بلاگ

پاکستان ایک ناکام ریاست یا ابھرتی ہوئی عالمی قوت؟

شکریہ مودی جی اور ٹرمپ کاکا! ایک سال پہلے جب واشنگٹن پوسٹ، ٹائمز آف انڈیا، او نیویارک ٹائمز کیلئے لکھنے والے اس تجزیہ نگار نے آج کے حالات کی حرف بحرف پیشن گوئی تھی تو دیسی بھارتیوں کے ساتھ ساتھ دیسی لبرلوں اور گلمرجانوں کی چیخیں نکل گئی تھی-عقلمندوں کیلئے اتنا اشارہ کافی ہے کہ جب یہ آرٹیکل لکھا گیا تھا تو ڈان لیکس ، پی ٹی ایم کے ظہور اور نواز شریف کے زوال کے دن تھے- آج ایران کے وزیر خارجہ محمد ظریف بھی بھارتی چنیل کو این ڈی ٹی وی کو یہ کہتے نظرآرہے ہیں ایران افغانستان میں پاکستانی کردار کو مثبت اور فیصلہ کن سمجھتا ہے- سنیل شرن نے دسمبر 2017 میں لکھے گئے اپنے اس ایک آرٹیکل میں پاکستانی میڈیا پر ہونے والی تمام مغربی اور بھارتی انویسٹمنٹ کا یہ کہ کر جنازہ نکال دیا تھا کہ "آج پاکستان عالمی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل کرتے ھوے ایک ابھرتی ہوئی طاقت بن گیا ہے جبکہ بھارت ایک عالمی اچھوت اور جیلی سٹیٹ جسکی کوئی سمت نہیں”- اس "گستاخی” پرحسب روایت بھارتیوں نے تجزیہ نگار پر "آئ ایس آئ کا ایجنٹ” ہونے کا الزام لگایا باوجودیکہ اپنے تجزیے میں انہوں نے پاکستان کی کافی شیطانی یا کم از کم "میکویلین” تصویر پیش کی- سنیل مثالوں کے ساتھ منطقی انداز میں لکھتا ہے کہ بھارت کو مغربی طاقتیں اسکے بڑے مڈل کلاس کی تعریف اور پاکستان کی مذمت کا لالی پاپ دیتے رہے لیکن انکی نظر میں بھارت کی حثیت انکے اسلحے اور مصنوعات کیلئے بھوکوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہی-

دوسری طرف 11 /9 کے بعد کے حالات میں پاکستانی پالیسی سازوں کو اپنی اور امریکی طاقت اور کمزریوں دنوں کا اچھی طرح ادراک تھا جبکہ امریکا طاقت کے زعم میں اندھا تھا اسلئے پاکستانی ریاست نے امریکی دھمکیوں کو گیدڑ بھبھکیوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوۓ اپنے کارڈ تب تک بڑی ہوشیاری سے کھیلے جب تک افغانستان بدمست امریکا کے گلے میں ایک ایسے کانٹے کی طرح پھنس نہیں گیا جسکو صرف پاکستان ہی نکال سکتا ہے- اس کے ساتھ پاکستان نے اسی روس کو اپنی طرف کھینچا جسکو امریکا کی مدد سے وہ افغانستان میں شکست دی چکا تھا اور چین کے ساتھ مضبوط فوجی اور اقتصادی اتحاد کے قائم کرکے بھارت کیلئے کسی جنگ کی صورت میں ایک ایسی دو محاذی صورتحال بنا دی جس میں بھارت کبھی جیت نہیں سکتا- نتیجتا ً بھارت کے فوجی اخراجات بڑھتے گئے اور پاکستان نے اپنے دفاعی اخراجات کو جنگی حالات میں بھی نسبتا ً بہت کم رکھتے ہوۓ سعودی عرب اور یو اے ای جیسے ممالک کو امریکا کے خواہش کے برخلاف بھی پاکستان پر انویسٹمنٹ کرنے پر مجبور کیا- تجزیہ نگار کا سب دلچسپ اور بہت حد تک درست مشاہدہ یہ ہے تمام افغانیوں کی طرح افغان طالبان بھی پاکستانیوں کو روایتی پر "کالیا” سمجھتے ہوۓ ان سے نفرت کرتے ہیں لیکن پاکستان کو اس کی ذرا برابر پرواہ اسلئے نہیں کہ وہ جانتا ہیں کہ طالبان کابل میں پاکستان کی مدد کے بغیر نہ کسی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں اور نہ ہی انکی حکومت قائم رہ سکتی ہے جبکہ افغانستان میں کوئی بیرونی طاقت طالبان کے ہوتے جیت نہیں سکتا- اسلئے آج بھارت کے اتنے محنت سے بناۓ گئے عالمی امیج کے باوجود ایک ہاری ہوئی قوت جبکہ پاکستان کے ناکام ریاست کا تاثر ہونے کے باوجود آخری بازی میں فاتح کے ساتھ ساتھ ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرتا نظر آرہا ہے-

