کالمز

عشق سے اینکاونٹرتک

عزت اور غیرت کے نام پر قتل کی کہانیاں تو آپ نے بہت سنی ہونگی لیکن کیا آپ نے کبھی کسی عاشق کے عشق کی پاداش میں پولیس اینکاونٹر کے بارے میں سنا ہے ،مجھے قوی امکان ہے کہ نہیں سنا ہوگا ۔۔چلئے آج سن لیجئے اور سمجھ بھی لیجئے کہ یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مبینہ طور پر ہورہا ہے اور بڑے سفاکانہ انداز میں ہورہا ہے ۔

28 دسمبر سن 2017 ؁ء کی ایک نیم سرد رات،کراچی میں سہراب گوٹھ کے گنجان آباد علاقے کی ایک سڑک اور ایک خوبصورت نوجوان کی بے قرارچہل قدمی ۔۔ کہیں دورسے شاید اس کے لئے ایک بھیانک موت کا سندیسہ لا رہی تھی۔۔ نوجوان جس کے لمبے، گھنے سیاہ بال تھے اور شکل سے ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ماڈل جیسا تھا ۔۔ اس بات کا منتظر تھا کہ اس کے سپنوں کی رانی کی کال کب آئے گی ۔۔ یہ جانتے اور مانتے ہوئے بھی کہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے، لڑکی ۔۔ماڈل نما خوبصورت نوجوان پرمر مٹی تھی ۔۔ فرق تو بہت تھا ۔۔ لڑکی ایک قوم پرست سندھی خاندان سے تعلق رکھتی تھی جبکہ نوجوان کا تعلق وزیر ستان کے محسود قبیلے سے تھا ۔۔ لیکن دونوں کی سوچ اور سمجھ کی قدریں کافی مشترک تھیں ، دونوں ماڈلنگ میں دلچسپی بھی رکھتے تھے اور ایک دوسرے میں بھی ۔۔لڑکے کا نام نقیب اللہ محسود تھا ۔۔ یہ وہی نقیب اللہ محسود تھا جو کچھ دن بعدراو انوار کے جعلی پولیس مقابلے کی بھینٹ چڑھنے والا تھا۔

نقیب جس بے قراری سے سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ اس کے ارادوں میں کچھ جھول ہے ، اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف اس کے سپنے کی رانی موجود تھی۔۔ لڑکی نے کہاکہ میں تو نکاح کے لئے تیار ہوں۔۔تم اپنا بتاو ۔۔ نقیب نے کہا ہاں میں بھی تیار ہوں لیکن تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے ۔۔ ایک ڈر اپنی اہلیہ اور بچوں کا ہے جبکہ دوسرا تمہارے گھر والوں کا ۔۔ لڑکی نے کہا کہ کچھ نہیں ہوگا ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔ نقیب کہنے لگا ہم جنوری دوہزار اٹھارہ کے پہلے ہفتے کی بجائے معاملات کو دوسرے ہفتے تک موخر کر دیتے ہیں ۔۔ لڑکی پہلے پہل تو تھوڑی نالاں دکھائی دی لیکن بعدازاں مان گئی ۔۔لڑکی کو اس بات کاقطعی انداز ہ نہیں تھا کہ اس کے موبائل فون کی ہر کال ٹریس ہو رہی ہے ۔۔ ماڈلنگ اور دوستی کی حد تک تو معاملہ قابل برداشت تھا لیکن گھر والوں کی مرضی کے خلاف کورٹ میرج کا سوال ۔۔لڑکی کے مبینہ امیر باپ اور سندھ کی مبینہ معروف سیاسی جماعت کے سیاسی عہدیدار کے خاندان کے لئے بدنما داغ سے کم نہیں تھا ۔۔اس مبینہ داغ اور داغ سے جڑے سوال سے بچنے کے لئے لڑکی کے والد کو کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا ۔

سواس نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نقیب اللہ محسود کو اٹھوا کر درگت بنانے کی درخواست کی ۔۔ متعلقہ ایس ایچ او نے تمام مدعا راو انوارکے سامنے رکھا اور سائیں کے مبینہ حکم سے آگاہ کیا ۔۔ راو انوار ایک لمحے کو زیر لب مسکرایا ۔۔ فون ملایا ۔۔ مبینہ سائیں سے بات کی اور ایس ایچ او کو نقیب اللہ پر نظر رکھنے کو کہنا ۔۔ نقیب اور لڑکی کے درمیان انٹرنیب سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ کے ذریعے مستقل رابطہ تھا ۔۔ جو پولیس کی نظروں سے اوجھل رہا ۔۔ واٹس ایپ کے ذریعے نئے سال کی مبارک بادیں دی جاتی رہیں ۔۔ دو جنوری کو نقیب اللہ کی ایک بار پھر لڑکی سے بات ہوئی اور دونوں نے مل کر جنوری کے دوسرے ہفتے کی ایک مبینہ تاریخ طے کر لی ۔۔ موبائل فون کال پھر ٹریس ہوئی اور راو انوار اور ان کی ٹیم متحرک ہوگئی ۔۔ تین جنوری کو نقیب اللہ محسود کو سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگوں نے ایک ہوٹل کے باہر سے اٹھایا اور نامعلوم مقام پر لے گئے ۔۔ معلومات لی گئیں ، حقائق اکٹھے کئے گئے اور نوجوان کو سمجھانے سے لے کر راستے سے ہٹانے تک تمام مبینہ آپشنز پر غور کیا گیا ۔۔ ۔۔ دن گزرتے گئے ۔۔راو انوارکو جواز بھی ملتے گئے ۔۔ لڑکی کے والد نے نقیب اللہ کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا ۔۔ تو راو انوار جو جعلی پولیس مقابلوں کے ماسٹر مائینڈبولے جاتے ہیں ۔۔ قہقہے لگا کر ہنسے ۔۔۔کہ سائیں ،، کہیں تو دہشت گرد بنا دیتے ہیں ۔

