بلاگ معلومات

سرمایہ داری اور اسلامی نظام معیشت

معیشت کے موضوع کو ہمارے ہاں بہت کم زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اور نہ ہی اس پر گفتگو کی جاتی ہے کہ کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام بھی ہے ۔ یا اسلام انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اس وقت دنیا میں 56اسلامی ممالک ہیں لیکن کہیں بھی اسلام کا معاشی نظام عملی طور پر رائج نہیں ہے ۔

پاکستان میں عقیدے کے اعتبار سے 98فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن نظام اور سسٹم کے حوالے سے سرمایہ داری کو اپنی ترقی کی بنیاد قرار دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 69 سال گزرنے کے باوجود ہم بحیثیت قوم ذلت و پستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ افلاس نے ہمارے معاشرے میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ اور پھر اوپر سے ایک اور ظلم یہ ہے اسلام اور مذہب کے نمائندے غربت و افلاس کو تقدیر کا لکھا ثابت کر کے ہمیں اس ظالمانہ سرمایہ داری نظام کی پیدا کردہ خرابیوں کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں ۔

بنیادی طور پر اگر غور کیا جائے کہ اسلام کا منشاء کیا ہے ؟ اسلام چاہتا کیا ہے ؟ دین اسلام چونکہ انسانی فطرت کا ترجمان ہے تو انسان کی زندگی کے دو رُخ ہیں جس سے جنم لینے والی انسان کی احتیاجات اور ضررویات ہیں ۔ دوسرا اس کا روحانی اور اخلاقی رخ ہے ۔ اب انسان کی اخلاقی زندگی کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کی معاشی ضروریات کو پورا نہ کر لیا جائے ۔

اس حوالے سے معیشت انسانی زندگی اور انسانی معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے معاشی نظام ہم کیوں قائم کر تے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وسائل دولت اس دنیا میں پیدا کر دئیے ہیں ۔ اب معاشی نظام قائم کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو وسائل پیدا فرمائے ہیں اس سے استفادے کا ایک ایسا میکینزم بنایا جائے کہ جس سے انسانی احتیاجات کی تکمیل ہو۔

اب انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جس طرح حیوانوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اس مادی دنیا کے اندر ہونے والے تجربات اور ترقیات کے نتیجے میں دور کے حالات کے مطابق انسانی ضروریات کا تعین فطرت انسانی کے مطابق سیٹ کیا جائے گا ۔

اب ہم زوال کے دور میں ہیں تو ہمارے ہاں دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ ایک طبقہ وہ ہے جو معیشت کو انسانی زندگی میں اہمیت ہی نہیں دیتا ۔ وہ صرف آخرت کو اور اُخروی زندگی کو انسانی زندگی کا منتہا اور مقصود مانتا ہے ۔دنیا کے امور اس کی لغت سے خارج ہیں ۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جو معیشت کو مانتا ہے لیکن معاشی نظام کو نہیں مانتا بلکہ معیشت کے حوالے چند ایک آیات اور تعلیمات کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ان کو مانتا ہے ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا اگر باقاعدہ اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں تو حل یہ نکلا کہ رائج سرمایہ داری نظام کی اصطلاحات اور میکینزم کو اسلامائز کیا جائے ۔

ہمارے ملک میں ایک مذہبی طبقہ ایسا ہے جو سرمایہ داری کو مسلمان کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے سرمایہ داری کے اندر اسلام کی پیوند کاری شروع کررکھی ہے ۔ اور بڑے مربوط انداز میں اسلامی بینکاری کے نام سے یہاں پر پورا ایک ہواکھڑا کیا ہوا ہے۔ْ اور دنیا کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اگر اسلام کا کوئی معاشی نظام ہے تو وہ یہ ہمارا بینکاری سسٹم ہے ۔اس بینکاری نظام کے اندر
سود کے عنوانات کو دیگر شکلوں سے رائج کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کے معاشی نظام کے ساتھ مذاق کیا گیا کہ اس کو عملی سرمایہ داری نظام کا طفیلیہ ثابت کر کے انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی عالمی حکمت عملی کا تعاون کرتے ہوئے سرمایہ داروں کے مفادات کو اسلام کے نام پر تحفظ دیا گیا ہے

اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے معاشی نظام اور سرمایہ داری میں فرق کیا ہے ۔اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے سرمایہ داری نظام کے دور کا مختصر تاریخی جائزہ لینا ہوگا ۔ سرمایہ داری کا اصل الاصول سرمایہ ہے ۔ اس کی تمام بلکہ سیاسی اور عمرانی سرگرمیاں بھی سرمایہ کے گرد گھومتی ہیں اب سر مایہ داری نظام قائم ہی اس لئے کیا گیا تاکہ سرمایایہ دارقوتوں کے مفادات کو تحفظ دیا جائے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپ میں سرمایہ داری نظام کی بنیاد کیسے پڑی۔ یورپ میں تین بنیادی اور پرانی اقوام ہیں ۔ اٹالین ، جرمن ، فرنچ پھر برطانیہ آگیا ۔ اس کے اندر شامل ہو گیا پھر یہی سرمایہ داری نظام آگے چل کر جاپان اور امریکہ میں رائج ہوا ۔ جب ہم تاریخ کے تناظر میں سرمایہ داری کے یہاں تک کے سفر کو دیکھتے ہیں تو یورپ کے تمام مسائل پر اسی مفاد پرست طبقے کا تسلط رہا ہے ۔

اب ایک دور یورپ میں شہنشاہیت کا ہے ۔جس کی اپنے معاشرے میں بالا دستی تھی۔ پھر بنیادی عامل پیدائش دولت بھی موجود ہے ۔اور اس پرایک جاگیردار طبقہ قابض ہے ۔8 صدی عیسوی سے لیکر 15صدی عیسوی تک یورپ میں جو نظام رہا ہے وہ فیوڈل ازم کا تھا ۔ فیوڈل ازم میں فیوڈل لارڈ جس کو جاگیردار کہا جاتا ہے اور اس جاگیردار طبقہ نے جو نظام متعارف کرایا وہ صرف اور صرف زمین سے پیدا ہونے والے تمام تر خزانوں کا مالک اس طبقہ کو ہی قرار دیتا ہے ۔

اس فیوڈل ازم کی عمر 700سال ہے یورپ کے اندر ۔15 صدی عیسوی کویورپ میں علوم پیدا ہونا شروع ہوئے ۔ یورپ اپنے فیوڈل دور سے نکل کر تجارتی دور میں داخل ہوا ۔ اب وہ فیوڈل لارڈ تھے ۔ جب وہ تجارت کے عمل میں آئے تو انہوں نے تجارت کو اپنے قبضے میں کر لیا ۔ اب اسی دور کے اندر زر کوبنیادی عامل پیدائش قرار دیا گیا۔ جیسے زرعی دور میں زمین پر ایک طبقہ قابض تھا ۔ اسی طرح تجارتی دورمیں زر پر وہی طبقہ قابض ہو گیا ۔

چھوٹی چھوٹی جو دستکاریاں وجو د میں میں آگئی تھیں اس کو اس طبقے نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اس کو ہم تاریخی اصطلاح میں مرکنٹا ئلزم بھی کہتے ہیں ۔ اب جب تجارتی عمل نے فروغ پایا تو اس کے لئے سب سے پہلی چیز جس کی ضرورت محسوس کی گئی وہ ہے “منڈی” تو منڈیوں کی تلاش تجارتی عمل کے اندر ہی شروع ہو چکی تھی ۔ دنیا میں نئے علاقے تلاش کئے جائیں ۔اون کا کاروبار اس وقت زوروں پر تھا ۔ جہاں تک کلیسا کا کردار تھا ۔ اس کو انہوں نے ختم کر دیا اور 16صدی میں ا سٹیوٹ نامی ایک خاندان تھا جس کی عمل داری انہوں نے ختم کر کے یہ جو زر دار طبقہ تھا تما م کے تمام تجارتی عمل اور وسائل دولت پر قابض ہو گیا استحصال کا عمل جو یورپ کی نشئا ت ثانیہ سے پہلے وہاں موجود تھا وہ پندرویں اور سولویں صدی عیسوی میں بھی جاری و ساری رہا ۔ اور 150سال میں دستکاری کی صنعت ترقی کر کے مشین کی ایجاد پر منتج ہوئی اور نئے پیداواری رشتے قائم کرنے کی بات کی گئی اور پیدائش دولت کے عمل میں زر کے بجائے سرمائے کی اصلاح کو متعارف کرایا گیا ۔ اس میں مشین کو بھی سرمایہ کے تابع کر دیا گیا ۔ تو یوں اٹھارویں صدی عیسوی کے اندر سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوتا ہے ۔ اب سرمایہ داری نظام کا اصل سرمایہ ہے اب وہی طبقہ جو تجارتی دور میں زر پر اجارہ دا ر تھا وہی طبقہ مشین کی ایجاد کے بعد مشین کا مالک بن گیا

اب اس سے ایک طرف تو پیداوار ی عمل میں اضافہ ہو گیا اس کو کرنے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔۱۔ وسائل جس کو ہم زمین کہتے ہیں معیشت کی اصطلاح میں۔۔۲۔ منڈی جہاں پر آپ کو کنزومر چاہیے ۔ اس مشین نے جو مسائل پیدا کئے وہ یہ کہ ایک طرف جو دستکار تھا بے روز گار ہو گیا اور اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ان سرمایہ داروں کی لگائی گئی فیکٹریوں میں ملازمت اختیار کرے ۔حقوق کی پاسداری کا تو سرے سے کوئی نظام موجود ہی نہیں تھا تو انہوں ایک طرف سرمایہ پر تسلط حاصل کر لیا اور دوسری طرف مزدورں کی محنت کا استحصال شروع کر دیا ۔ اورساتھ ہی منڈیوں کی تلاش میں عالمی مہم جوئی پر نکل پڑے ایک طرف افریقہ میں گئے تو وہاں کے نظام کی کمزوریوں کو بھاپنتے ہوئے وہاں پر اپنی نو آبادیات قائم کیں ۔

دوسری طرف ہندوستان میں آئے تو وہاں پر سسٹم کی کمزوریوں کو دیکھا اور آپنی نو آبادیات قائم کیں اور یہاں کے وسائل کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ کارل مارکس نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یورپ ہندوستان کو فتح نہ کرتا اور یہاں کے وسائل اس کے ہاتھ میں نہ جاتے تو سرمایہ داری نظام اپنی کساد بازاری کی وجہ سے خود بہ خود ختم ہو جاتا ۔1930 میں جو کساد بازاری کا بحران آیا ۔وہ بہت پہلے آ چکا ہوتا ۔ اب یورپ نے اس سارے سفر میں یعنی یہاں تک پہنچنے میں جس سسٹم کو وجود بخشا وہ ہے سرمایہ داری ۔جہاں پر انہوں نے اپنا قومی نظام سرمایہ داری کی اساس پر قائم کیا ۔ وہاں پر انہوں نے اپنی نوآبادیوں میں بھی سرمایہ داری نظام قائم کر دیئے ۔

ے ہی ان کے گھر کی لونڈی ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ پیدائش کے عمل میں بنیادی عامل سرمایہ ہے۔ تو تقسیم کے عمل میں بھی سرمایہ کو بنیادی عنصر قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں محنت کا استحصال ہوا اور اس ہی سرمایہ کی تقسیم کے تنازعے پر دنیا کو دو عالمی جنگیں بھی دیکھنی پڑیں ۔ آج دنیا میں سرمایہ داری نظام کا سرغنہ امریکہ ہے جو نیو کلاسیکل سرمایہ داری کو اپنے ہاں رائج کر چکا ہے ۔ جس میں اسٹیٹ کو سرمایہ داری کے تابع کر دیا ہے سرمایہ کا یہ جو سفر آج امریکہ کی بالادستی کی شکل میں موجود ہے اس کا اگر اسلام کے ساتھ مواز نہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جائیگا ۔

اب اس فرسودہ اور انسانیت دشمن نظام کو ہم اسلام کے قریب قرارد یں تو یہ کتنا بڑا جرم اور زیادتی ہو گی ۔آج ہمارامذہبی طبقہ اپنی بے شعوری یا مفادات کی وجہ سے بڑی بڑی مراعات لیکر کتابیں لکھتا ہے اور سرمایہ داری کو عین اسلام ثابت کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے ۔ اب اگر یورپ کے دور عروج اور اسلام کے دور عروج کا موازنہ کریں تو اسلام نے جو نظام قائم کیا تھا اس میں زمین کو State کی ملکیت قرار دے کر لوگوں میں تقسیم کیا اس سے انتفاع کا حق تمام لوگوں کو یکساں دیا گیا ۔ اوراس کے نگران مقرر کئے گئے ۔اب اسلام کا مطمع نظر مفاد عامہ ہے اور سرمایہ داری کا استیصال انسانیت ہے ۔

اب اگر ہم ان کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ دونوں نظام ہمیں باہم متصادم نظر آتے ہیں ۔ مثلاً سرمایہ دار ی ذرائع پیداوار اور دولت کو ایک محصوص طبقے کی ملکیت ماننا ہے اور اس کے برعکس اسلام وسائل اور ذرائع و سائل کو دونوں کو کل انسانیت کی ملکیت تصور کرتا ہے ۔ اسلام انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے ا س پر قدغن لگاتا ہے ۔ اس کی تحدید کرتا ہے ۔ انفرادی ملکیت ایک فطری چیز ہے ۔ اس کو آپ روک نہیں سکتے ۔ سوشلزم نےایک دور میں انکار کیا جب اس کو ٹھوکریں لگیں تو بہ بھی کر لی ۔

اور انفرادی ملکیت کو انہوں نے اپنے ہاں جگہ دی اب اسلام انفرادی ملکیت کے بنیادی حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تحدید اس لئے کرتا ہے کہ ایک شخص کی انفرادی ملکیت سے دوسرے کا استحصال نہ ہو ۔ اس کے مقابلے پر سرمایہ داری نظام میں انفرادی ملکیت کا لا محدود تصورہے ۔ اسلام انفرادی ملکیت کو اجتماعی مفاد کے تابع کرتا ہے ۔ اسلام کے معاشی نظام میں مفاد عامہ سب سے بالاتر ہے جب کہ سرمایہ داری نظام میں مفاد عامہ کا کوئی تصور نہیں ۔ وہ تو مزدور کو بھی ایک Resoures کہتا ہے ۔ ہیومن ریسورس کہ وہ ہمارے لئے سرمایہ کمائے گا ۔تو مقصود بھی سرمایہ اور تمام معاشی سرگرمیوں کا حاصل تھی سرمایہ داری نظام کا تحفظ ہے ۔

اسلام کا نظام قائم ہو تا ہے تو اس میں حاکم اور محکوم کا حقوق کے حوالے سے کوئی فرق نہیں جب کہ سرمایہ داری نظام کے اندر لازم ہے کہ چند افراد و سائل پر قابض ہو کر حاکم بن جاتے ہیں۔اور باقی عوام کو محکوم بنا لیا جاتا ہے ۔ اور ان کی زندگی کا مقصد صرف محنت کر کے اپنی کمائی میں ٹیکس دے کر سرمایہ داری کا تحفظ کرنا ہے ۔

سرمایہ داری نظام اپنے مفادات کے لئے مذہب علاقہ اور انسانیت کو استعمال کرتا رہا ہے ۔ جب کہ اسلام ان تمام چیزوں کا قلع قمع کرتا ہے ۔ اب بھی تمام دلائل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام سرمایہ داری کا سخت مخالف ہے اب آج کے دور میں چونکہ معاشی دور ہے اگر دنیا میں اپنا کوئی وقار قائم کرنا ہے تو اپنا معاشی نظام بنانا ہو گا ۔ ورنہ سامراج ہمیں بے وقوف بناتا رہے گا ۔ کبھی عراق میں جمہوریت کو بنیاد بنا کر جنگ مسلط کی ۔ لیبیا میں بھی ایسا ہی کیا ۔ افغانستان میں مذہب کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر چڑھائی کر دی ۔ اب وہی دہشت گرد جو افغانستان میں امریکہ کے مخالف تھے شام کے مسئلے میں امریکہ اور داعش ایک ٹیبل پر ۔ یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے ۔ اس کے پس منظر میں بھی امریکہ کے معاشی مفادات ہیں ۔ اب وہ فرقہ واریت کو شام میں بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔

دنیا کی سنی آبادی کو دہشت گردی کا جامہ پہنا کر شام میں دھکیلا جاتا ہے ۔ جمہوریت کا نعرہ ہو یا میڈیا کی آزادی یا آئین کی بالادستی اگر یہ سارے نعرے سرمایہ داری نظام کے تحفظ کے لئے ہے تو یہ سامراج کی چال ہے ۔ اب ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم شعور ی طور پر سامراج کی چالوں کو سمجھیں اور اسلام کے انسان دوست نظام قائم کرنے کی حقیقی جدوجہد کا آغاز کریں

تحریر :عمران علی