ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

انسان اور جنات کے درمیان روابط و تعلقات

شیاطین و جنات کے حوالے سے سیکڑوں نہیں، ہزاروں واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں، مختلف بیماریوں میں ہماری اکثرخواتین آسیبی اور جناتی اثرات کا شکار نظر آتی ہیں اور پھر روحانی علاج کا سلسلہ پیروں فقیروں سے شروع ہوکر بزرگوں کے مزارات تک چلا جاتا ہے،ہمارے ایک قاری نے ای میل کے ذریعے ایک اہم اور دلچسپ سوال کیا ہے،وہ لکھتے ہیں ”میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض لوگوں پر جنات کا اثر ہوجاتا ہے اور اس کے اثر سے ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے جب کہ بعض لوگ کسی جناتی اثر کے باوجود بھلے چنگے نظر آتے ہیں اور جنات سے اپنے تعلقات کا اظہار فخریہ انداز میں کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو جن ہے، وہ نیک اور شریف ہے،ہماری رہنمائی کرتا ہے،بعض خواتین پر جنات کے عاشق ہونے کے بارے میں بھی ہم نے سنا ہے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسان اور جنات کے درمیان محبت وغیرہ کے امکانات موجود ہیں یا نہیں اور اس محبت کے نتیجے میں وہ آپس میں شادی اور دیگر ازدواجی تعلقات بھی قائم کرسکتے ہیں یا نہیں اور اس کے نتیجے میں اولاد کی پیدائش بھی ممکن ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر اس موضوع پر تفصیل سے رہنمائی فرمائیں“

جواب: عزیزم! آپ کا ایک سوال بے شمار سوالات کو جنم دیتا ہے اور ہر سوال کی تشریح خاصی طویل ہوسکتی ہے لیکن فی زمانہ چوں کہ جنات و آسیب زدگی کی وبا عام ہے اور خصوصاً خواتین اس مسئلے کا زیادہ شکار ہوتی ہیں لہٰذا ہم اس اہم موضوع پر ضرور تفصیلی روشنی ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ اس حوالے سے جو غلط باتیں اور گمراہ کن نظریات ہمارے معاشرے میں جعلی پیروں،فقیروں اور نام نہاد عاملوں کاملوں نے پھیلا رکھے ہیں، ان سے نجات مل سکے،آئیے اس مسئلے کو بالکل ابتدا سے دیکھتے ہیں۔
قرآن، حدیث اور روایات: قرآن اور احادیث کی روشنی میں جنات (ایک آتشی مخلوق) کا وجود ثابت ہے، دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کی تعلیمات میں بھی ان کے وجود سے انکار نظر نہیں آتا،البتہ قرآن کریم کی من مانی تفسیر کرنے والے سرسید احمد خان اور بعد ازاں غلام احمد پرویز جنات کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔

”مجموعہءفتاویٰ“ میں علامہ ابن تیمہ ؒ فرماتے ہیں ”جنات کے وجود کے سلسلے میں مسلمانوں میں سے کسی جماعت نے مخالفت نہیں کی اور نہ ہی اس سلسلے میں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو ان (جنوں کی) طرف بھی نبی بناکر بھیجا تھا۔اکثر کافر جماعتیں بھی جنوں کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں، یہودو نصاریٰ جنوں کے بارے میں اسی طرح اعتقاد رکھتے ہیں جس طرح کہ مسلمان البتہ ان میں کچھ لوگ اس کے منکر ہیں، جیسا کہ مسلمانوں میں جہیمہ اور معتزلہ (ابتدائی دور کے دو فرقے) وغیرہ اس کا انکار کرتے ہیں، حالاں کہ جمہورائمہ اس کو تسلیم کرتے ہیں“۔

علامہ ابن تیمہؒ مجموعہ ءفتاویٰ میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”مسلمانوں کی تمام جماعتیں جنوں کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں، اسی طرح تمام کفار اور عام اہل کتاب بھی اسی طرح مشرکین ارب میں اولاد حام، اہل کنان و یونان میں اولاد یافث، غرض جملہ فرقے اور جماعتیں جنوں کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں“۔

بحیثیت مسلمان جنات کے وجود کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس سلسلے میں انبیاءکرام سے تواتر کے ساتھ واقعات قرآن ، احادیث اور کتب تفاسیر و تاریخ میں موجود ہیں، ان ہی واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنات جاندار اور عقل و فہم رکھنے والی آتشی مخلوق ہیں ، وہ جو بھی کام کرتے ہیں، اپنے ارادے سے کرتے ہیں، بلکہ وہ امرونہی کے بھی مکلف ہیں۔جب جنات کا معاملہ اس قدر تواتر و تسلسل کے ساتھ ثابت ہے کہ ہر خاص و عام یہ جانتا ہے پھر اس کا انکار کسی ایسی جماعت کے شایان شان نہیں جو خود کو رسولوں کی طرف منسوب کرتی ہو۔

اس ساری بحث کے بعد آئیے اب اس امکان کا جائزہ لیتے ہیں کہ جب ایک ایسی آتشی مخلوق موجود ہے تو اس کے ایک خاکی و آبی مخلوق انسان سے روابط و تعلقات کی نوعیت کیا ہوسکتی ہے؟سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہو ہی چکا ہے کہ حضور انسانوں کی طرف ہی نہیں ، جنات کی طرف بھی نبی بناکر بھیجے گئے تھے اور آپ نے مومن جنات کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ تمہارے بھائی ہیں، ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث موجود ہے کہ ”گوبر اور ہڈی سے استنجے نہ کرو اس لیے کہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی غذا ہے“۔ صحیح الجامع جلد دوئم۔ صفحہ 154.

صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ”مجھے ایک جن نے دعوت دی، میں اس کے ساتھ گیا، ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، وہ جن ہمیں ایک جگہ لے گیا اور جنوں کے مکانات اور آگ کے نشانات دکھائے، ان لوگوں نے آپ سے کھانا مانگا تو آپ نے فرمایا، تمہارے لیے ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہوگا، گوشت بن جائے گی اور جانوروں کی مینگنی تمہارے مویشیوں کے لیے چارا ہے چناں چہ نبی نے فرمایا لہٰذا تم لوگ ان دونوں چیزوں سے استنجیٰ نہ کرو اس لیے کہ وہ تمہارے بھائیوں کی غذا ہے“

جنات کی اس مخصوص غذا کے علاوہ بھی ان کی دیگر غذاو¿ں سے رغبت کا پتا چلتاہے، اس سلسلے میں بے شمار روایات بھی موجود ہیں اور لوگوں کے ذاتی تجربات و مشاہدات بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی مخصوص خوراک کے علاوہ دیگر تمام انسانی غذائیں بھی کھاتے ہیں۔

حیدرآباد دکن میں مٹھائی کی دکانیں رات بارہ بجے کے بعد بھی دیر تک کھلا رکھنے کا رواج تھا، اس سلسلے میں کہا یہ جاتا تھا کہ رات بارہ بجے کے بعد جنات خریداری کے لیے نکلتے ہیں، یہ خیال حیدرآباد دکن تک ہی محدود نہیں بلکہ برصغیر انڈوپاک میں ایسے واقعات عام رہے ہیں۔

جنات میں شادی بیاہ کا رواج بھی قرآن و حدیث و دیگر روایات سے ثابت ہے لہٰذا ان میں نسلی ارتقا کے سلسلے جاری و ساری ہونا بھی ایک طے شدہ امر ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنات اور انسان کے درمیان بھی شادی بیاہ یا دوسرے معنوں میں جنسی تعلقات ممکن ہیں؟

آگ اور پانی کا ملاپ: اس سوال کا جواب بھی ہمیں احادیث، روایات اور عام انسانی مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں ملتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے ایسے بہت سے واقعات نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور جنوں میں شادی بیاہ ہوسکتا ہے، علامہ ابن تیمہؒ اپنی کتاب مجموعہ الفتاویٰ میں رقم طراز ہیں کہ ”کبھی کبھی انسان و جنات آپس میں نکاح کرتے ہیں اور ان کی اولاد بھی ہوتی ہے، یہ چیز بہت مشہور اور عام ہے“

