ادب

عمران خان پلیز۔ تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئےمستنصر حسین تارڑ

قارئین میں اچھا بھلا ویت نام سے کمبوڈیا پہنچ چکا تھا، شہر سیم ریپ کی شب میں ’’پب سٹریٹ‘‘ کی رنگینیوں کے بارے میں کالم باندھنے کو تھا جب ملک کے سیاسی کامیڈی تھیٹر میں کیا ہی لاجواب مزاحیہ کھیل پیش کیا جانے لگا۔ ایسی ایسی جگتیں کی جانے لگیں کہ بے چارے امان اللہ اور سہیل احمد نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے اور کہا کہ بھاجی یہ سیاست والے ہم سے بڑے کامیڈین ہیں، چنانچہ میں نے سوچا کہ کمبوڈیا پھر سہی، میں بھی اس کامیڈی تھیٹر میں شامل ہو کر کچھ مسخریاں کرلوں۔چنانچہ کالم باندھنے کوتھا اسے کھول دیا۔ کہ جا تو وقتی طور پر آزاد ہے، جا کر رس ملائیاں وغیرہ کھا اگرچہ تیرے پاس لاہور روانہ کرنے کے لیے کوئی سرکاری جہاز نہیں ہے جو تیرے لیے رس ملائیاں لے کر آوے تو خود ہی پیدل جا۔ میں فی الحال کچھ مسخریاں کرنے کے موڈ میں ہوں۔ جدھر دیکھتا ہوں لوگ سٹاپ واچز پر حساب لگا رہے ہیں گنتی کر رہے ہیں کہ ہائے ہائے آج پورے دس روز چار گھنٹے انیس منٹ ہو گئے ہیں عمران خان کو حلف اٹھائے اور ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کہاں ہے وہ تبدیلی کہ جس کا ہم سے وعدہ تھا۔ کدھر ہے نیا پاکستان، ابھی تک وجود میں نہیں آیا۔ اب ولادت کے لیے پورے نو ماہ تو ہم انتظار نہیں کرسکتے۔

ہماری گود ابھی ہری ہونی چاہیے۔ ایک مولانا ٹیلی ویژن پر کہہ رہے ہیں، ہمارا خیال ہے کہ عمران آئے گا تو دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی، انصاف ملے گا، پاکستان بدل جائے گا لیکن ابھی تو کوئی ایسی خبر نہیں آئی۔ ایک طلال چوہدری صاحب ہیں اور ایسے ہیں کہ پارک کے ایک دو ساتھی اور شاہ صاحب مجھے ہمیشہ ’’چوہدری صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ پہلے نہیں ہوتا تھا، اب شرمندہ سا ہو جاتا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ انہیں منع کردوں کہ ذرا بے عزتی ہوتی ہے۔ یہ چوہدری صاحب ہم نے دیکھا کہ میاں صاحب کی ’’جی ٹی روڈ لونگ مارچ‘‘ کے دوران ان کی کارکی چھت پر مٹک مٹک کر رقص کر رہے ہیں اور اتنا اچھا کر رہے تھے کہ اناڑی ہرگز نہیں لگتے تھے تو یہ چوہدری صاحب جو شاید نااہل بھی ہو چکے ہیں، ٹیلی ویژن پر اپنے آنسو پونچھ پونچھ کر پوچھتے، نہیں، پونچھتے تھے کہ ایک ہفتہ گزر گیا۔ کہاں ہے وہ تبدیلی، کہاں ہے نیا پاکستان۔ عمران خان نے ہم سے فریب کیا ہے۔ اچھا اسی شوروغل میں سلیم صافی نے کامیڈی تھیٹر میں انٹری دے دی۔ میں ذاتی طور پر میڈیا پر نمودار ہونے والے ان سینئر سیاسی تجزیہ نگاروں میں سے تقریباً کسی ایک کو بھی نہیں جانتا کہ یہ پرندے میری نسل کے نہیں، کبھی اس ڈالی پر کبھی اس ڈالی پر، جدھر سے چوگا ڈالا گیا اس شاخ پر جا چہچہائے۔ چنانچہ میں صافی کو بھی ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ اگرچہ جب کبھی انہیں اتفاقاً سکرین پر نمودار ہوتے دیکھتا تھا تو وہ ملک کے اہم ترین لوگوں کے ساتھ فخر سے تصویریں اتروا رہے ہوتے تھے اور وہ ہمیشہ مجھے کسی حد تک پرتکبر لگے، خدائی فرمان جاری کرنے لگے۔

