بلاگ

انتہا پسندی کا خاتمہ ہونا چاہے؛ بھلے مذہبی ہو، لبرل ہو یا لسانی ہو

انتہا پسندی مذہبی ہو، لبرل ہو یا لسانی ہو، بہر صورت غلط ہے کہ اس کے نتائج زمین میں قتل وغارت اور فتنہ وفساد ہیں۔ سانحہ بہالپور میں کالج کے ایک نوجوان طالب علم نے انگریزی کے پروفیسر کو اس الزام پر چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا کہ وہ اسلام کے خلاف بولتے تھے۔ دوسری طرف سانحہ فیصل آباد میں ایک نوجوان لڑکی نے اس بنیاد پر اپنے ہی باپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ اسے اس کے آشنا سے میل جول رکھنے سے منع کرتے تھے۔ دونوں کے اقرار جرم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور دونوں کو ہی اپنے کیے پر شرمندگی کا احساس نہیں ہے۔

تیسری طرف کراچی میں جید عالم دین مفتی تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا کہ جس میں ان کا ایک گارڈ قتل اور ڈرائیور شدید زخمی ہوا۔ یہ تینوں مقتولین، پروفیسر یا باپ یا گارڈ، ان شاء اللہ عزوجل شہداء میں سے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا یہ معاشرہ ہر اعتبار سے انتہا پسندی کے رخ پر جا رہا ہے اور ہم فی الحال ایک دوسرے کو طعنے دینے میں لگے ہیں کہ فلاں طبقہ انتہا پسند ہے اور اس کی انتہا پسندی ہی معاشرے میں فساد کی اصل جڑ ہے۔ تو معشرے میں مذہبی انتہا پسندی ہے، میں مانتا ہوں۔ اسے ختم ہونا چاہیے، میں بھی اس کا قائل ہوں کہ ایک خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ سانحہ بہالپور میں انگریزی کے پروفیسر اہل حدیث تھے اور طالب علم بریلوی تھا اور آگے کی کہانی واضح ہے۔

لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ معاشرے میں جو بھی انتہا پسندی ہے، اس کی وجہ مذہبی ہے تو یہ سو فی صد غلط ہے۔ بلوچستان میں اگر کسی بس کو روک کر شناختی کارڈ دیکھ کر صرف پنجابیوں کو اتار کر ایک لائن میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے تو یہ کون سی مذہبی انتہا پسندی ہے! کراچی میں اگر بوری بند لاشیں ملتی رہی ہیں تو سب کو معلوم ہے کہ اس ظلم وستم اور قتل وغارت گری کے پیچھے مذہب کا عنصر نہیں تھا بلکہ یہ لسانی انتہا پسندی تھی۔ پھر پاکستان میں تو مذہبی لوگ بھی انتہا پسندی کا ٹارگٹ بن رہے ہیں تو یہاں انتہا پسندی کئی قسم کی ہے لہذا ہر طبقے میں ہر لیول پر ہمیں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: “کولمبس” انسانی تاریخ کاایک سیاہ باب

مثلا وویمن رائٹس کے لیے پچھلے دنوں عورتوں نے جس طرح سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے کہ ” لو، صحیح سے بیٹھ گئی ہوں” تو یہ بھی ایک انتہا پسندانہ طریق کار ہی تھا کہ جس کے نتیجے میں معاشرے میں ایسی لڑکیوں کی تعداد بڑھے گی جو اپنے باپ کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھائیں لیکن آپ کا طریقہ کار انتہا پسندانہ ہے کہ یہ اصلاح کی بجائے فساد برپا کرے گا۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ اسلام، اسلامی اقدار اور اسلامی شعائر کے حق میں آواز نہ اٹھائیں لیکن اگر آپ کا طریقہ کار انتہا پسندانہ ہے تو آپ بھی اسی جہالت کے ڈھیر پر کھڑے ہیں جہاں لسانی اور لبرل تحریکیں کھڑی ہیں۔

تو عورت مارچ کا رد عمل مذہبی طبقے سے اتنا نہیں آیا جتنا کہ ممی ڈیڈی بچوں کی طرف سے مرد مارچ کی صورت آیا کیونکہ عورت اور مرد کے حقوق کی جنگ کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بھئی۔ جب مذہب نہیں تھا، تب بھی یہ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے، مذہب نے تو آ کر ان کی صلح کروائی ہے۔ آج مغرب میں مردوں کے حقوق کی تنظیمیں وجود میں آ رہی ہیں کہ یہ عورتیں اپنے حقوق کے نام پر مردوں کے حقوق غصب کرنا شروع ہو گئی ہیں لہذا مرد مظلوم ہے اور اس کے حقوق کے لیے تنظیمیں بنانی چاہییں۔ تو خادم رضوی، عاصمہ جہانگیر اور الطاف حیسن صرف مذہبی طبقے میں نہیں ہیں بلکہ لبرل تحریکوں اور سیاسی جماعتوں میں بھی موجود ہیں، ان سب سے بچ کر رہیں تو ہی اپنے طبقے کے انتہا پسندوں سے بچ پائیں گے۔