ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

لفظ "اسلام” کے کیا معنی ہیں؟

اس سوال کا جواب تین اعتبارات سے دیا جاسکتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجیئے کہ لفظ اسلام کے تین معنی ہیں۔ پہلا لغوی معنی، دوسرا اصطلاحی معنی اور تیسرا قانونی معنی۔  لغوی معنی کے اعتبار سے اسلام لفظ ‘سلام’ یعنی سلامتی سے نکلا ہے اور سلام کا مادہ لفظ ‘سلم’ یعنی خود کو مکمل حوالے کردینا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ خود کو احکام الہی کے سامنے مکمل سپرد کردینا اور یوں معاشرے میں سلامتی کا مظہر بن جانا۔ گویا سلم سے سلام کا سفر اسلام ہے۔
۔
اصطلاحی معنی درحقیقت وہ معروف معنی ہے جو معاشرے میں رائج ہیں اور اس کے اعتبار سے ‘اسلام’ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کا نام ہے۔ حالانکہ قران حکیم نے مختلف شریعت کے حامل دیگر انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو بھی مسلم ہی کہا ہے۔ مگر جیسے عرض کیا کہ اصطلاحی یا معروف معنی آج یہ ہیں کہ وہ شخص جو رسالت و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو۔ اسی لئے جب کوئی شخص یہ تصدیق کرتا ہے تو ہم سب کہتے ہیں کہ وہ ‘اسلام’ لے آیا ہے۔
۔
قانونی معنی وہ معنی ہیں جو شرعی نصوص سے ثابت ہوں۔ اس اعتبار سے اسلام ظاہر سے متعلق ہے اور ایمان باطن سے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں درج متفقہ علیہ حدیث جسے حدیث جبرئیل کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ ثابت ہے کہ اسلام پانچ چیزوں کو ماننے اور عمل کرنے کا نام ہے۔ ان پانچ چیزوں کو آج ہم ارکان اسلام بھی کہتے ہیں۔ گویا اللہ اور اسکے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی شہادت دینا، نماز، روزہ، حج اور زکات۔ جو کوئی ان پانچ ارکان کو مانتا ہے وہ قانونی اعتبار سے مسلم ہے اور اسے معاشرے میں مسلم ہی کے حقوق حاصل ہونگے۔ گو اخروی نجات ایمان کے بناء ممکن نہیں۔

جس کے چھ ارکان بھی اسی حدیث جبرئیل میں مذکور ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی شائد مناسب ہو کہ جس طرح اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ایک خدا پر ایمان لانا ہے. یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں اللہ پر ایمان لانا مگر ساتھ میں رام، کرشنا، وشنو کو بھی خدا مانتا ہوں معاذ اللہ. ٹھیک ویسے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا ختم نبوت کو ماننا ہے. یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا مگر ساتھ ہی ان کے بعد فلاں، فلاں اور فلاں کی نبوت پر بھی ایمان لایا. آسان الفاظ میں اللہ پر ایمان کا معنی توحید اور رسول پر ایمان کے معنی ختم نبوت کے ہیں.

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...