بلاگ

اقتدار کے بعد..!

اقتدار چھن جانے کے بعد شاہِ ایران پر بدنصیبی ایک وقت ایسا بھی لائی کہ کسمپرسی کے عالم میں جیتے ہوئے رضا شاہ پہلوی کے پاس سر چھپانے کو دنیا بھر میں کوئی جگہ میسر نہ تھی۔ بے گھری کے حامل، بادشاہت کے طنطنے سے محروم شخص کی ذہنی اور قلبی حالت نے اسے قریباً نیم پاگل سا کر دیا تھا۔ اسی حالت میں لجاجت سے بھرپور ایک خط رضا شاہ نے مصری صدر انور السادات کے نام تحریر کیا۔ لکھا کہ ”منت کرتا ہوں مجھے مرنے اور دفن ہونے کیلئے مٹھی بھر زمین فراہم کر دو“۔ چنانچہ انور السادات نے دنیا بھر خصوصاً مغرب اور امریکہ کی مخالفت مول لے کر سابق شاہِ ایران کو قاہرہ میں رہنے کیلئے ایک چھوٹا سا مکان فراہم کیا۔

رضا شاہ کی رحلت اُسی مکان میں ہوئی اور اسی کے صحن میں وہ دفن ہوا۔ یعنی زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے! کسمپرسی، بے بسی، اذیت اور بے کسی سے معمور رضا شاہ پہلوی کی زندگی کے آخری دنوں کے چند گواہوں میں انور السادات کا نام سرفہرست ہے۔ سابق شاہِ ایران کی حالتِ زار دیکھ کر انور السادات کی کیفیت یہ ہوئی کہ اُس نے اپنی ذاتی ڈائری میں دعائیہ انداز میں لکھا ”اگر اقتدار چھن جانے کے بعد انسان کی یہ حالت ہوتی ہے تو خدایا مجھے اقتدار پر ہی موت دینا“۔ دعاؤں کو تقبل بخشنے والی ذاتِ بابرکات نے یقینا انور السادات کی دعا قبول فرمائی۔ وہ دورانِ اقتدار ہی ایک فوجی پریڈ کا معائنہ اور سلامی لیتے ہوئے ایک جوان کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا اور جیتے جی اقتدار چھن جانے کے بعد کی اذیت سے بہرحال بچ رہا۔

ایک چشم چشیدہ واقفِ حال نے بتایا کہ ایک روز شام سے ذرا پہلے چند لوگ سرور پیلس جدہ میں میاں نواز شریف کے پاس بیٹھے تھے۔ گفتگو بہرحال خوشگوار نہ تھی کہ ماحول ہی پژ مردہ سا تھا۔ اس دوران میاں صاحب نے ایک پاکستانی نمبر پر فون ملایا۔ گھنٹی بجتے رہنے کے چند ثانیے بعد کسی نے کال اٹینڈ کی اور انجان جانتے ہوئے غالباً بیزاری سے پوچھا ”کون بول رہا ہے؟“۔ لہجے کی بے اعتنائی میاں صاحب پر اثر انداز ہوئی۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ میاں صاحب کا چہرہ متغیر ہوا اور شدتِ جذبات سے سرخ ہو گیا۔ بدقت انہوں نے کہا ”میں میاں نواز شریف بول رہا ہوں“اور کہا،”بابا جی سے بات ہو سکتی ہے؟“ جواباً شاید فون دوبارہ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ کوئی دس منٹ میاں صاحب گم صم سے بیٹھے رہے۔ پھر فون دوبارہ ملایا اور ”بابا جی“ سے دعا سلام کے بعد بہت دھیمے اور لجائے ہوئے لہجے میں بات چیت کی۔ بات کیا تھی؟ بس منت سماجت اور دعاؤں کی التجا تھی۔ اقتدار چھن جانے کے بعد کے دنوں کی اذیت کا اظہار تھااور اقتدار دوبارہ ملنے کی آس تھی۔