بہرحال ان دنوں وہ سوشل میڈیا پر ایک ’’ہاٹ آئٹم‘‘ ہیں۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا اس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا، البتہ سوشل میڈیا پر جو کچھ ’’فرمایا‘‘ گیا وہ بہت نامناسب تھا۔ البتہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے فرمان کی وجہ سے خلق خدا کی تمام تر تخلیقی اور ادبی خفتہ صلاحیتیں یکدم بیدار ہوگئیں۔ ایسے ایسے کومنٹس آئے کہ جی خوش ہو گیا کہ ہائیں پاکستانیوں میں مزاح کی ایسی حس بھی موجود ہے اور بہت سے ایسے کومنٹس آئے کہ جی پراگندہ ہوگیا۔ مجھے بہت رنج ہوا۔ یہاں بلندی بھی تھی پر پستی بہت تھی۔ مجھے صافی صاحب سے ہمدردی ہے۔ آئندہ انہیں آ بیل مجھے مار نہیں کہنا چاہیے۔ اگرچہ خبط عظمت میں انہوں نے یہ بیان بھی شاید دیا ہے کہ وزیراعظم ہائوس ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ یعنی خان صاحب کی یہ اوقات ہے کہ وہ صافی کے خلاف دن رات سازشوں میں مصروف ہیں۔ خان صاحب اگر آپ نے ایسا کیا توگویا ہمیں بے عزت کردیا۔ اگر تو شریف خاندان یعنی مریم بی بی کا حکمران خاندان، دن رات عمران خان کو کوسنے دے۔ اس پر لعن طعن کرے کہ جا تیرا ککھ نہ رہوے، تجھے چھپاکی نکلے، تیرے گھر گڑ کے چاولوں کی دیگ چڑھے اور تو کھانہ سکے کہ تجھے شوگر کی بیماری ہو۔

جا تیرے بنی گالا میں بی بی بشریٰ صدقے کے طور پر کالا بکرا حلال کرے اور اس کا گوشت اتنا سخت ہو کہ تو کھا نہ سکے۔ جاتیری ’’چنی‘‘ آنکھیں مزید چنی ہو جائیں۔ جو گنگ کرتے ہوئے تیرے جوگر کے تسمے کھل جائیں اور تو دھڑام سے گر جائے اور …اور… اگر شریف خاندان یہ سب کوسنے دے تو میں ان کو سراسر حق بجانب سمجھوں گا۔ بلکہ اس سے کیا آگے جا کر اس کے مرنے کی دعائیں مانگیں تو بھی ان کو دوش اس لیے نہ دوں گا کہ اگر عمران خان نہ ہوتا تو آج حمزہ شہزادہ پنجاب کا لارڈ ہوتا۔ شہبازشریف وزیراعظم ہوتا اور وڈے میاں صاحب شاید صدر مملکت کے عہدے پر براجمان ہو کر رس ملائیاں کھا رہے ہوتے اور مریم شہزادی تخت طائوس پر براجمان ہو کر پلکیں جھپک رہی ہوتی اور گلیاں ہو جان سنجیاں وچ شریف یار پھرے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا۔ میاں صاحب اور ان کی لائق بیٹی پہلی مرتبہ عید لندن کی بجائے پاکستان میں منا رہے ہیں اور سب سے زیادہ خوش اڈیالہ جیل کے قیدی ہیں جنہیں ندگی میں پہلی بار دس دس پائونڈ کے کریم کیک میاں صاحب کی وجہ سے کھانے کو ملے ہیں تو وہ ان کے لیے یہی دعا کرتے ہوں گے کہ اللہ کرے آپ اگلی عید پر بھی ہمارے پاس ہی ہوں کہ ابھی نہ جائو چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں۔

