بلاگ کالمز

انسان ناشکرا اور بے اعتبار کیوں ہے؟

اللہ اور انسان کا رشتہ بہت ہی خو بصورت اور مضبوط ہے۔ اللہ نے انسان کےلیے خوبصورت زمین بنائی اور پھر اس زمین کو مختلف نعمتوں سے سجادیا تاکہ انسان کےلیے زند گی گزرانا آسان ہوسکے۔مگر اس سب کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ جب سے انسان کا وجود عمل میں آیا ہے، تب سے ہی انسان اللہ کا نافرمان رہا ہے۔ انسان اللہ کے وجود کو تو مانتا ہے، مگر اللہ کے احکامات نہیں مانتا۔ اس نافرمانی کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام نے کی اور اسی وجہ سے ان کو جنت سے نکال دیا گیا۔ ہم اللہ کی نہیں مانتے، اس لیے تو ہماری زندگی الجھنوں کا شکار رہتی ہے اور ہم اس کو سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہماری زندگی کی ہر رہنمائی کےلیے اللہ نے قرآن اتارا۔اللہ نے انسان پر دہری ذمے داری ڈال کر بھیجی۔ ایک طرف تو اس کو دنیا کو لے کر چلنا ہے اور دوسری طرف آخرت کےلیے بھی خود کو تیار کرنا ہے۔ اس لیے قرآن میں دنیا اور آخرت دونوں کی بات کی گئی ہے

تاکہ انسان کے دل میں دونوں کے لیے رغبت پیدا ہوسکے۔ اسی طرح قرآن میں اللہ نے انسان سے کچھ وعدے بھی کئے اور واضح کردیا کہ ’’بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘‘۔ قرآن میں اللہ انسان سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے۔ سورۃ النسا میں ہے کہ ’’اے لوگو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک ظاہر روشنی اتاری ہے‘‘۔ مطلب کہ قرآن کریم کو ہماری اندھیری زندگی میں روشنی بنا کر بھیجا، مگر افسوس ہم اس روشنی سے غافل رہتے ہیں۔ اللہ نے پوری زندگی کی رہنمائی قرآن میں بیان کردی، مگر افسوس ہم سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور اسی غفلت نے ہماری زندگی کو مشکل ترین بنادیا ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ وہ انسان سے 70 ماؤں جتنا پیار کرتا ہے۔ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ مگر پھر بھی انسان کو جب بھی مشکل درپیش ہوتی ہے یا غم کا سامنا ہوتا ہے تو وہ غیروں کے پاس جاتا ہے۔

وہ اس پر یقین نہیں رکھتا جو فرماتا ہے کہ نااُمید نہ ہو، کمزور نہ بنو، مایوس نہ ہو، رنجیدہ نہ ہو۔ مگر جیسے ہی انسان زندگی میں مشکلات کی دلدل میں پھنستا ہے تو وہ اتنا ہی اللہ سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اور وہ اس دوری میں اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ اپنی زندگی تک کا خاتمہ کرلیتا ہے۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ سنتا ہے، وہ دیکھ رہا ہے۔ اسی حوالے سے اللہ نے قرآن میں وعدہ کیا کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔ مگر خود سے پوچھیں کہ کتنی بار مشکل میں پڑنے کے بعد آپ نے اللہ کے اس وعدے پر یقین کرتے ہوئے اس کو پکارا تھا۔ ہم دنیا کے وسیلوں پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں مگر اپنے رب کے وعدے کو فراموش کردیتے ہیں۔اللہ نے زند گی کے مختلف رنگ بنا دیے اور انہی رنگوں میں اپنی ذات کو بھی چھپادیا۔ جب خوشی ملے تو وہ شکر سے سر جھکنے کو پسند کرتا ہے اور جب مشکل پڑجائے تو صبر کرنے پر خوش ہوتا ہے۔

اللہ نے زندگی میں غم، مشکل ، ناکامی، اس لیے پیدا کیے تاکہ انسان اللہ کی طرف پلٹ سکے اور جان سکے کہ جو بھی مشکل آئی ہے اس کو صرف وہی دور کرسکتا ہے۔ اسی لیے تو اللہ نے وعدہ کیا کہ شکر ادا کرو گے تو مزید دوں گا۔ اسے شکر پسند ہے، کیونکہ شکر اور صبر ہی انسان کو بڑی سے بڑی مشکل برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو اشرف المخلوقات تو بنایا مگر بے بس ہی رکھا۔ اس نے رزق، موت جیسے بڑے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھے، تاکہ انسان اس کے علاوہ کسی پر انحصار نہ کرسکے۔ مگر انسان بھی عجیب فطرت رکھتا ہے۔ جب اس کو طاقت ملتی ہے تو یہ سرکش بن جاتا ہے اور جب آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے

۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کل ہم میں نااتفاقی بڑھتی جارہی ہے۔ اسی لیے تو مسلم اُمہ دنیا بھر میں مسائل کا شکار ہورہی ہے۔ باہمی اتفاق کے حوالے سے سورۃ آل عمران میں اللہ پاک نے فرمایا ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو‘‘۔ مگر آج مسلم اُمہ عربی عجمی، ذات پات، فرقہ بازی میں پھنس کر رہ چکی ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے کشمیر، فلسطین کے مسلمان مشکل ترین زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے اور اللہ کے وعدوں پر یقین نہیں کریں گے، تب تک اس دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل نہیں کرپائیں گے۔