اسلام بلاگ

اسلام! ایک مشکل دین؟

یہ تحریر دل سے لکھی گئی ہے اور اس کو پڑھنے کے لیے آپ کو دل کی آنکھ کی ضرورت پڑے گی. ہمارا دین اسلام ایک پریکٹیکل practical دین ہے. اس دنیا کے تمام ادیان میں سے اسلام کے علاوہ کوئی ایسا دین نہیں جس کی سب تعلیمات آسانی سے قابل عمل ہوں. ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کے لئے دین قدرے مشکل تھا، مثلا ضروری تھا کہ نماز صرف باجماعت ہی ہوگی۔ مگر ہمارے نبیﷺ کے طفیل ہمارے لئے یہ سب آسانیاں ہیں۔ یہاں تک کہ اگر سفر میں ہیں تو صرف دو رکعت فرض اور کوئی سنتیں یا نوافل نہیں۔ سفر میں یا بیماری کی حالت میں روزے بھی قضا ادا کیے جاسکتے ہیں. اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے،”اور تمہارے دین میں ہم نے سختی نہیں رکھی۔”(سورۃ الحج، آیت 78) اسی طرح حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ، ”بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختیوں کو اختیار کرے گا دین اس پر غالب آجائے گا۔” (صحیح بخاری جلد 1 39) صحابہ کرام کا دین وہ دین ہے جو آپﷺ نے خود سکھایا اور وہ اس دین سے قدرے آسان ہے جو آج کل کے نام نہاد مولوی حضرات سکھاتے ہیں۔

بطور ایک حافظِ قرآن آج کی تحریر لکھنا میرے لیے فرض ہے۔ چند دنوں پہلے میری ملاقات کام کے سلسلے میں ایک ایسے شخص سے ہوئی جو آسٹریلیا کا پیدائشی ہے اور اس کا تعلق مسلم گھرانے سے تھا لیکن وہ اسلام کی سخت تعلیمات کے باعث عیسائی ہو گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی مفتی یا عالم نے اس کو یہ تعلیمات نہیں دییں، بلکہ اس کے اپنے ہی دوستوں نے فتوے دے دے کر اس پر دین کو بھاری کر دیا۔ حالانکہ ان کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہو گا کہ اگر دین کی کوئی غلط بات ان کی وجہ سے پھیل گئی تو ہمیشہ کے لئے ان کو گناہ ملتا رہے گا۔ انسانی فطرت میں یہ چیز کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ وہ خود کو بہت سمجھدار سمجھتا ہے اور خصوصا ہم پاکستانی کسی کے پوچھے ہوئے سوالوں پر یہ کہنا قابلِ شرمندگی سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں۔

مجھ سے بہت سے لوگ اب تک پوچھ چکے ہیں کہ آپ حافظ قرآن ہیں آپ کو ان اسلامی مسائل کا کیوں نہیں پتا؟ کیوں کہ سب کے لئے یہ ایک عام سی بات ہے کہ ایک مسجد کا مولوی بھی سارے مسائل کا حل بغیر اس چیز کی پرواہ کئے دے سکتا ہے کہ اس کا کسی کی ذاتی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ میں اس فیلڈ سے وابستہ رہ چکا ہوں اور میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ میں سے زیادہ تر لوگ محلے کے امام صاحب کو جمعہ کے دن نہیں مل پائیں گے کیونکہ وہ اس تقریر کو رٹا لگا رہے ہوں گے جو انہوں نے جمعہ سے پہلے آدھا گھنٹہ پڑھنی ہوتی ہے۔ مجھے ہمیشہ سے ان سے اختلاف رہا ہے جن میں سے بہت سے میرے اپنے کلاس فیلوز classfellows بھی ہیں کیونکہ حفظ کے بعد بہت سے قابل طالب علم یا تو عالم بننے کے لئے چلے جاتے ہیں یا دنیاوی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ محلے کی مسجد کے حصے میں وہی آتے ہے جو بچا کچا مال مدرسہ میں رہتا ہے اور بڑے قاری صاحب کی مہربانی سے انکو ادنیٰ سی تنخواہ پر کسی مسجد کی امامت کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے اور وہ خود کو عالم یا مفتی سے کم نہیں سمجھتے اور اگر وہ ایسا نہ سمجھیں تو مسجد کا متولی انہیں کچھ نہیں سمجھتا۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ نماز کے لئے حدیث کی رو سے صرف سطر کا ڈھکا ہونا ضروری ہے۔ مرد کا سطرمطلب ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک۔ باقی سب کچھ ادب و آداب کےزمرے میں آتا ہے۔ مجھے ہمیشہ سے یہ بات رسوا کرتی ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ جنہوں نے رمضان کے علاوہ کبھی نماز بھی نہیں پڑھی ہوگی، وہ دس لوگوں کو اکٹھا کر کے دین کے دوسرے احکامات اور عشق رسول کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں جبکہ یہی نہیں بتاتے کہ نماز آپﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نماز اللہ نے بہت آسان رکھی ہے اور قیامت کے دن سب سے پہلا سوال اسی بارے میں ہوگا۔ حضورﷺ سے محبت کا ثبوت دینے کیلیے ضروری ہے کہ ان کی بات بھی مانی جائے. مگر افسوس کہ ہم باتوں ہی باتوں میں محبت سے عشق تک کا سفر تو طے کرجاتے ہیں مگر انکی دی ہوئی تعلیمات پرعمل نہیں کرتے. دین کی بات کرنا بلاشبہ بہت ضروری ہے اور ہمارا فرض بھی ہے مگر میڈیکل سٹور پر پڑی ہوئی ہر دعا ہر مریض کے لئے نہیں ہوتی۔ ایک مریض جو فرض نماز بھی نہیں ادا کرتا آپ اس کو ایک ساتھ ہی ساتھ 7 نمازوں اور سنتوں اور عشق نبویﷺ کی دوا نہیں دے سکتے ورنہ حدیث کے مطابق اس پر دین کو حاوی کر دو گے۔ میں نے زیادہ تر لوگوں کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ایک نماز سے ہی شروع کر دو مگر شروع کرو، بلکہ ہمیشہ یہی درس دیا جاتا ہے کہ جناب نمازیں پانچوں ہی فرض ہیں ایک بھی چھوٹے گی تو شامت آجائے گی۔ جس کے نتیجے میں ہم انتظار کرتے رہتے ہیں کب ہم پانچ نمازیں پڑھنے کے قابل ہوں گے.

اگر آپﷺ کی زندگی مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کس طریقے سے اسلام کی تعلیمات دی ہیں۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے لیے دین کو ہمیشہ آسان بنایا ہے اور چھوٹی سی نیکی پر بھی ان کو آخرت کی بڑی خوشخبری دی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم نیم حکیم ہوتے ہوئے مفتیوں کی طرح behave کرنے سے باز رہیں اور یہ کہنے کا حوصلہ رکھیں کہ ہمیں خود بھی اس بارے میں جاننا ہے چلو کسی عالم کے پاس چلتے ہیں۔