ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

اسلام اور مسکراہٹ

اللہ تعالی نے سورۃ النجم میں ارشاد فرمایا (وانہ ھو اضحک و ابکی) ترجمہ: اور بے شک وہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔ ہم اگر سیرت نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں تو ہزار ہا مسائل اور مشکلات کے باوجود ہمیں پیارے آقا ﷺ کے چہرہ انور پر مسکراہٹ اور تبسم کا دیدار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ فطری انداز میں رہتے، ہنسی و مزاح میں بھی شریک ہوتے اور غم پریشانی میں بھی شریک رہتے۔ کیونکہ خوشی پر مسکراہٹ اور ہنسنا اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور پریشانی پر غم اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ ہر وقت چہرے پر بارہ بجائے رکھنا، جلال میں رہنا، کوئی بڑی شخصیت ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن رہنا، اور جلال اتنا ہے کہ اپنے ماتحت بھی بات کرنے میں خوف محسوس کریں کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے، گھر کے سربراہان کا اتنا خوف کہ اپنے بیوی بچے بھی سہمے رہیں، یہ سب تو شریعت مطہرہ کی تعلیمات نہیں ہیں۔ خوشی کے موقع پر مسکرانا، ہنسنا، مزاح کرنا بھی شریعت میں داخل ہے۔ تاریخ اسلامی سے چند احادیث اور پرمزاح واقعات پیش کر رہا ہوں، تاکہ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ علم میں اضافے کا سبب بھی ہو۔

کنزالعمال شریف کی حدیث مبارکہ ہے کہ پیارے آقا ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ مزاح اور پرلطف شخصیت کے مالک ہیں۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ آپ گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ ہنسی مذاق فرماتے اور ان سے کہانیاں بھی سنتے تھے۔ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ مجھے اونٹ عطا کر دیں، آپ نے فرمایا کہ میں تجھے اونٹ کے بچے پر سوار کروں گا، اس نے عرض کی یار سول اللہ ﷺ اونٹ کا بچہ سواری کے قابل کیسے ہو سکتا ہے؟ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ ہر اونٹ کسی نہ کسی اونٹ کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔ حضرت زید بن اسلم ؓ راوی ہیں کہ ام ایمن نامی عورت آپ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ میرے شوہر آپ ﷺ کو (کسی کام سے) بلا رہے ہیں تو پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ تمہار ا شوہروہ ہی ہے نا جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے (آنکھوں میں سفیدی محاورہ ہے جو بے شرم ہونے کے مطلب میں استعمال ہوتا ہے) اس نے عرض کی یار سول اللہ ﷺ واللہ میرے شوہر کی آنکھوں میں سفیدی نہیں ہے تو میرے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ سفیدی تو ہر آنکھ میں ہوتی ہے (جو سیاہ دائرے کے ارد گرد ہے)۔

حضرت سیدتنا امی جان و ام المومنین عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیھا فرماتی ہیں کہ میرے پیارے آقا ﷺ اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا ہمارے گھر موجود تھے۔ میں نے ان کے لئے حریرہ (دودھ اور آٹا میں بنا ہوا کھانا) بنایا۔ پھر میں نے اسے سودہ ؓ کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو حریرہ پسند نہیں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ کھاؤ ورنہ میں آپ کے چہرے پر حریرہ مل دوں گی۔ سیدہ سودہ ؓ نے پھر کھانے سے انکار کیا تو میں نے ان کے چہرے پر حریرہ مل دیا۔ آپ ﷺ ہم دونوں کے درمیان بیٹھے تھے (اور منع نہیں فرمایا، بلکہ لطف اندوز ہوئے اور) آپ ﷺ تھوڑا جھک گئے تاکہ سیدہ سودہ ؓ بھی میرے چہرے پر حریرہ مل دیں۔ چنانچہ سیدہ سودہ ؓ نے بھی حریرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا اور پیارے آقا ﷺ یہ سب دیکھ کر ہنستے رہے۔

قارئین اندازہ فرمائیں کہ پیارے آقا ﷺ کس قدر پر لطف اور مزاح فرمانے والے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی ازواج آپس میں مزاح فرما رہی ہیں۔ اور مندرجہ بالا روایت سے یہ بھی ملتا ہے کہ کسی خوشی کے موقع وغیرہ پر ہمارے ہاں چہرے پر بعض اوقات کیک مل دیتے ہیں تو اس پر غصہ، جلال دکھانے کی بجائے یہ روایت ذہن میں رکھیں اور خوشی کے موقع پر پرلطف رہیں، شریعت شریف کی حدود ومیں رہ کر ہنسیں، مسکرائیں، کھیلیں اور اپنے حلقہ احباب، اپنے گھر، اپنے بیوی بچوں سے مزاح کریں، شرع شریف میں کہیں بھی ہر وقت رونے دھاڑنے اور جلال میں رہنے کا حکم نہیں ہے۔