دوسری طرف سے بھی قہقہ لگا اورکچھ دن بعد وہی ہوا ۔۔ پولیس پارٹی جب نقیب سمیت چار مبینہ دہشت گردوں کو جعلی پولیس مقابلے کے لئے ایک گھر میں باندھ رہی تھی تو انکاونٹر اسپیشلسٹ کے چہرے پر سفاکانہ بے رحمی تھی۔۔ راو انوار نے اپنی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے نقیب کو باقی تینوں سے دو قدم آگے کھڑا کرنے کو کہا ۔۔ آنکھوں پر پٹی، بندھی ہوئی کلائیاں ۔۔ بندھے ہوئے پاوں ۔۔اور کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ نقیب کو آگے لایا گیا ۔۔ پولیس پارٹی کے ایک رکن کے ایک مبینہ ساتھی کے مطابق جب نقیب سمیت مبینہ دہشت گرد وں پر ایس ایم جیز اور دیگر اسلحے سے فائرکوکھولا گیا تو راو انوار کے منہ سے قہقہے کے ساتھ ایک جملہ نکلا ۔۔۔اور اس جملے سے ہی یہ ساری کہانی جڑی ہے ۔۔ یہ جملہ اتنا سفاکانہ اور ہولناک ہے کہ آپ سنیں تو آپ کے جسم کا رواں رواں کانپ اٹھے ۔۔ گولی چلی اور ایک آواز آئی ۔۔۔ُ اور کرو عشق ۔۔ لے ڈوبا عشق ‘۔۔۔ سفاکی کی یہ داستان کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ نقیب کے قتل کی مبینہ اندر کی کہانی ہے۔۔ یہ کہانی کتنی درست ہے اس کا فیصلہ تو وقت اور تحقیقات کریں گی لیکن یہ سچ ہے کہ نقیب کا قتل محض اتفاقیہ یا غلطی کا شاخسانہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔۔لڑکی کون ہے ۔۔ لڑکی کا نام کیا ہے ۔۔لڑکی کس حال میں ہے کچھ پتہ نہیں ۔۔لڑکی کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہے ۔۔ وہ بڑی شخصیت کون ہے ۔۔۔ اور اس نے نقیب کے عشق کی سزا موت ہی کیوں رکھی اس کا بھی علم نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ نقیب کو دہشت گردی کی پاداش میں نہیں بلکہ جوانی کے مبینہ الہڑ عشق کی پاداش میں گولیوں سے بھونا گیا اور یہ سب راو انوار کے ذریعے کرایا گیا ۔۔۔ نقیب کے قتل کی تحقیقات سے جڑی تحقیقاتی کمیٹی نے نقیب کو پہلے ہی بے گناہ قرار دیا ہے ۔۔ لیکن جعلی پولیس مقابلوں کے ماہرراو انوارنہ جانے کہاں ہیں ۔۔ بڑی طاقتوں نے اسے کہاں بھگایا ہے ۔۔ کیوں بھگایا گیاہے اور کیوں بچایا جا رہا ہے

ورنہ راو انوار اتنا طاقت ور نہیں کہ سپریم کورٹ کے بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو ۔۔ یقیناًراو انوار کے پیچھے ایک بڑی شخصیت کا ہاتھ ہے ۔۔ اس شخصیت اوراس قتل سے جڑے حقائق کا پتہ لگانا اداروں کا کام ہے ۔۔ اوربات صرف اتنی سی ہے کہ اگر کسی سے محبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے تو اس کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے ۔۔ ذات پات اور برادری میں جکڑے سسٹم میں انکاونٹر کرانے والے اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو ان کی جوانی کے دن اور رات بھی ایسی ہی محبتوں اور محبتوں کے خاکوں سے جڑے ہوں گے جن کی سزا کسی نے بھی موت تجویزنہیں کی ہوگی ۔۔ تو نقیب کے لئے اُس کے عشق کی سزا ۔۔موت ہی کیوں ۔۔

ازجمیل فاروقی

لکھاری کے بارے میں

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ نیو چینل کے مشہور پروگرام ’’ حرف راز ‘‘ کے اینکر پرسن ہیں۔
farooqui555@yahoo.com

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment