بلاگ خبریں

آئی ایم ایف اور پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یاانٹرنیشنل مونیٹری فنڈ( IMF) ایک عالمی ادارہ ہےـ یہ ادارہ 1945 میں قائم ہوا اسکا مرکزی دفتر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہےـ اس وقت دنیا کے185 ممالک اسکے رکن ہیں شمالی کوریا اور کیوبا اور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں ـIMF پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہےـ
یہ ادارہ تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اپرکچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں ـ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے بجائےاسے مزید بگاڑتی  ہیں ـIMF کاکردار ایک بین الاقومی غنڈے جیسا ہے جو غریب ممالک ان شرائط پر قرض دیتا ہےـ
(1) سود کی شرح میں اضافہ کیا جائے،
اس سے غربت بڑھ جاتی ہےـ
(2) ٹیکس بڑھایا جائےاور حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے،
اس سے عوامی سہولیات میں کمی آتی اوربے روزگاری بڑھتی ہےـ
(3) ذیادہ سے ذیادہ قومی ادروں کی نجکاری کی جائے“
 اس طرح ملکی اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جاتے ہیں ـ
(4) بین الاقومی سرمائے کی ملک میں آمدورفت پرسےتمام  پابندیاں ہٹالی جائیں‘
اس سے سٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہےـ
(5) بین الاقوامی بینکوں اور تجارتی کمپنیوں کو ذیادہ سے ذیادہ آزادی دی جائے،
 اس سے ملکی صنعتیں مفلوج ہو جارتی ہیں ـ
اسکے بعد ان غریب ممالک کو بس اتنی رقم مزید قرض دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مجودہ بین الاقوامی قرضوں کا سود اتار سکیِں ـ  ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی دولت IMF کے پاس چلی جاتی ہے اور یہ سب نام ونہادجمہوریت کے آڑ میں ہوتا ہےـ  تاریخی طور پر دیکھا گیا ہےکہ جن ممالک نے بین الاقومی مالیاتی فنڈ کے قرضے حاصل کیے اور ساتھ ملحق شرائط کو مکمل طور پر  من وعن نافظ کیا وہ معاشی طور پرتباہ ہوگئے یہ بات لاطینی امریکہ کے ممالک پر صادق آتی ہے جن کوIMF کی شرائط کی وجہ سے 1980 دھائی میں مالیاتی بحران کا شکار ہونا پڑاـ
آئی ایم ایف غریب ملکوں میں بجلی اور ذرائع رسل و رسائل و مواصلات کی قیمت کے بڑھنے کا بھی ذمہ دار ہے،مثلا پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کے ساتھ جو شرائط رکھی جاتی ہیں ان میں یہ بات شامل ہے کہ ٹیلی فون بجلی کی اور بعض دوسری اشیاء مثلا پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی جائے اس کا براہ راست اثر غریب لوگوں اور غربت پر پڑتا ہےـ
جب پاکستان معرض وجود میں آیا تب معاشی طور پر بہت کمزور تھا دفاتر کی کمی کی وجہ سے کئی رہنماؤں نے اپنے مکان خالی کر کے دفاتر کے لیے وقف کردیئےـ  اس وقت پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر تھا اور جدید زراعت نا ہونے کی وجہ سے کم تھی اس کو عالمی منڈیوں میں ایکسپورٹ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ زرمبادلہ کمایا جاتا۔ڈالر اس وقت 3 روپے کا تھا پھر پاکستان ترقی کرنے لگا لوگوں کا رجحان صنعتوں کی طرف ہونے لگا پھر عوام اور حکمرانوں کی خواہشات بھی بڑھنے لگی اس طرح مختلف ممالک سے بہت سی چیزیں امپورٹ ہونے لگی اس وجہ سے پاکستان دوسرے ممالک کو پیسے دینے لگا اور باہر سے پیسہ آنا کم ہوگیا روپے کی قدر کم هو گئی ڈالر بڑھنے لگا سیاسی ہلچل کی وجہ سے تاجر دوسرے ممالک میں انویسٹ کرنے لگے جس کے وجہ سے زرمبادلہ میں کمی واقع ہونے لگی
