بلاگ کالمز

ادھورے خواب کی دہلیز پر

میری آنکھ کُھلی تو ایک ساعت کے لئے گماں ہوا کہ خواب حقیقت ہوگیا ہے، گہری نیند سے اچانک جاگنے پر جو چند لمحے ہم خواب سی کیفیت میں گزارتے ہیں، بعض اوقات یہ چند لمحے ہی زندگی کا حاصل محسوس ہوتے ہیں۔ ہاں تو جب میری آنکھ کُھلی تو میں ایک ادھورے خواب کی دہلیز پھلانگ رہا تھا، یقین کرو دل دھڑک سا اُٹھا، لگا میں نے بلآخر وقت کو شکست دے ہی ڈالی۔ ارے توبہ کرو، وقت کو بھی بھلا کوئی شکست دے پایا ہے؟ وہ بھڑک کر بولی۔ وقت تو فاتح ہے۔ دنیا کو زیر کر رکھا ہے اِس نے، پھر بھلا تمہیں کیوں لگا کہ تم نے وقت کو شکست دے دی؟ اُس کی بات سُن کر میں بھی لمحے بھر کو ٹھٹکا، ریڑھ کی ہڈی تک سرسراتی سردی نے مجھے احساس دلایا کہ لحاف سرک چکا ہے، میں نے خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے لحاف کو اچھی طرح لپیٹ لیا اور وہ ہمیشہ کی طرح آرام دہ کرسی پر دراز تھی۔ نہ جانے کیوں اُس کے چہرے سے ذرا بھی ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ دسمبر کی جوان سردی اُس پر ذرا بھی اثر انداز ہوئی ہو۔ بتاؤ؟

کیوں لگا تمہیں کہ تم نے وقت کو شکست دے دی؟میں نے آنکھیں بند کیں اور اُس احساس کی کیفیت کو مانپنے لگا، پتہ نہیں کیوں خواب کی اِس ادھوری دہلیز پر مجھے اس کیفیت کا احساس ہوا جسے خوشی یا غم کے پیمانوں سے مانپا نہیں جاسکتا، وہ کیفیت جو محسوسات سے ماورا ہے مگر اپنے ہونے کے احساس کو کھونے بھی نہیں دیتی۔ یوں جیسے ہم کسی ہِل اسٹیشن پر بادلوں کے بیچ چل رہے ہوں، نمی کے وجود کا احساس ہوتا ہے پر نمی نظر نہیں آتی۔تم خاموش ہو مگر تمہارے لبوں پر ایک ادھ کِھلی سی مسکراہٹ ہے، وہ پھر سے کہنے لگی۔ لگتا ہے تم جاتی سردیوں اور آتی بہار کے سنگم پر کھڑے ہو۔ میرا سانس رُک گیا۔ وہ میری سوچ پڑھ رہی تھی مگر تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ آخر تمہیں کیوں کر لگا کہ تم نے وقت کو شکست دے ڈالی ہے؟

میں نے ایک گہرا سانس لے کر اُس کے چہرے کی جانب دیکھا اور کہنے لگا۔ کیا خواب ہماری نا آسودہ خواہشوں کا عکس ہوتے ہیں؟ خواہشوں کی وہ تمام ٹرافیاں جنہیں زندگی کے اکھاڑے میں وقت ہم سے جیت کر اکھٹا کرتا ہے، خواب ایک ہی جست میں ہمیں اُن تمام ٹرافیوں پر ہمارا اختیار دے دیتا ہے۔ مجھے لگا میں ایک ایسی ہی ٹرافی کو سینے سے لگائے ادھورے خواب کی دہلیز پار کرجاؤں تو شاید وقت کو شکست دے سکوں، میں نے اپنے بازؤں کا حلقہ اپنے گرد تنگ کیا ہوا تھا، شاید یہ بڑھتی ہوئی سردی کی وجہ سے تھا مگر مجھے لگا کہ میں کسی خواہش کو سینے سے لگائے بیٹھا ہوں۔وہ ہنس پڑی، کھلکھلا کر۔ مجھے اُس کی ہنسی کی بس اِس قدر ہی آواز آئی جیسے صحن میں گل لالہ کے سوکھے پودوں سے ہوا رگڑ کھا کر گزری ہو۔

