بلاگ

جان لیں کہ یہ شِفٹ عملاً وقوع ہو چکی ۔۔۔

ہماری جدید دنیا کی انسانی تاریخ نے ایک عجیب ہچکی لی ہے۔ کرونا وَبا کا دائرہ لگ بھگ 200 ممالک تک پھیل گیا ہے، گویا ایک ناگ ہے جو رفتہ رفتہ پورے گلوب پر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا ہے۔ رواں ساعت تقریباً 1.29ارب طلبہ و طالبات ہیں جو کسی بھی سطح کی ادارتی تعلیم سے وابستہ ہیں، یعنی سکول، کالج، اور یونیورسٹی سطح پر۔ 16 مارچ تک یونیسکو رپورٹ کے مطابق half billion یعنی نصف ارب سٹوڈینٹس کا فِگر بتایا جا رہا تھا جو اپنے لرننگ پوائنٹ سے کھسک کر اعتکاف میں جا بیٹھا ہے۔ بعد ازاں ایک صاحب کو ٹیلی ویژن سکرین پر کہتے سُنا کہ اب یہ فِگر 1.7بلّین تک جا پہنچا ہے جو سٹوڈینٹ پاپولیشن کا 90 فیصد بنتا ہے۔ آج 7 اپریل کو چند سیکنڈز پہلے دیکھا ــــ ہر 10 میں سے 9 بچے اب سکول/کالج سے باہر ہیں۔

اعدادوشمار بہ سُرعت بدل رہے ہیں۔ صبح کی خبر شام تک بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ خیر، مسافرانِ علم و ہنر کی کثیر آبادی اپنے تعلیمی مراکز سے دور ہو چکی۔ مستزاد، اس تعطّل کی طوالت بھی کسی کے دائرہِ اختیار میں نہیں۔ لامحالہ اس خدشے نے جنم لیا ہے کہ آیا طلبا کا ایک عدد تعلیمی سال برباد ہونے جا رہا؟

یہ خوفناک حقیقت اب باسیانِ ارض کا منہ چڑا رہی ہے کہ بیشتر دنیا کا تعلیمی نظام ہُنوز ڈیجیٹلائز نہیں ہو پایا۔ بلکہ کوئی مقام بھی اس نئے چیلنج سے کماحقّہ نمٹنے سے قاصر ہے۔ حتٰی کہ خود ریاست کیلےفورنیا تک میں — جو گوگل، ایپل، اور فیس بُک ایسی ٹیکنولوجیکل بادشاہ کمپنیوں کا گڑھ ہے — تمام مدرسے اور جامعات بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ نتیجتاً ادارے، اساتذہ، والدین، اور طلبا ریموٹ لرننگ اور آن لائن ورژن کے تالاب میں غوطہ زن ہیں۔ بس چند سو نفوس ہی تیراکی کا ہنر دِکھا رہے، باقی سب ڈبکیاں لے لے کر اُبھر رہے، اُبھر اُبھر کر ڈوب رہے ہیں۔ پہلے سے اعصابی تناؤ کا شکار والدین راتوں رات ہوم سکول ٹیچرز میں بدل گئے ہیں۔ معاشی حالت الگ سے دِگرگوں ہے، کہ سرزمینِ امریکہ پر آباد بے شمار جَنتا اگلے ماہ کا کرایہ مکان دینے کی فکر میں ہے۔

برسبیلِ تذکرہ، اس اثنا میں بدقسمت ترین شخص وہ خُوب آگاہ، سیکولر ذہنیت کا حامل ایک بےخدا صاحبِ علم ہے ـــ جو جانتا ہے کہ کرونا بےبی جب hit کرجائے تو فنکشن کیسے کرتا ہے، کیسے پورے بدن کے باڈی cells کو اُدھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ بعض مقامات پر خود کشی ایسے افسوسناک واقعات بھی ظہور پا رہے۔ اس کے برعکس، خوش قسمت ہے وہ باخدا شخص جس کے ہاں آنکھ بند ہو جانے کا مطلب ‘ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی’ ٹھہرا۔ یا میری گلی میں دوڑتا، شاداں و فرحاں وہ ‘بے وقوف’ سا پٹھان بچہ جو دائیں ہاتھ میں اپنی پتنگ جکڑے دُور کھڑے ایک لڑکے کو للکارتا ہے، "تُو اپنا جہاز نکال نا آج! دیکھ میں کیسے گراتا اُس کو!” 🙂