اچھا ایک اور کامیڈی ایکٹ ان صحافی حضرات کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے جنہوں نے عمران خان کی سیاست اور جذبے کو سراہا۔ اب وہ حکومت میں آیا ہے تو ان حضرات کی خواہش ہے کہ عمران صرف اور صرف ان کے مشورہ جات پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کو چلائے۔ چنانچہ ذرا کہیں انہیں اختلاف ہوتا ہے تو وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں کہ فلاں کو چیف منسٹر کیوں لگایا۔ فلاں کو مشیر کیوں لگایا۔ ملک کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔ میں عمران سے کہتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ۔ یہ لوگ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ وہ اپنی مرضی کا عمران خان چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ مربیانہ سلوک کرنا چاہتے ہیں کہ بچے ہمارے مشوروں پر عمل کرو گے تو فلاح پائو گے ورنہ……… اس دوران سیاست کے کامیڈی تھیٹر میں دو نئے اداکار داخل ہو گئے۔ صدرممنون حسین لندن یاترا پر جاتے ہیں اور ان کے استقبال کے لیے میاں صاحب کے مفرور قرا ر دیئے گئے بیٹے چلے آتے ہیں۔ صدر صاحب اگر لندن میں بیگم کلثوم کی عیادت کے لیے جاتے ہیں تو یہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے، انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا لیکن لندن میں وہ ایک بیان دیتے ہیں کہ ایک کرپٹ شخص خدا کی پکڑ میں آ جاتا ہے چاہے وہ بہت مدت نہ پکڑا جا سکے۔

انہوں نے کچھ عرصہ پہلے پاناما کے حوالے سے بس اس نوعیت کا بیان دیا تھا۔ شاید بالآخر انہوں نے اپنی صدارت کے دوران جو کچھ دیکھا اسے بیان کر کے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کیا۔ اگرچہ بعد میں کہنے لگے کہ نہیں نہیں یہ بیان میاں نوازشریف کے بارے میں نہیں ہے تو حضرت ممنون ہمیں ممنون فرمائیں اور بتائیں کہ یہ بیان کیا برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے بارے میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو پاکستان کے صدر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار قرار دینا شاید اس ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا مذاق ہے۔ نون لیگ اتنی پستی میں گر سکتی ہے اس کا یقین اب بھی نہیں آتا۔ ایک دوست کا کہنا ہے کہ دراصل نون لیگ نے پاکستانی عوام سے بدلہ لینے کی خاطر ان کی نامزدگی کی ہے کہ جا تیرا ککھ نہ رہوے، تیرا صدر فضل الرحمن ہو جائے۔ قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے۔ آپ جانتے ہیں کہ سکول کے بچوںکو محظوظ کرنے کے لیے اکثر کسی میجیشن یعنی جادوگر کو بلایا جاتا ہے جو سٹیج پر آ کر کبھی اپنے منہ سے لوہے کے گولے نکالتا ہے، کبھی اپنی ساتھی لڑکی کے دو ٹکڑے کر کے پھر سے جوڑ دیتا ہے لیکن اس کا سب سے بڑا کرشمہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا لمبوترا ہیٹ سر سے اتار کر اس میں سے متعدد خرگوش برآمد کرتا ہے اور بچے تالیاں بجاتے ہیں تو ان دنوں سیاسی کامیڈی تھیٹر کے جتنے بھی کامیڈین اخباروں اور میڈیا میں جگتیں کر رہے ہیں کہ دس دن گزر گئے، دس دن اور اتنے گھنٹے اوراتنے منٹ اور سیکنڈ گزر گئے تو تبدیلی نہیں آئی۔

کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے تبدیلی صرف ان کے لیے عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ ایک جادوگر کی مانند اپنا لمبوترا ہیٹ اتار کر اس میں سے تبدیلی کے خرگوش کانوں سے پکڑ کر نکالیں اور کہیں کہ حضور آپ کی فرمائش کے مطابق تبدیلی کے خرگوش پیش کرتا ہوں اور اگر کچھ دشواری ہے تو خرگوش نہ سہی ایک دو مینڈک ہی برآمد کر کے انہیں ان مینڈکوں میں چھوڑ دیں جو کامیڈی تھیٹر ٹراتے پھرتے ہیں۔ ویسے میری ذاتی خواہش یہی ہے کہ خرگوش ہی برآمد کرلیں۔ پلیز عمران خان میری اس معصوم سی خواہش کو پورا کردیجئے۔

لکھاری کے بارے میں

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔

Loading...