظر کو بھول کر اُس جاذب نظر روشنی کو دیکھنے لگا جو پہاڑ کی چوٹی پر بنے میرے محل سے اٹھ رہی تھی۔ میری سواری دھیرے دھیرے اس محل کی سمت بڑھ رہی تھی۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ محل پہنچنے سے قبل ہی میں یہاں بیٹھے بیٹھے اس کو دیکھ لوں۔ حسب معمول میں نے سبحان اللہ کہا۔یکایک میرے کمرہ سینما گھر میں بدل گیا۔ مگر اس سینما کا اسکرین سامنے نہ تھا بلکہ دائیں بائیں سامنے اور اوپر کی سمت محل کا منظر کسی تھری ڈی فلم کی طرح چلنے لگا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں خود محل کے اندر موجود ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن سکتا ہوں۔ آج یہاں جشن کا سماں تھا۔ بلند پہاڑ کی چوٹی پر میرا یہ شاندار محل بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ بغیر قمقموں کے پھوٹتی ہوئی روشنیاں اور بغیر کسی شمع کے منور ہوتے فانوس اس شاندار محل کو اندھیرے کے سمندر میں روشنی کا ایک جزیرہ بنائے ہوئے تھے۔ یہ روشنی ہر سمت اور ہر رخ سے پھوٹ رہی تھی۔ یہ روشنی سے زیادہ رنگ و نور اور قوس و قزح کی وہ برسات لگتی تھی جو نگاہوں کے رستے احساسات کی دنیا کو ہر لمحہ ایک نئی لذت سے روشناس کرارہی تھی۔ روشنی اس قدر نظر نواز بھی ہوسکتی ہے، کسی آنکھ نے کبھی اس کا مشاہدہ نہ کیا ہوگا۔ وقفے وقفے سے یہاں نغمہ و آہنگ کا ترنم چھڑتا اور دلوں کے تار چھیڑتا ہوا فضا میں بکھر جاتا۔ موسیقی اس قدر مدہوش کن بھی ہوسکتی ہے، کسی سماعت کو کبھی اس کا گمان نہ گزرا ہوگا۔ فضا میں نغمگی کی لہریں ہی موجزن نہ تھیں، بلکہ دھیمی دھیمی خوشبو کی مہک بھی فضا کو معطر بنائے ہوئے تھی۔ خوشبو اس قدر فرحت انگیز بھی ہوسکتی ہے، کسی انسان نے کبھی اس کا تصور نہ کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں: سپر پاور امریکہ کی انٹیلی جنس زمین بوس

وسیع و عریض محل کی راہداریوں پر خدام کی چہل پہل بکھرے موتیوں کا منظر پیش کررہی تھی۔ ان کے چہروں پر روشنی، لباس میں خوبصورتی، گفتار میں دلکشی اور انداز میں مستعدی تھی۔ ان خدام کی منزل محل کے ایک کونے پر بنا وسیع و عریض باغ تھا۔ یہ باغ کیا تھا سبزے، پھولوں اور درختوں کا ایک ایسا گلدستہ تھا جس نے اپنے حسن سے چمن بندی کی ہر انتہا کو مات دے دی تھی۔ ہزارہا رنگ اس باغ میں بکھرے ہوئے تھے۔ صرف ایک سبز رنگ نے اتنی مختلف شکلوں میں اپنا ظہور کیا تھا کہ انھیں گنا نہ جاسکتا تھا۔ بلند و بالا درخت اور ان پر لگے ان گنت اقسام کے پھل، ہر درخت پر مختلف رنگ کے پتے، ہزارہا طرح کے پودے جن پر لگے ہوئے رنگ برنگے پھول و کلیاں۔ پھر یہ سب کچھ بے ترتیب نہ تھا بلکہ اصل حسن اس ترتیب میں ہی تھا جس کے ساتھ ان درختوں، پودوں اور پھولوں کو منظم کیا گیا تھا۔ یہ باغ کسی شاعر کی دل آویز غزل کی طرح تھا جس میں منتشر الفاظ کو وزن، قافیے اور ردیف کے نظم میں پروکر ایک شاہکار تخلیق کیا جاتا ہے۔ اس حسین و جمیل باغ کے حسن میں وہ راستے اور روشیں قیامت ڈھارہی تھیں جو یاقوت، موتی، زمرد، نیلم اور فیروزے جیسے قیمتی پتھروں کے سنگ ریزوں سے بنائی گئی تھیں۔ اس پر مزید وہ نہریں تھیں جو باغ کے درمیان بہتی ہوئی آنکھوں کو احساس لطافت اور ان کے بہنے کی آواز کانوں کو سرور بخش رہی تھی۔ ان نہروں میں سے کسی میں سفید دودھ، کسی میں جھاگ اڑاتا بے آمیز پانی، کسی میں سرخ ارغوانی شراب اور کسی میں بہتے شہد کی موجیں رواں تھیں۔ ہر نہر سے ایک منفرد نوعیت کی خوشبو اٹھ رہی تھی جو قریب جانے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی۔ نہروں کے ساتھ اور درختوں کے نیچے جگہ جگہ بیٹھنے والوں کے لیے ہیروں اور جواہرات سے جڑے ہوئے تخت، شاہانہ نشستیں، دبیز قالین اور آرام دہ تکیے رکھے ہوئے تھے۔