واپس آتے ہیں۔۔۔۔ اب یہ کہنا ہے کہ صدیوں سے رواں ہمارے روایتی لرننگ میکنزم پر زلزلہ طاری ہے ـــ جسے بعض مقامات پر عالیشان، لش پش عمارتوں میں مقید کر کے "اپ ڈیٹد سسٹم” کے بطور پیش کِیا جا رہا تھا۔ کرونا وَبا نے مشرق و مغرب کی ساری ترقی اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دی ہے۔ ٹیکنالوجی کی کمی تو نہیں مگر کرونا ایسی وَبا اس میں جدّت و اختراع کا بھرپور تقاضا لیے ابھری ہے۔

المختصر، یہ نکتہ بہ دھیان سمجھنا ہو گا کہ تحصیل علم کے مراکز ازسرِ نو آباد کرنے کو دنیا ایک نئے مرحلہِ تگ و دو میں دھکیل دی گئی ہے۔ کوئی صورِ اسرافیل سا پُھنک گیا ہے کہ بھائی صاحب، اپنے آن لائن سسٹم کو ذرا ہاتھ مارو، اس کے نَٹس اینڈ بولٹس خوب کَس کر، سجا بنا کر سامنے لاؤ تب بات بنے۔اولڈ فیشنڈ ٹریک سے اتر کر نئی ٹیکنالوجیز کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ افرادِ کار تیار کرنا ہوں گے۔ اپنے مواد کو نت نئی پریذنٹیشن کے ہمراہ پردہِ سکرین پر اتارنا ہو گا۔ موبائل ایپس، ویڈیو لیکچرز، آن لائن ورک شیٹس کا گردوغبار جس قدر جلد ممکن ہے اٹھا دو۔ ڈیجیٹل دور کا باقاعدہ و فُل بینگ آغاز ہو چکا!

میری ناقص نگاہ میں اب وَرچول یونیورسٹی کی اہمیت و افادیت قائد اعظم یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی ایسے اداروں کی نسبت سو گنا شُوٹ کر چکی ہے۔ آپ دیکھیں، ہانگ کانگ میں ‘Read Together’ نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی ہے جسے تقریباً 60 تنظیمیں فی الفور جوائن کر گئی ہیں۔ آپ یہ دو لفظ گوگل کر لیں، اور ان کی ویب سائٹ پر جا نکلیں۔ نیز، اِسی نام سے اِن کا موبائل ایپ بھی فنکشنل ہو چکا۔ ایپ سٹور میں جا کر یہی دو لفظ ٹائپ کر دیں، ایپ مل جائے گا۔ چِین میں 100 ملین سے زائد طلبا کے لیے فروری کا سلیبس آن لائن انڈیل دیا گیا ہے۔ لیکن چائنا ایسے ملک میں بھی یہ نیا انفراسٹرکچر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نہیں ہو پایا۔ اِسے پوری طرح متشکّل اور نافذ العمل ہونے میں کچھ وقت درکار ہے۔

ہمارے ہاں بڑے giants نے آن لائن کلاسز کا آغاز تو کر دیا ہے، مگر ہم لوگ فی الوقت بہت پیچھے ہیں۔ بےشمار مقامات پر یہ آگ نئے سرے سے جلانا ہو گی۔ پھونکیں مار مار اِسے دھونی دو، اس کا الاؤ بھڑکاؤ کہ کرونا سائیں ہزاروں بُوے باریوں کی دہلیز سے لگا کھڑا دُہائی دے رہا ہے کہ میں اور میرے بھائی بند اب آتے جاتے رہیں گے۔ تم لوگ اپنے کاروبارِ زندگی کا چلن تھوڑا بدل لو تو بہتر، ورنہ مارے جاؤ گے۔جان لیں کہ یہ شِفٹ عملاً وقوع ہو چکی۔ سروائیول اِسی کی پیروی میں، اسی کا ہمرکاب ہوجانے میں ہے۔۔۔۔ ولٰکن اکثرالنّاسِ لا یعقلون۔

ہمایوں مجاہد تارڑ