ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

"اتا ترک کے دیس میں” – سفرنامہ استنبول ۔( حصہ اول و دوم)

شہر تھا Thessaloniki اور ملک تھا یونان – ایک کانفرنس کے اختتام پہ ہمارے ترک ساتھی اور کولیگ نے ہمیں جب یہ بتایا کہ Thessaloniki سے استنبول صرف ایک گھنٹے کی فضایی مسافت پہ ہے تو ہم جو پہلے ہی استنبول کو دیکھنے کے لیا بے چین تھے فورا آمادگی ظاھر کر دی – ائیرپورٹ پہ تمام کاغذی کاروایئوں سے فارغ ہو کر جہاز کا رخ کیا اور ٹیک آف کا انتظار کرنے لگے – حسب معمول ٹیک آف ہموار رہا اور جہاز مطلوبہ بلندی کی جانب محو پرواز ہو گیا۔

” ہم 30 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوۓ ایک گھنٹے میں استنبول کے کمال اتاترک ہوائی اڈے پر اتریں گے "- جہاز میں اعلان ہوا اور میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ ایک گھنٹہ تو پلک جھپتکے میں گزر جائے گا – زندگی بھر مجھ میں موجود بیشمار خامیوں میں سے ایک ساختیاتی خامی جو رہی ہے کہ دوران سفر نیند بالکل نہیں آتی – ایک گھنٹہ سستانے کے لیے کافی تھا مگر میں پٹ پٹ آنکھیں جھپکتا کھڑکی سے باہر Thessaloniki کے آخری دیدار میں مصروف رہا – باقی مسافر حضرات جہاز کی مدھم ہوتی روشنیوں کے ساتھ ہی مدہوش ہو گئے – جیسے جیسے جہاز بلندی کی جانب بڑھتا گیا ، کھڑکی سے بھر تاریکی کے سائے گہرے ہوتے گئے اور Thessaloniki شہر کی روشنیاں مندمل ہو گئی۔

بوریت نے میرے ارد گرد ڈیرے ڈال لئے – گھڑی پہ وقت دیکھا تو ابھی پرواز کو آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا – سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا- فضایی میزبان بھی اونگھتے اور سوتے مسافروں کو دیکھ کر اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھیں – جو چند مسافر جاگ رہے تھے ان کو مشروبات سے بہلانے کا عمل بھی جاری تھا – ” یا الله ، بس جلدی سے استنبول پہنچا دے – اب اور صبر نہیں ہو رہا ”

عرضی تو الله نے سن لی مگر ساتھ ہی بوریت کا سامان دور کرنے کے اسباب بھی پیدا کر دیے -فضائی سفر میں پرواز کا ناہموار ہونا کوئی نیی بات نہیں – مگر یہ ناہمواری کچھ زیادہ ہو جائے تو نیوٹن کے قوانین حرکت اور Law of Inertia کے تحت ، دل سینے سے نکل کے حلق میں آجاتا ہے اور انسان کی بولتی کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ بند ہو جاتا ہے جہاز موسم کے گرداب میں پھنس چکا تھا اور اب بری طرح سے ہچکولے لینے لگا- اگلے کچھ سیکنڈز میں ان کی شدت میں اضافہ ہوگیا اور ساتھ ہی ساتھ بلندی میں تیزی سے کمی آنے لگی. اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کے میں کسی Roller coaster میں بیٹھا ہوں جو تیزی سے سمت اور بلندی بدل رہی ہے – وہاں تو اندازہ ہوتا ہے کہ Roller Coaster کی سواری کچھ سیکنڈز میں ختم ہو جائے گی اور دل کی یہ اچھل کود تھم جائے گی مگر جہاز کی یہ صورت حال کب تک اور کہاں تک جائے گی ، اس کا اندازہ کسی کو نہ تھا . اس صورت حال نے عملے کے اراکین کو بھی نہ بخشا اور وہ بھی حواس باختہ ہو کر اپنی اپنی نشستوں کی جانب لپکے –

ان 2-3 منٹوں میں مرے ذھن میں ٹی وی چینل National Geographic کے پروگرام air crash investigation کی چند اقساط اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کی فلم چلنے لگی- بقول فراز ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر۔۔سفر ہوائی جہاز کا کرنا اور پروگرام Air Crash کے دیکھنے – واہ سبحان الله – وہی ہوا جس کا خدشہ تھا – تمام دیکھی ہوئی اقساط اور اس سے منسلک خوفناک واقعات کی فلم ذھن میں چلنے لگی-

کبھی ذھن میں وہ قسط چلتی جس میں جہاز کا انجن خراب ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح ہچکولے لینے لگتا ہے مگر پائلٹ اسے کمال مہارت سے زمین پر اتار لیتا ہے تو کبھی اس قسط کا خیال آتا جس میں ہوائی جہاز بلکل اسی طرح موسم کے گرداب میں پھنس کر سمندر میر جاتا ہے- کبھی محسوس ہوا کے آخری وقت آن پہنچا ہے کے بس ابھی جہاز دو چار قلابازیاں لگاے گا اور سمندر میں گر جائے گا –

متعلقہ مضامین

” یا الله ابھی تو تیری بنایی ہوئی بہت دنیا دیکھنی باقی ہے – تو ہی رحم فرما – یا الله آیندہ میں ایسے خوفناک اور دل دہلا دینے والے پروگرام بھی نہیں دیکھو گا – تو بس کپتان کی مدد کر اور جہاز کو بحفاظت لینڈ کروا دے” اپنی نشست کے دونوں اطراف Support Handles کو مضبوطی سے پکڑ کر مسلسل دعا کرتا رہا – اس پاس کیا ہو رہا ہے کچھ خبر نہ تھی – مسافروں کی دبی دبی چیخیں ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں – یہ صورت حال چند منٹ تک جاری رہی – مگر یہ چند منٹ ابھی بھی یاد اتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں – ” خواتین و حضرات آپ کی توجہ چاہتا ہوں ” اچانک کپتان کی آواز آئی ” ارے صاحب آپ عرض تو کریں – ہم ہمہ تن گوش ہیں – اور کتنی توجہ چاہتے ہیں – بسم الله کریں اور کوئی اچھی نوید سنائیں -”
” موسم کی خرابی کے باعث پرواز ناہموار ہو گئی تھی- تاہم اب صورت حال مکمل قابو میں ہے – اپ سے گزارش ہے کے اپنی حفاظتی پیٹی باندھی رکھیں جب تک کے جہاز لینڈ نہیں ہو جاتا۔

الحمدللہ – بے اختیار زبان سے نکلا – اور پھر جب تک جہاز نے رن وے کو نہیں چھوا مجال ہے کہ آنکھیں کھلی ہوں اور اس دوران نشست کو مضبوطی سے پکڑی رکھا۔جیسے ہی لینڈنگ ھویی تو کچھ ہوش آیا – ارد گرد کے تمام افراد اپنی اپنی سانس بحال کرنے میں کوشاں تھے- کسی کا ہاتھ دل پر تھا تو کسی کا چہرے پر – مسافروں کے چہروں پہ گذشتہ آدھے گھنٹے کی داستان واضح طور پہ تحریر تھی۔

اسی اضطرابی کیفیت میں گرتے پڑتے immigration counter پر پہنچے۔ ترکی کے بارے میں ذھن میں کچھ ایسی تصویر تھی کہ چین کے بعد اگر پاکستان کا سب سے اچھا دوست کوئی ہے تو وہ ترکی ہے لہٰذا ہماری خوب آو بھگت ہو گی – پروٹوکول ملے گا ، زیادہ پوچھ گچھ نہیں ھو گی ۔ حکومتی سطح پہ بھی تعلقات اچھے ھیں – تو گمان یہی تھا کہ immigration افسر کرسی سے کھڑا ہو کر استقبال کرے گا۔

” آئیے آئیے ہمارے پاکستانی بهائی آئے ہیں اور وہ بھی لندن سے ” -( ترکی کا ویزا ہم نے لندن سے لیا تھا ) جیسے ہی میں نے پاسپورٹ اس کے حوالے کیا تو وہ واقعی میں کرسی سے کھڑا ہو گیا- "واہ کیا بات ہے ” دل نے فوراً خوشی کا اظہار کیا- مگریہ خوشی اس وقت رفو چکر ہو گیئ جب معلوم ہوا کے وہ پاسپورٹ اور اس کے مطابق افراد گننے کی کوشش میں کرسی سے کھڑا ھوا تھا نہ کہ ہمارا استقبال کرنے – پاسپورٹ تو 5 ہیں اور تم لوگ 3 ہو ؟۔

” جناب پاکستان میں پرانے پاسپورٹ بھی نئے کے ساتھ نتھی کر دئیے جاتے ہیں – اس لئے پاسپورٹ زیادہ ہیں-” افسر کے چہرے کے تاثرات سے صاف لگا کہ اسے جواب پسند نہیں آیا اور اگلے کاؤنٹر پر بیٹھے اپنے ساتھی سے استفسار کرنے لگا-وہاں سے کچھ تسلی ہونے پر اگلے مرحلے پر اس نے میرے پاسپورٹ کے ایک ایک صفحے کو ایسے چیک کیا جیسے فقیر ایک دم سے 100 روپے کا نوٹ ملنے پر چیک کرتا ہے- ساتھ ہی ساتھ اپنے مںہ سے کچھ ایسی آوازیں نکالتا رہا جو ایک جانور کہ غراننے سے کافی مماثلت رکھتی تھی ۔

بین الاقوامی ائرپورٹس پہ پاکستانیوں سے ایسا سلوک کوئی اچھںمبے کی بات نہیں مگر ترکی میں ایسی scanning کی امید ہرگز نہ تھی – امیگریشن سے فارغ ہو کر سوچا کہ آگے سب اچھا ہی ہو گا اب تو استنبول پہنچ ہی گئے ہیں – مگر جیسے کے میں نے پہلے لکھا کہ ابھی اس طویل دن کا آغاز ہی ہوا تھا جس میں کئ اور واقعات ہونا باقی تھے۔ ( جاری ہے)
تحریر :عرفان احمد

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...