برس ہا برس کی کاوشوں کے بعد ملنے والا اقتدار جب مختصر عرصہ کے بعد ہی چھین لیا گیا تو شہیدبے نظیر بھٹو کی ذہنی اور قلبی حالت کیا ہوئی تھی اس بابت مرحوم ملک معراج خالد صاحب سے ہم نے جو مختصر روداد سنی وہ یقینا دل کو مٹھی میں بھینچ لینے والی تھی۔بے نظیر بہرحال بہت سی مشکلیں دیکھ چکی تھیں چنانچہ جلد ہی حواس مجتمع کر کے پھر سے ڈٹ گئیں۔

صاحب! مذکورہ شخصیات کے حوالے سے چند باتیں، یادیں تحریر کرنے کا مقصد اقتدار چھن جانے کے بعد کی اذیت کا اظہار ہے۔ اسی اذیت کے اظہار میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بھی کہہ اٹھا تھا کہ ”نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں“۔ یقینا اقتدار کی اپنی آزمائشیں ہیں مگر یہ چھن جائے تو ابتلاؤں کے ذکر پر بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جایا کرتا ہے۔ دریا کے بعد ایک اور دریا کا سامنا انسان کو جینے دیتا ہے نہ ہی مرنے دیتا ہے۔ جینے جیسے کارِ محال کے دورانیے میں پل پل مرنا اک الگ ہی کارِ دارد ہے۔ بقول امجد اسلام امجد:۔ پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

اقتدار ایسی عجب شے ہے کہ جیتے جی چھن جائے تو انسان کی جو حالت ہوتی ہے وہ یقینا بیان سے باہر ہے۔ خصوصاً جہاں ہر کوئی اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہو۔ وائے افسوس کہ لوگ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کیلئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلتے۔ گئے وہ دن کہ جن میں عظیم الشان، رجل عظیم چلتے پھرتے تھے۔ یعنی ایک علی المرتضیٰ ؑ اور ایک اُس کا حسین و جمیل بیٹا حسنِ مجتبےٰ ؑ۔ یعنی ایک کے گلے میں اقتدار کانٹوں کی مالا بنا کر ڈال دیا گیا اور دوسرا اس کا بیٹا جس نے بہ رضا و رغبت اقتدار کو طلاق دے دی۔ یزید بن معاویہ کے بیٹے معاویہ بن یزید نے بھی تخت کو ٹھوکر مار دی تھی۔ عمر بن عبدالعزیز کے صالح اقتدار کے دن اس قدر مختصر کہ گنتی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ورنہ مسلمانوں کی تاریخ تو ہوسِ اقتدار میں مبتلا لوگوں سے بھری پڑی ہے۔

یہ ہوسِ بد کل بھی تھی، اس کا تسلسل آج بھی قائم۔ کیا دنیادار اور کیا علم والے۔ ایک ہی صف میں کھڑے حریص۔ اب مفتی محمود مرحوم و مغفور کے صاجزادے مولانا فضل الرحمن ہی کو لیجئے۔ اقتدار چھن جانے کے بعد موصوف کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ ملک اپنی تاریخ کے ایک اور نازک موڑ پر کھڑا ہے مگر سیاسی جنگ اور دنگل بازی چھیڑنے پر مائل ہی نہیں بلکہ بھرپور تیار مولانا فضل الرحمن۔ مبتلائے ہوس اقتدار کی بابت مزید کچھ لکھنا لفظوں کا ضیاع ہے۔ چنانچہ کفایت شعاری بہتر۔ بس اقتدار چھن کے بعد کی حالت اور ہوس اقتدار میں مبتلا حریصوں کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے اور اس عالم اسباب کی عبرت ناکیوں پر غور کرتے ہوئے سبق آموزی پر توجہ رکھیئے۔ سبق گر کوئی ہدایت کا کسی نے پڑھ لیا تو یہی توشہ آخرت بنے گا۔