حضور کا یہ ارشاد بھی احادیث میں موجود ہے”آدمی جب اپنی بیوی سے ہم بستری کرتا ہے تو بسم اللہ نہیں پڑھتا تو شیطان اس کی بیوی سے مجامعت کرتا ہے“۔یہ حدیث بھی موجود ہے کہ حضور نے جنات سے شادی کرنے کو منع فرمایا ہے، اسی طرح فقیہانِ اسلام نے بھی جنات اور انسانوں میں شادی بیاہ کو ناجائز قرار دیا ہے، چناں چہ اس فعل کو ممنوع اور مکروہ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا ممکن ہے، اگر ممکن نہ ہوتا تو شریعت میں اس کے جواز و عدم جواز کا فتویٰ نہ لگایا جاتا۔

اب یہاں سے ایک نئی بحث شروع ہوتی ہے یعنی یہ اعتراض کہ جنات آتشی مخلوق ہیں اور انسان خاکی و آبی لہٰذا یہ آگ و پانی کا ملاپ کیسے ممکن ہے اور اس ملاپ کے نتیجے میں اولاد کا ہونا خلاف عقل و شعور ٹھہرتا ہے، معترضین اس سلسلے میں دلیل یہ دیتے ہیں کہ جنات کے آتشی عنصر کی وجہ سے عورت کا حاملہ ہونا ممکن نہیں کیوں کہ نطفہ انسانی میں رطوبت ہوتی ہے جو یقیناً آگ کی گرمی سے خشک ہوکر ختم ہوجائے گی یا یہ کہ جس طرح نطفہءانسانی عناصر مٹی و پانی کے سبب رطوبت پر مشتمل ہوتا ہے اسی طرح نطفہ جنات آگ و ہوا کے زیر اثر رطوبت سے عاری اور خشک ہوگا لہٰذا دونوں کا اتصان قرین قیاس نہیں ہے۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے۔ہر چند کہ جنات کی تخلیق آگ ہوا کے عنصر پر ہوئی لیکن اپنی تخلیق کے بعد وہ اپنے عنصر پر باقی نہیں رہے بلکہ کھانے پینے اور توالدوتناسل کے عمل سے دوسری حالت میں بدل گئے جیسا کہ آدم کی اولاد اس عمل کی وجہ سے مٹی کے عنصر سے دوسری حالت میں بدل گئی یعنی ہم مٹی اور پانی سے تخلیق پانے کے باوجود اپنی اصل پر قائم نہیں ہیں، گوشت و پوست،خون اور ہڈیوں کا ملغوبہ ہیں، مائع کی شکل میں اس گوشت و پوست و ہڈیوں کے ساتھ خون اور دیگر رطوبات بھی ہمارے اندر موجود ہیں، بالکل اسی طرح جنات بھی اپنے ابتدائی تخلیق عمل کے بعد اپنے عنصر کی اصلیت پر باقی نہیں ہیں بلکہ ایک ایسی حالت پر ہیں جس میں وہ انسانوں کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کے ساتھ کھانے پینے اور اپنی نسل کو بڑھانے کے عمل سے متصف ہیں لہٰذا مندرجہ بالا اعتراض کو انسان اور جن کے جنسی تعلق پر وارد نہیں کیا جاسکتا۔
اب اس موقع پر حضور اکرم کا ایک ارشاد ملاحظہ کیجیے، آپ نے فرمایا” نماز میں مجھے شیطان نظر آیا تو میں نے اس کا گلا دبوچ لیا جس سے مجھے اپنے ہاتھوں میں اس کے تھوک کی برودت محسوس ہوئی، اگر میرے بھائی سلیمان کی دعا مجھے یاد نہ آجاتی تو میں اسے قتل کردیتا“،اس موضوع پر کئی احادیث موجود ہیں، ایک حدیث کے الفاظ یہ بھی ہیں کہ میں اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیتا، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق یعنی شیطان کے منہ میں تھوک یعنی نمی موجود تھی، اگر وہ اپنے آتشی عنصر پر برقرار ہوتا اور سرتاپا آگ ہوتا تو پھر اس میں کسی بھی قسم کی نمی یا تراوٹ کا کیا کام؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ مندرجہ بالا اعتراض میں کوئی جان نہیں ہے۔