ارے وقت کی جیتی ہوئی ٹرافیاں تو ہمارے لئے شجر ممنوعہ ہیں، اُنہیں جس نے چُھو لیا وہ پتھر کا ہوگیا۔ مجھے لگا میرے بازؤں کی گرفت یکایک کمزور پڑگئی ہو۔ وہ کہتی رہی… جب انسان اپنی خواہش کا متلاشی نہیں تھا اُس زمانے میں وقت انسان کے قدموں کی دُھول تھا۔ خواہش ایک چمکتی ہوئی ٹرافی کی طرح جنت کے ایک کونے میں ایستادہ تھی اور انسان کو اسے چھونے سے روک دیا گیا تھا۔ کسی خواہش کو رد کرنا اُس سے بڑی خواہش کو جنم دیتا ہے۔ شیطان نے سجدے کی خواہش کا انکار کیا اور اُس سے بڑی خواہش کے گھن چکر میں پھنس گیا۔ انسان نے سرِ تسلیم خم کیا اور خواہش سے لڑنے کی اجازت طلب کی جو اُسے مل گئی۔ ہم ایسی ہی خواہشوں کی ٹرافیوں کو وقت کے بند ریک میں دیکھتے ہیں اور چھونے کی حسرت لئے خواب سی زندگی بسر کرلیتے ہیں۔ کیسی راحت ہے یہ؟راحت؟ میں چِلایا۔ غصے کی حدت سے سردی کا احساس بھی لمحے بھر کے لئے معدوم ہوگیا۔ کہتے ہیں صحرا کی موت بہت دردناک ہوتی ہے،

پیاس کی شدت میں انسان کو سراب نظر آتے ہیں، نخلستان کے خواب۔ وہ آگے بڑھتا ہے، سسکتا ہے، ایڑیاں رگڑ کر گھسیٹتا ہوا نخلستان کی طرف بڑھتا ہے مگر وہاں کچھ نہیں ہوتا۔ تم جانتی ہو خواہش کی موت کیا ہے؟ کہ وہی بھوکا پیاسا انسان شہر کی کسی اعلیٰ بیکری کے سامنے ہو مگر اُسے کچھ کھانے پینے کی اجازت نہ ہو، اور تم کہتی ہو کہ بڑی راحت ہے اس میں؟اُس نے پہلو بدلا اور کہنے لگی۔ دیکھو باہر برف پڑنا شروع ہوئی ہے یا نہیں، مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ گرم گرم لحاف چھوڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھوں مگر اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے اپنا کیمرہ تیار رکھا ہوا تھا تاکہ سردیوں کی پہلی برفباری کے لمحات کو قید کرسکوں۔ ہم سب سردیاں ہوتے ہی برف باری کا انتظار کرنے لگتے ہیں، سردیوں کی ساری کوفت، ٹھٹھرتی ہوئی ہوا، بجتے ہوئے دانت، سردی کی وجہ سے رکے ہوئے سارے کاموں کی کوفت کا بہلاوہ بس پہلی برفباری میں پنہاں ہے۔بالکل، وہ پھر سے گویا ہوئی۔ تم صحیح سوچ رہے ہو (ایک بار پھر اُس نے میری سوچ پڑھ لی)۔

ہر خواہش مشکلات کے کیچڑ میں کِھلے ہوئے کنول کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ ہم ہر دُکھ ہر تکلیف محض اُس خواہش کے حصول تک برداشت کرتے ہیں۔ جُوں ہی خواہش کو چھو لیتے ہیں وقت ہم سے جیت جاتا ہے اور ہماری صدیوں کی محنت کو لذت کے ایک لمحے میں قید کرکے ہم سے چھین کر لے جاتا ہے۔اُس نے جُوں ہی یہ بات کی مجھے میرا خواب یاد آنے لگا اور میں آنکھیں موندے اُس خواب کو محسوس کرنے لگا، میں ایک ادھورے خواب کی دہلیز پر اُس سے ملا اور ہزاروں سال اُس کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد ایک شام اُس کا ہاتھ تھامے ہوئے اُس ادھورے خواب کی دہلیز پار کرکے حقیقت میں آگیا۔ انسان نے جنت کے کونے میں ایستادہ

خواہش کو ایک بار پھر چھولیا اور وقت نے میرے صدیوں کے ساتھ کو ایک لمحے کی لذت میں قید کردیا۔ اُسے بس ایک لمحے جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کی لذت۔ میں نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ ایک خالی آرام کرسی میری نگاہوں کے سامنے جھول رہی تھی۔ سرد ہوا کا ایک تیز جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور میں نے چونک کر دیکھا تو کھڑکی کھلی تھی اور ادھورے خواب کی دہلیز پر موسم کی پہلی برف کے روئی سے گالے گر رہے تھے۔