خوبصورت روشوں، دلکش نہروں، خوش رنگ پھولوں، خوشنما پتوں اور خوش ذائقہ پھلوں کا نذرانہ پیش کرتا ہوا یہ باغ چاروں طرف سے کھلا ہوا تھا۔ یہاں گہری مگر خوشگوار خنکی چھائی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی ہوا کا کوئی جھونکا اٹھتا اور کسی نئی خوشبو سے اس خنکی کو معطر کردیتا۔ باغ سے دور تک کا نظارہ بالکل صاف نظر آرہا تھا۔ باہر جو اندھیرا ہر منظر کو نگل رہا تھا یہاں حیرت انگیز طور پر اس کا کوئی اثر محسوس نہ ہوتا تھا۔ دور تک ایک عظیم الشان شہر کی بلند عمارات اور ان میں جگمگاتی روشنیاں تھیں جو رات میں چمکتے ہوئے جگنوؤں کا منظر پیش کررہی تھیں۔ آسمان پر بھی چھوٹے چھوٹے تارے جگمگارہے تھے جن کی دودھیا روشنی نے سیاہ آسمان کو اور حسین بنادیا تھا۔ ایک سمت میں ایک جگمگاتی ہوئی روشنی تھی جو آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے محل کی سمت بڑھ رہی تھی۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ دراصل میری ہی سواری تھی جسے خد اکی قدرت سے اندر بیٹھا ہونے کے باوجود میں باہر سے محل کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ باغ کے ایک حصے میں میں نے صالح کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور دل میں سوچا کہ موصوف مجھ سے پہلے ہی یہاں پہنچ چکے ہیں۔ وہ جس جگہ بیٹھا ہوا تھا وہ غالباً باغ کا خوبصورت ترین حصہ تھا۔ اس کے اردگرد کا فرش شفاف شیشے کی طرح تھا۔ فرش اتنا شفاف تھا کہ دور تک نیچے کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔ فرش کے نیچے ایک ڈھلتی ہوئی حسین شام کا منظر تھا جس میں سرسبز گھاس اور رنگین پھولوں سے ڈھکے میدان اور ان کے بیچ میں بہتے دریا انتہائی خوش منظر نظارہ پیش کررہے تھے۔

یہاں سے نظر نیچے دوڑانے پر ایک حسین شام نظر آتی تو اردگرد ایک مہکتی اور چمکتی ہوئی شب کا منظر تھا۔ نیچے اگر دریا بہہ رہے تھے تو اوپر درختوں کی پھلوں سے لدی ڈالیاں تھیں جو اشارہ پاکر نیچے آنے اور من پسند میووں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے بے قرار تھیں۔ کچھ خدام ایک کونے پر پرندوں اور جانوروں کا گوشت سلگتی انگیٹھیوں پر بھون رہے تھے۔ ان سے اٹھنے والی اشتہا انگیز خوشبو اس لذت اور ذائقے کا اعلانِ عام تھی جو کھانے والوں کی بھوک کو کبھی بجھنے نہیں دیتی تھی۔ ساتھ ہی شیشے سے زیادہ شفاف مگر چاندی کے بنے ہوئے جام و صبو اور پیالہ و ساغر بہت نفاست اور خوبصورتی سے رکھے ہوئے تھے۔۔۔ اس انتظار میں کہ محفل گرم ہو اور وہ ساقی گری کی خدمت سے اپنے مالک کے ذوق طلب کی تسکین کریں۔ میں یہ مناظر دیکھنے میں محو تھا اور مجھے احساس ہورہا تھا کہ یہ سب کچھ میرے لیے اجنبی نہیں ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میں برزخ کی زندگی میں ان مناظر کو دیکھ چکا تھا۔ اسی اثنا میں مجھے محسوس ہوا کہ سواری کی رفتار دھیمی ہورہی ہے۔ میں نے اشارہ کیا اور اسکرین غائب ہوگئی۔ میری سواری منزل مقصود پر پہنچ رہی تھی۔ بلندی سے یہ جگمگاتا ہوا محل اتنا حسین لگ رہا تھا کہ میرا دل چاہا کہ میں یہاں ٹھہر کر یہ منظر دیکھتا رہوں۔ اس منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے میں نے محل کے اطراف میں دو تین چکر لگائے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ صالح نیچے میرا منتظر ہے۔ اس لیے میں نے اترنے کا فیصلہ کیا۔ میری یہ سواری یا شیش محل اسی جگہ دھیرے سے اترگیا جہاں صالح موجود تھا۔

مزید پڑھیں: پورنو گراگی کا مسئلہ

میں باہر نکلا تو صالح نے ایک مسرت آمیزہنسی کے ساتھ میرا استقبال کیا اور بولا: ’’میں یہ سمجھ رہا تھا کہ تم اسے عرش سمجھ کر اس کا طواف کررہے ہو۔ اچھا ہوا تم نے سات چکر نہیں لگائے۔‘‘ اس کے دلچسپ تبصرے پر میں خود بھی اس کی ہنسی میں شریک ہوکر اس سے بغلگیر ہوگیا۔ پھر وہ مجھ سے علیحدہ ہوتے ہوئے بولا: ’’تم پہلے اپنے محل کا معائنہ کرو گے یا کھانے پینے کا ارادہ ہے؟‘‘ ’’میں تو اس رہائش گاہ کے حسن سے مبہوت ہوکر رہ گیا ہوں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ خوبصورتی اس طرح بھی تخلیق کی جاسکتی ہے۔‘‘ ’’عبداللہ! یہ تو صرف آغاز ہے۔ اس وقت سے لے کر دربار والے دن تک جو کچھ بھی تم دیکھو گے قرآن اس سب کو ’نزل ‘یعنی ابتدائی مہمانی کا سر و سامان کہتا ہے۔ جو کچھ اس کے بعد ملے گا وہ تو نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل پر کبھی اس کا خیال گزرا ہے۔‘‘ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ یہ باتیں قرآن و حدیث میں بیان ہوئی تھیں، مگر جنت اس سے مختلف ہے جو نقشہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ اس بیان سے کہیں زیادہ خوبصورت جگہ ہے۔‘‘ ’’اس کا سبب یہ ہے کہ جنت کا قرآن میں ذکر نزول قرآن کے وقت اہل عرب کے ذہنوں میں پائے جانے والے عیش و عشرت کے اعلیٰ نمونے کے پس منظر میں ہوا ہے۔ یعنی جن چیزوں کو اہل عرب زیادہ بڑی نعمت سمجھتے تھے، اسی کو بیان کردیا گیا۔ وہ آدمی بے وقوف ہوگا جو جنت کو صرف انھی تک محدود سمجھے گا۔‘‘