کمال بھی یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان سے نفرت کرے یا محبت پاکستان کے بغیر وہ افغانستان میں فساد تو کر سکتے ہیں امن نہیں لا سکتے اور نہ ہی ایک مزاحمتی تحریک سے ایک حکومت اور ریاست بن سکتے ہیں- نفرت کا لفظ تو شاید کچھ سخت ہے لیکن ایک خاص قسم کا تعصب افغانستان کے کئی لحاظ سے پسماندہ قبائلی معاشرت کا خاصہ ہے جسکے تحت وہ اپنے شمال اور مغرب میں رہنے والوں ہزارہ، تاجک، ترکمن، اور ازبک لوگوں کو "فارسیبان” اور مشرق میں رہنے والے لوگوں کو رنگ و نسل کے تمیز بغیر "پنجابی” کہتے ہیں یا پھر تعصب نفرت کی حد تک پہنچے تو "دال خور” ، "کالیا” اور "لنگمار” وغیرہ چاہے وہ سانولا ہندوستانی مشرف ہو یا پھر کشمیر نواز شریف، راجپوت بینظیر بھٹو یا پٹھان عمران خان نیازی ! یہ ظاہر ہے پشتون ثقافت کا حصہ نہیں بلکہ "افغانیت” کے زیر اثر ایک سماجی رویہ ہے جو کہ افغانیوں کے تمام لسانی اور نسلی قومیتوں کے علاوہ پشتونخوا میں نام نہاد "افغان/پشتون” قوم پرستی کے عارضے میں مبتلا پسماندہ ذہنیت رکھنے ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت کا خاصہ ہے جو کہ باچا خانیوں، محمود خانیوں اور پی ٹی ایم کے ناموں سے متحرک ہے- پاکستان کی دفاعی پالیسی ساز جن میں اکثریت کا تعلق پنجاب اور پختونخوا سے ہوتا ہے ان فطری تعصبات رکھنے والے افغانیوں کو "مینیج” کرنے کا کافی تجربہ رکھتے ہیں- طالبان کے علاوہ بھی افغانستان میں جو قوتیں خود کو "ترقی پسند قوم پرست” یا "ملت پال” سمجھتی ہیں انکو اپنی حکومتوں کے قیام اور دوام کیلئے کسی غیر ملکی کفیل بلکہ قابض طاقت کی محتاج رہی ہیں اور یہی موجودہ افغان ریاست کی 1879 کے بعد سے انگریزوں کے ہاتھوں ایک بفر زون کی حثیت سے قیام کے بعد کی تاریخ رہی ہے انگریزوں کے کٹ پتلی امیروں سے لیکر کمونسٹ سوویت یونین کے لے پالک صدور سے ہوتے ہوۓ اب امریکی آشیرباد سے قائم اشرف غنی اور ڈبل عبد الله کی انتظامیہ تک –

ان قابض قوتوں نے افغانستان میں دو ملین کے قریب افغانیوں کا قتل عام کیا جبکہ پاکستان بوجوہ تمام تر بدنامی اور مذمت سہنے کی باوجود نہ کبھی افغانستان پر حملہ اور ہوا نہ قابض رہا اور نہیں اسکو کابل میں کسی دوست حکومت کو استحکام دینے کیلئے ایسا کرنے کی ضرورت ہے- بھارت بہرحال اس حثیت میں کبھی نہیں آسکتا خصوصاً پاکستان کے ہوتے ہوۓ جس نے کہیں نہیں جانا کیونکہ اس کے قیام کے پیچھے محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے فتوحات سے لیکر احمد شاہ ابدالی کی پانی پت کی فتح تک ١٢٠٠ سال کی ناقابل تردید تاریخ ہے- ماضی کے جن عظیم فاتحین اور حکمرانوں کو "افغان حملہ آوروں” کے نام سے جانتے ہیں انکا تعلق طالبان کو جنم دینے والے موجودہ افغان قبائلی معاشرے سے اتنا ہی تھا جتنا کہ پاکستان سے یا شائد اس سے بھی کم کیونکہ وہ یا تو پاک-افغان خطے کو فتح کرنے والے ترک فاتحین تھے یا پھر اگر پشتون تو انکی سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت کا مرکز موجودہ خیبر پختونخوا اور پنجاب تھا اور کسی نہ کسی حوالے سے وہ ترک، مغل یا ایرانی سلطنت سازی کا ہی ضمنی پیداوار تھے چاہے وہ لودھی سلطان ہو، افسانوی شہرت کے مالک عظیم متظم شیر شاہ سوری ہو یا پھر مایا ناز جرنیل احمد شاہ ابدالی- پاکستان کی موجودہ صورتحال اسلئے کوئی اچنبے کی بات نہیں بلکہ تاریخ کا تسلسل ہے جسکو یہ بھارتی تجزیہ نگار سمجھ نہیں سکا

ارشد صافی