جنات اور انسان کے روابط: جنات اور انسانوں میں شادی بیاہ یا جنسی تعلقات کے واقعات قبل اسلام اور ظہور اسلام کے بعد بھی ملتے ہیں، اس حقیقت سے جہاں انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضور کی بعثت کی خبر بھی ابتدا میں جنات نے انسانوں کو دی۔

طبرانی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مدینے میں ایک عورت کے کسی جن سے تعلقات تھے،وہ اس کے پاس اکثر آتا رہتا تھا، پھر اچانک غائب ہوگیا، ایک روز پرندے کی شکل میں دیوار پر آکر بیٹھ گیا، عورت نے پاس بلایا تو اس نے جواب دیا کہ مکے میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں جنہوں نے زنا کو حرام کردیا ہے، ایسی ہی ایک روایت اور موجود ہے کہ اسے علامہ ترمذیؒ نے اپنی کتاب ”حیات الحیوان“ میں درج کیا ہے، خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ایک جن عورت کے پاس آتا اور زنا کیا کرتا تھا ایک روز وہ آیا اور دیوار پر پیر لٹکا کر بیٹھ گیا، عورت نے کہا آج کیا بات ہے؟ جو تو پاس نہیں آتا“، اس جن نے جواب دیا کہ میں ابھی ابھی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی۔”زناکار عورت اور مرد، ہر ایک کو سو کوڑے مارے جائیں“۔

ممکن ہے یہ دونوں واقعات ایک ہی ہوں، یہی روایت امام بیہقیؒ نے امام زین العابدینؓ سے روایت کی ہے کہ پہلے پہل آنحضرت کی بعثت کی خبر مدینے میں ایک جن کے ذریعے پہنچی تھی۔ایک اور روایت ابن عساکر اور خزائنی نے ابن قیس کے حوالے سے بیان کی ہے کہ ایک دن حضور کی محفل میں کاہنوں اور کہانت(غیب کی پیش گوئیاں) کرنے والوں کا ذکر چھیڑا اور اس سلسلے میں لوگ اپنے چشم دید واقعات و حالات بیان کرنے لگے، ابن قیس نے بیان کیا کہ مجھے بھی اس سلسلے میں ایک عجیب اتفاق پیش آیا، ایام جاہلیت میں میرے پاس ایک لونڈی تھی، اس کا نام خلصہ تھا، اس لونڈی نے ایک روز ہمیں بتایا کہ ان دنوں مجھ پر ایک عجیب حالت گزر رہی ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ تم مجھ پر بدکاری اور حرام کاری کا الزام نہ لگادو، صورت یہ ہے کہ ہر روز ایک سیاہ فام وجود مجھ سے ہم بستر ہوتا ہے، چناں چہ چند ماہ بعد وہ لونڈی حاملہ ہوگئی پھر وقت مقررہ پر اس نے ایک بچہ جنا جس کے کان کتے کی طرح تھے اور اس کی شکل بھی عام انسانوں کی طرح نہ تھی، جب وہ کچھ بڑا ہوا تو کاہنوں کی طرح باتیں کرنے لگا اور لوگوں کو آئندہ کے واقعات اور غیب کی خبریں بتاتا تھا، ایک دن اس نے بتایا کہ تمہارے دشمن فلاں جگہ چھپے ہوئے ہیں اور تمہاری گھات میں ہیں، جب ہم وہاں گئے تو ہم نے وہاں دشمنوں کو موجود پایا، آخر ایک روز وہ اچانک خاموش ہوگیا، لوگوں کے بے حد اصرار پر بھی کچھ نہیں بتاتا تھا، پھر اس نے کہا کہ مجھے ایک کمرے میں تین روز کے لیے بند کردو چناں چہ ایسا ہی کیا گیا، تین روز بعد اسے کمرے سے نکالا گیا تو اس نے ہمیں یہ خبر دی کہ آخری نبی مکے میں مبعوث ہوچکے ہیں اور میری زبان بند کردی گئی ہے، اب میں غیب کی کوئی خبر نہیں بتاسکتا، اس کے بعد وہ زمین پر لیٹ گیا اور مرگیا“۔یہ واقعہ بھی مختلف روایات میں تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ مختلف انداز میں نقل ہوا ہے، بعض روایات میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ حضور نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی۔

تحریر : انور فراز

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...