’’تم صحیح کہتے ہو، زمانۂ نزولِ قرآن کے عرب تو شاید ان بہت سی نعمتوں کا اندازہ بھی نہ کرسکتے تھے جو میرے زمانے یعنی انفارمیشن ایج میں ایجاد ہوچکی تھیں۔ قرآن مجید نے ان عربوں کی رعایت سے زرعی دور کی رفاہیت اور عیش و عشرت کا نقشہ کھینچا تھا۔ لیکن بھائی جس سواری میں سوار ہوکر میں آیا ہوں، اس نے تو میرے تخیل کو بھی شکست دے دی۔‘‘ ’’اس طرح کی بہت سی چیزیں تم ابھی اور دیکھو گے۔ خیر یہ بتاؤاب کیا ارادہ ہے؟‘‘ میں اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اردگرد پھیلے ہوئے حسین ماحول میں کھوگیا۔ میں ایک ایک چیز اور ایک ایک منظر کو اپنی نگاہوں میں سمیٹ لینا چاہتا تھا۔ صالح نے میری محویت کو دیکھا تو شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: ’’تم غالباً حوروں کو ڈھونڈ رہے ہو۔ وہ تمھارا استقبال کرنے باہر آئی تھیں، اب سب اپنی رہائش گاہوں میں لوٹ گئی ہیں۔ البتہ تم چاہو تو۔۔۔‘‘ میں نے اسے جملہ پورا کرنے کا موقع دیے بغیر پوری سنجیدگی سے جواب دیا: ’’میرے زمانے میں انسانیت کے دو امام ہوا کرتے تھے۔ ایک امام کارل مارکس جو پیٹ کو زندگی کی اصل بتاتے تھے اور دوسرے امام فرائڈ جو۔۔۔‘‘ میں جملہ ادھورا چھوڑ کر لمحے بھر کے لیے رکا جس پر صالح نے ایک زوردار قہقہ لگایا۔ میں نے بھنے ہوئے گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو کو سونگھتے ہوئے کہا: ’’میں سردست امام کارل مارس کی پیروی کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘

دنیا میں تمام انسانوں کی زندگی وقت کی غلامی میں گزرا کرتی تھی۔ وقت کا پہیہ لمحوں، ساعتوں، ایام اور ماہ و سال کی گردشیں طے کرتا آگے بڑھا کرتا تھا۔ پہروں اور موسموں کی تبدیلی سے وقت کے گزرنے کا احساس ہوا کرتا تھا۔ مگرمیں اب جس دنیا میں تھا، وہاں وقت غلام تھا اور انسان آقا۔ لمحے اور ساعتیں، دن اور ہفتے، مہینے اور سال، صدیاں اور قرن؛ ان کے دن ختم ہو چکے تھے۔ وقت گزرنے کا زمانہ ماضی کی زندگی کی طرح گزرچکا تھا۔ وقت اور زمانے کے آثار قدیمہ میں سے اب جو کچھ باقی تھا وہ صرف پہر اور موسم تھے۔ اور وہ بھی تمام تر ہمارے اختیار میں۔ انسانوں کی سلطنت میں کہیں ہمیشہ صبح کی روشنی چھائی رہتی، کہیں دوپہر کے روشن سناٹے، کہیں سہ پہر کی دھیمی تمازت، کہیں شام کی پھیلتی ڈوبتی شفق کی سرخی، کہیں آخر شب کی سیاہ خامشی اور کہیں فجر کا جھٹپٹا،کہیں بدرِ کامل کی چاندنی،کہیں تاروں بھری راتیں، کہیں بہاروں کی گھنی چھاؤں اورکہیں ہزار رنگ خزاں کاروپ۔ اہل جنت کی رہائش گاہوں میں گرچہ موسم بہت معتدل اور خوشگوار رہتا، لیکن لوگوں کے ذوق کی تسکین کے لیے کہیں سانسیں منجمد کردینے والی سردیاں تھیں تو کہیں صحرائی گرمیاں، کہیں برکھا کی رت تھی، کہیں بہار اور خزاں کے رنگ۔ غرض جو دل چاہے اور جس کی انسان خواہش کرے وہ پہر اور وہ موسم انسانی تسکین کے لیے موجود تھا۔