حضرت سیدنا مولا علی فرمایا کرتے (ان القلوب تمل کماتمل الابدان فابتغوا لھا طرائف الحکمۃ) جس طرح جسم اکتا جاتے ہیں اسطرح دل بھی اکتاتے ہیں، اس کی اکتاہٹ دور کرنے کے لئے حکمت سے پر لطیفے تلاش کیا کرو۔اور فرماتے ہیں (روحوا القلوب ساعۃ بعد ساعۃ فان القلوب اذا کرہ عمی) دلوں کو تھوڑی تھوڑی دیر میں آرام اور تفریح دیا کرو، کیونکہ اگردل میں کراہیت آجائے تو دل اندھے ہو جاتے ہیں۔ شریعت شریف میں ہنسی مذاق جائز ہے لیکن اس کی چند شرائط ہیں مثلاً: جھوٹی باتیں گھڑ کر لوگوں کو نہ ہنسایا جائے جیسا یکم اپریل کو ہوتا ہے، ایسا مذاق نہ ہو جس سے دوسرے کو تکلیف ہو، جو شخص مذاق کو پسند نہ کرے اس کے ساتھ نہ کریں ورنہ بلاوجہ کا جھگڑا جنم لے لگا، حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ پیارے آقا ﷺ مزاح فرماتے لیکن ہمیشہ سچ بولتے۔ ہنسی مزاح ایسا ہو جس میں کسی کی تحقیر یا تذلیل نہ ہو (جیسے ہمارے ہاں آج کل میڈیا و سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے کارٹون، غلط اور جھوٹے لطیفے وغیرہ بنتے ہیں)۔ سورۃ الحجرات میں ہے(یا ایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم) اے ایمان والوایک دوسرے کا ٹھٹھا نہ کرو۔ ایسا مذاق نہ ہو جس میں کسی کو ڈرایا / دھمکایا جائے، روایت ہے کہ (لا یحل لرجل یروع مسلما) کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ کسی مسلمان کو ڈرائے دھمکائے۔ مذاق میں کسی کا سامان/ ضروری اشیاء وغیرہ نہ ہتھیائیں۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ (لا یاخذ احدکم متاع اخیہ لاعبا و لا جادا)کوئی شخص کسی دوسرے کا سامان نہ ہتھیا لے نہ مذاق میں اور نہ سنجیدگی سے۔ اس وقت مذاق نہ کرے جب سنجیدکی کا موقع اور ماحول ہو یا جہاں رونے کا مقام ہو وہاں ہنسی مذاق نہ کریں، ہر کا م کا ایک مناسب وقت ہے۔ میرے رب کریم نے مشرکین کی سخت سرزنش فرمائی جو قرآن کریم سن کے ہنسی مذاق کرتے کہ یہ سنجیدہ رہنے اور گریہ کا مقام ہے۔ میرا رب کریم فرماتا ہے (افمن ھذا الحدیث تعجبونo و تضحکون و لا تبکونo وانتم سامدونo) اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں اور گا بجا کر ٹال مٹول کرتے ہو۔ ہنسی مذاق حد کے اندر اور اعتدال کے ساتھ ہو۔ ہنسی مذاق اتنا زیادہ نہ ہو کہ اکتاہٹ ہو جائے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ کثرت سے ہنسنا دل کو مردہ کرتا ہے۔ حضرت مولا علی فرماتے ہیں (اعط الکلام من المزاح بمقدار ما تعطی الطعام من الملح) یعنی اپنی گفتگو میں اتنا مزاح پیدا کرو جتنا آٹے میں نمک ڈالتے ہو۔ ہنستے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اونچی آواز کے قہقہے نہ لگائیں، مفہومِ روایت ہے کہ قہقہ شیطان کی طرف سے ہے۔

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی ظاہر بن حرام تھے جو دیہات میں رہتے تھے۔ ایک بار وہ شہر کے بازار میں کچھ فروخت کر رہے تھے تو پیارے آقا ﷺ نے انہیں پیچھے سے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا مگر اس نے پیارے آقا ﷺ کو نہ دیکھا تھا۔ تو وہ پکارے کون ہے؟ مجھے چھوڑو۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ پیارے آقا ﷺ ہیں تو وہ اپنی کمر کو زور لگانے لگا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے سینہ مبارکہ سے ملائے رکھے۔ نبی اکرم ﷺ نے (ازراہ مذاق) پکارا کہ اس غلام کو کون خریدے گا تو وہ بولا یارسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم اگر آپ مجھے بیچیں گے تو بہت کم قیمت ملے گی۔ میرے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا البتہ اللہ کے ہاں تو بے قیمت نہیں ہے۔ شرح السنہ

قارئین اندازہ فرمائیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺکس قدر پرلطف شخصیت کے مالک ہیں۔ ہمیں اپنے احباب، اہل خانہ کے ساتھ مزاح و مذاق، ہنسی خوشی کرتے رہنا چاہئے کہ یہ بھی شرع شریف سے ثابت ہے اور سنت ہے۔ اللہ کریم تمام امت مسلمہ کو ڈھیروں خوشیاں، مسکراہٹیں نصیب فرمائے۔آمین۔ والسلام

فکر و دانش ۔محمد احمد رضا المہروی ایڈووکیٹ

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...