اس کمی کو پورا کرنے کے لئے قرضہ لیا جانے لگا پاکستان بننے  سے لیکر صدر جنرل ایوب خان تک پاکستان نے 350 ملین ڈالر قرضہ لیا ایوب خان کا دور سنہری دور تھا جس میں پاکستان نے بہت زیادہ ترقی کی تب قرضہ 180 ملین ڈالر  ادائیگی کے بعد 170 ملین ڈالر رہ گیا صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان معاشی طور پر ترقی کر رہا تھا اس وقت مختلف ممالک کو قرضہ بھی دے رہا تھا جن میں جرمنی اور دوسرے ممالک سرفہرست ہیں ـ پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان نے 6341 ملین ڈالر قرضہ لیا اس دور حکومت میں ایٹمی پروگرام کے علاوہ کوئی دوسرا قابل ذکر ترقی کا منصوبہ نہیں تھاـ
صدرجنرل ضیاءالحق کے دور میں روس سے جنگ کا آغاز ہوا جو قریبا 11 سال 3 ماہ کے عرصے پر محیط تھی اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی اسی دور میں مکمل ہوا صدر ضیاء الحق کے دور کے اختتام تک پاکستان کا قرضہ 12913 ملین ڈالر تھاـ  بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے پہلے دور میں 39 ہزار ملین ڈالر قرضہ لیا گیا جبکہ اس دور میں 250 ارب روپے کے موٹروے منصوبے کے علاوہ کچھ نہ بناـ صدر مشرف کے دور میں قرضہ 5000 ملین ڈالر کم ہوا پاکستان اس وقت بھی حالت جنگ میں تھاـ
پھر صدر آصف علی زرداری کے دور میں 14100ملین ڈالر قرضہ لیا گیا  جو پاکستان کے سابقہ ریکارڈ کو توڑتا ہے
نواز شریف کے دور میں قرضہ  84 ہزار ملین ڈالر سے تجاوز کرگیا پانچ سالہ تاریخ میں  35900 ملین ڈالر قرضہ لیا گیا یہ قرضہ پاکستان کی 66 سالہ دور میں لیے گئے قرض کےبرابر ہے اس دور حکومت میں 700 ملین ڈالر کے میٹرو کے علاوہ قابل ذکر کچھ نظر نہیں آتاـ دس سال پہلے پاکستانی شہری 35 ہزار روپے کا مقروض تھا آج   ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ کا مقروض ہے۔ سابقہ ادوار میں IMF کی کڑی شرائط کی پرواہ کئے بغیربے تکے قرضے لئے گئے اور ساتھ ہی کرپشن کے بھی نئے طریقے ایجاد کئے گئےجس کی وجہ سے قرض میں لی گئ رقوم کرپشن کے نذر ہوگیں.اور پاکستان کی معاشی صورتحال ابتری کا ہوتی چلی گئ پھر سے قرض لینے ضرورت محسوس کی جارہی ہےـ
نئی حکومت معشیت کوپٹڑی پر لانےکےلئےاور دیگرامورکی انجام دہی کیلئےIMFسے قرض لینے جارہی ہےـ ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپٹ عناصر کی بخیح کنی کی جائے اور کرپشن کے خلاف مضبوط اور مربوط لائے عمل کی ضرورت ہے دوراندیشی سے ملک کے وسیح تر مفاد میں فیصلے کریں قرضہ لینا ہے ضرور لیں آسان شرائط پر کہ قومی مفاد عزیز رہے اور پھر قرض کی ادائیگی کے لئے مربوط پلاننگ کی جائے تاکہ ملک وقوم کو اندھیروں سے نکال کر اجالے اور ترقی کی جانب گامزن کیا جاسکے تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہو سکیں اور اسلامی فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تابیر ہوـ
تحریر:ملک سعادت نعمان