میں ایک بہت بڑی سلطنت کا تنہا اور بلاشرکت غیرے حکمران بن چکا تھا۔ ہمدم دیرینہ صالح اس نئے جہانِ رنگ و بو میں بھی میرا رفیق اور میرا ساتھی تھا۔ اسی نے مجھے بتایا کہ یہ سلطنت وسیع ترین کائناتی نظام کا ایک حصہ تھی۔ اس نئے نظام میں تقسیم اس طرح تھی کہ تمام اہل جنت کی رہائش اسی زمین پر تھی جہاں ہزاروں لاکھوں برس تک انسانوں کی آزمائش ہوتی رہی۔ اہل جنت میں دو کلاسیں تھیں۔ ایک عوام اور دوسرے خواص۔ عوام یا کم درجے کے اعمال والے وہ لوگ تھے جنھیں انعام میں ایک یا ایک سے زیادہ ستاروں اور سیاروں کو دے دیا گیا تھا۔ یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ اب یہ ستارے آگ اور اندھیرے کا مسکن نہیں رہے تھے بلکہ بدل کر حسین جنتوں اور پرفضا وادیوں میں بدل چکے تھے۔ خواص جنت کی حکمران کلاس تھی۔ اس میں پہلے شہدا اور صدیقین تھے۔ ان کو اربوں کھربوں ستاروں پر مشتمل کہکشاؤں کی بادشاہی اور حکمرانی دی گئی تھی۔ میں ایسی ہی ایک کہکشاں کا حکمران تھا۔ ان سے اوپر انبیا کرام تھے جو ان گنت کہکشاؤں پر مشتمل مجموعوں کے حکمران تھے۔

جنات کیسے حاضر ہوتے ہیں؟

سر دست یہ بات ایک راز تھی کہ کس کو کون سی جگہ کی حکمرانی ملنی ہے، وہاں کیا کرنا ہوگا۔ صالح نے مجھے بتایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ دربار کے دن بیان کریں گے۔ اسی روز ہر شخص کو اس کی سلطنت رسمی طور پر دے دی جائے گی۔ فی الوقت تو لوگ صرف زمین پر مقیم تھے اور بقول صالح کے ان کو جو کچھ نعمتیں یہاں مل رہی تھیں وہ بس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت کی چیزیں تھیں۔ اصل نعمتیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر ان کا گمان گزرا وہ دربار والے دن کے بعد ہی ملنا شروع ہوں گی۔ جب رسمی طور پر ان کے اعزازات اور مناقب کا اعلان ہوگا۔ البتہ تب تک لوگوں کو پروٹوکول ان کی حیثیت کے مطابق ہی دیا جارہا تھا۔ اس پروٹوکول کا اظہار ان تقریبات، مجالس اور دعوتوں میں ہوتا جو اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کے اعزاز میں کررہے تھے۔ گو ابھی تک سارے جنتی جنت میں داخل نہیں ہوئے تھے، مگر یہاں بھرپور زندگی شروع ہوچکی تھی۔ پیچھے حشر میں صرف اتنا ہورہا تھا کہ ایک کے بعد ایک کرکے صالحین جنت میں داخل ہورہے تھے، مگر یہاں وقت چونکہ رکا ہوا تھا اس لیے صرف دو لوگوں کے داخل ہونے کے درمیان بھی ان گنت سال اور صدیاں حائل ہوجاتے تھے۔ میرا اندازہ یہی تھا اور جس کی صالح نے تائید کی تھی کہ دربار اسی وقت منعقد ہوگا جب سارے جنتی جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ یہی جنت کی ابتدائی زندگی تھی۔ اسی دوران میں مجلسیں اور تقریبات ہورہی تھیں۔ زیادہ تر انبیاے کرام ہی تھے جو اپنی اپنی اور دیگر انبیا کی امتوں کے شروع میں آنے والے صالحین کے اعزاز میں دعوتیں کررہے تھے۔

انہی مجلسوں میں میری متعدد لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ میں گرچہ دنیا میں بہت کم کم لوگوں سے ملا کرتا تھا، مگر جنت میں آنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں خلافِ عادت بہت زیادہ سوشل ہوچکا ہوں۔ اس لیے میرے نئے نئے دوست بننے لگے۔ لوگوں کے حالات اور ایک دوسرے کی سابقہ زندگی سے آگاہی حاصل ہونے لگی۔ میرے لیے یہ غیر متوقع تو نہیں تھا مگر پھر بھی مجھے قدرے تعجب ہوا کہ ابتدائی کامیاب لوگوں میں زیادہ تر غریب اور پریشان حال لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا میں بہت پریشانیاں اور دکھ جھیلے، لیکن ہمیشہ صبر شکر سے کام لیا۔ میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ اعلیٰ ترین درجے کے ان ابتدائی جنتیوں میں ایک بات قدر مشترک تھی۔ یہ سب کے سب صبر کرنے والے تھے جنھوں نے بدترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ کیا اور تسلیم و رضا اور تفویض و توکل کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔

اسی دوران میں ایک روز صالح نے میری ملاقات میرے والدین سے کرائی۔ میرے والدین کا انتقال میری پیدائش کے فوراً بعد ایک حادثے میں ہو گیا تھا۔مگر وہ جب تک زندہ رہے پیکر وفا و طاعت بن کر رہے۔وہ مجھے بھی خد مت رب کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔مگرایک ناگہانی حادثے نے انہیں مہلت نہ دی۔تاہم رب کریم نے اپنے صالح بندوں کی لاج رکھی۔ مشیت الہی زندگی بھر ایک یتیم کے لیے ایسے مواقع پیدا کرتی رہی کہ میرے لیے وہ بننا ممکن ہوگیا جو وہ چاہتے تھے۔آج جنت میں آنے کے بعد مجھ پریہ انکشاف ہوا کہ میں جوکچھ بھی تھا اس کا بنیادی سبب میرے والدین تھے اور ان کی نیت کی بنا پر میرے ہر عمل سے ایک حصہ ان کو ملا تھا۔ یوں میری اپنے والدین سے ملاقات رب کی رحمتوں کا ایک اور تعارف بن گئی۔ جنت کی اس بادشاہی میں آہستہ آہستہ میرے جاننے والے لوگ بھی آتے جارہے تھے۔ مختلف مجالس میں ان سے ملاقاتیں ہورہی تھیں۔ ان میں میری دعوت پر تبدیل ہوکر اعلیٰ ایمانی اور اخلاقی زندگی اختیار کرلینے والے لوگ بھی تھے اور خدا کے دین کی نصرت میں میرا ساتھ دینے والے میرے رفقا بھی۔ ان میں سے ہر شخص سے مل کر یوں لگتا تھا کہ زندگی میں خوشی اور محبت کا ایک در اور کھل گیا ہے۔ تاہم وہ ابھی تک نہیں آئی تھی جس کا مجھے انتظار تھا۔ گرچہ اس انتظار میں کوئی زحمت یا پریشانی نہیں بلکہ مزہ ہی تھا۔ پھر ایک روز، گرچہ اس نئی دنیا میں شب و روز نہیں رہے تھے، صالح میرے پاس آکر کہنے لگا:

