بلاگ

ایک معصوم شہید قرآن کو بھی انصاف چاہیے!۔۔۔محمد فیصل شہزاد

ایک اور روح فرسا خبر یہ ابھی سنی کہ ہمارے کراچی میں ایک درندے نے جو اتفاق سے قاری بھی تھا، ایک 9 سالہ بچے کووحشیانہ تشدد کر کے شہید کر دیا… ہائےایک معصوم شہید قرآن! اس سے بڑھ کر زیادہ وحشت ناک خبر یہ سننے میں آئی کہ والدین نے معاف کر دیا ہے… پھراس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ سامنے آئی کہ کچھ لوگ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں…محض دین کے نام پر!

توسن لیجیے کہ دین کے نام پر کیا گیا یہ مذاق بالکل بھی قابل برداشت نہیں ہے… اب ان سفاک ، وحشی اور اکثر ہم جنس پرست ’’قاری محض‘‘ کو… جو خود بھی اندرون پنجاب و اندرون سندھ کےنہایت وحشت ناک ماحول کے پلے بڑھے ہیں، اپنے بچپن کے بدلے لینے کے لیے ہمارے بچوں پر چڑھ دوڑنے نہیں دیا جائے گا! یعنی غضب خدا کا… قرآن پڑھانے والا ایک شخص، قرآن کے نام پر معصوم کا قتل کر دے… رہائشی غریب بچوں کے ساتھ وہ درندگی کرے کہ دنیا سوچ بھی نہیں سکتی… اور اسے محض اس کے’’قاری‘‘ ہونے کی تمہت کی وجہ سے معاف کر دیا جائے… ہرگز نہیں!

اگر نقیب اللہ محسود کو مظلومانہ مارا گیا اور سوشل میڈیا پر سب احباب نے یک زبان ہو کر احتجاج کیا تو اس منحوس قاری کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بھی سب کو جمع ہونا چاہیے… چاہے والدین معاف کریں نہ کریں… اس کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے… اور اس کے لیے معروف دینی نسبت و شناخت رکھنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو زیادہ ایکٹو ہو کر زبردست احتجاج کرنا چاہیے… ہمارا مطالبہ تو یہ ہو کہ اس خبیث کو بھی سرعام ننگا کر کے ایسے ہی مارا جائے… جیسے یہ غریب بچوں پر درندگی کی انتہا کر دیتے ہیں…

یاد رکھیے… سیاسی وجوہ کی وجہ سے قتل و غارت کرنے سے… ہزار گنا زیادہ سنگین ہیں ایسے قتل اور ایسی دردنگیاں جو دین کے نام پر اور دین کی نسبت سےقائم کر دہ چھوٹے چھوٹے مکاتب میں معصوموں پر ہوں۔ ہمارے لیے مدارس، قرآنی مکاتب کے لیے رول ماڈل ہمارے اکابر مفتی رشید احمد اور حکیم اختر صاحب رحمہم اللہ جیسی ہستیاں ہیں… جو معصوم بچے کو ایک تھپڑ مارنے پر بھی کھڑے کھڑے استاد کو مدرسے سے نکال دیا کرتے تھے اور اس حوالے سے ان کے سخت ترین بیانات اور فتاوے ریکارڈ پر موجود ہیں…
خود ہم نے اپنے قاری دوستوں سے جو قصے ان ’’وحشی قاریوں‘‘ کے بچوں پر تشدد کے سنے ہیں، وہ یہاں لکھنے کے قابل نہیں ہیں… ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جیسے ڈارک ویب کے بدنام زمانہ ’’ریڈ روم‘‘ میں بچوں بڑوں پر تشدد کے ہولناک و دہشت ناک قصے سننے میں آتے ہیں…

اس لیے ان پر چپ سادھنا یا معاملے کو دبا دینا… ہرگز دین داری نہیں… بلکہ ایسے ہر قصے پر سب سے زیادہ مذہبی لوگوں کو آگے بڑھ کر احتجاج کرنا چاہیے… کیوں کہ جن کے گھر اور خاندان کو کوئی بہروپیا بدنام کرے، وہی سب سے زیادہ اس داغ کو دھونے کو بے چین ہوتے ہیں…
تحریر : محمد فیصل شہزاد