’’سردار عبدا للہ! تمھارے لیے ایک بری خبری ہے۔‘‘ مجھے حیرت ہوئی کہ اب جنت میں مجھے یہ کیا بری خبر سنائے گا۔ تاہم اس کا لہجہ ایساتھا کہ میں پوچھنے پر مجبور ہوگیا: ’’کیوں بھائی! یہاں کیا خبر بری خبر ہوسکتی ہے؟‘‘ ’’سردار عبدا للہ! بری خبر یہ ہے کہ تمھارے عیش کرنے کے دن ختم ہوگئے۔ تم نے ناعمہ کے پیچھے آزادی کے بہت دن دیکھ لیے۔ اب تمھاری نگرانی کے لیے ناعمہ خود آرہی ہے۔‘‘ ’’کیا سچ؟‘‘، میں نے شدت جذبات سے مغلوب ہوکر صالح کو گلے لگاتے ہوئے کہا: ’’اور کیا میں جھوٹ بولوں گا؟‘‘ پھر میرے سر کو سہلاتے ہوئے بولا: ’’مجھے چھوڑدو۔ میں نے ناعمہ کے آنے کی خوش خبری دی ہے۔ مگر میں خود ناعمہ نہیں ہوں۔‘‘ ’’تم ہو بھی نہیں سکتے۔‘‘، میں نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن یہ بتاؤ کہ اتنی اچھی خبر تم مجھے دھمکی کے انداز میں کیوں سنارہے ہو۔ ویسے تمھیں ناعمہ سے اگر یہی توقع ہے تو مجھے یقین ہے کہ تمھیں بہت مایوسی ہوگی۔ خیر چھوڑو ان باتوں کو۔ میں ناعمہ کے آنے پر اسے ایک بہترین تحفہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’کیا تحفہ دینا چاہتے ہو؟‘‘ ’’ایک بہترین گھر۔‘‘ ’’بھائی تمھارے پاس تمھارا گھر ہے اور اُس کے پاس اس کااپنا گھر ہوگا۔ اب اس نئی دنیا میں خاندانی نظام تو ہوگا نہیں کہ گھر دینا تمھاری ذمے داری ہو، نہ اسے تمھارے بچوں کو گھر بیٹھ کر پالنا ہے۔ پھر ایک نیاگھر کیوں بناتے ہو؟‘‘

مزید پڑھیں: غزوہ ہند اور پاکستان

’’مجھے معلوم ہے کہ ہر جنتی کی اپنی رہائش اور اپنی سلطنت ہوگی، لیکن میری خواہش ہے کہ اپنی پسند سے ناعمہ کے لیے ایک گھر بناؤں جو میری سلطنت میں ہو۔ اور پھر اس گھر کا ناعمہ کو گفٹ کروں۔‘‘ ’’جانتے نہیں اللہ تعالیٰ نے اسراف کرنے والوں کو شیطان کے بھائی کہا ہے؟‘‘، وہ اس وقت مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔ ’’جنت میں شیطان نہیں آسکتا، مگر اس کے بعض شاگرد ضرور موجود ہیں جو میاں بیوی میں محبت پیدا کرنے کے بجائے دوری پیدا کرتے ہیں۔‘‘، میں نے مصنوعی غصے کے ساتھ اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔‘‘، وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا: ’’مجھے بتاؤ کیا کرنا چاہتے ہو؟‘‘ اس کے بعد میں نے اسے ساری تفصیلات سمجھائیں۔ میری بات ختم ہوئی تو وہ بولا: ’’چلو محل دیکھنے چلو۔‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچھا: ’’کیا مطلب؟ کیا محل بن گیا؟‘‘’’تم کیا سمجھتے ہو تم دنیا میں کھڑے ہو کہ پہلے زمین خریدوگے، پھر نقشہ پاس کراؤگے، پھر ٹھیکیدار ڈھونڈو گے اور پھر کئی ماہ میں محل تعمیر ہوگا۔ سردار عبد اللہ! یہ تمھاری بادشاہی ہے۔ خدا کی قوت تمھارے ساتھ ہے۔ تم نے کہا اور سب ہوگیا۔ یہی یہاں کا قانون ہے۔‘‘ (جاری ہے)

About the author

ابویحییٰ

ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے

Loading...