اسلام

علم ،عمل اور آج کا انسان

علم سے ہی قدر ہے انسان کی
ہے وہی انسان جو جاہل نہیں
مرزا غالب

حدیثِ نبویﷺہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔علم کی وجہ سے انسان کو اشرف لا مخلوقات کا درجہ اور فرشتوں پر فوقیت دی گئ ہے ۔ علم انسان کی سوچ، کردار اور شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ علم انسان کو باشعور، با تہذیب، بااخلاق اور باادب بناتا ہے۔علم کی بدولت انسان اپنےآپ کو اور ا پنے خالق و مالک کو پہچانتا ہے۔ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننے لگتا یے۔ اس کائنات پر غوروفکر کرتایے۔ دل سے اپنے ربﷻ کی نعمتوں کی قدراور شکر ادا کرتا ہے۔ اللہ کے بندوں کے کام آنا ان کی بغیرکسی غرض کے مدد کر نا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ دانشور کا قول ہے کہ علم یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ "کیا” کہنا یے حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ "کب” کہنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ والدین نہ صرف دن رات محنت و مشقت کر تے ہیں بلکہ اپنی خواہشات کا گلا گھوٹ کر مہنگی فیسیں بھرکر اپنے بچوں کو اعليٰ تعلیم دلواتے ہیں۔ تاکہ وہ ایک قابل انسان بن کر انسانیت کی خدمت کریں۔ مگرافسوس والدین کی اتنی محنت و مشقت جدوجہد اور تگ و دود کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔ آج کے نوجوانوں میں بے ادبی ، نافرمانی ،خودپرستی،خودغرضی، مفادپرستی، جھوٹ، حسد، لالچ ،ناشکری ، ہوس اور دھوکہ دہی پروان چڑھ رہی ہے۔ قول ہے کہ ہمیں بہت زیادہ علم کے مقابلے تھوڑے ادب کی زیادہ ضرورت ہے۔ اور ادب آج کے انسان میں ناپید ہو گیا ہے۔ انسان علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ وہ ساری زندگی دوسروں سے آگے بڑھنے اور اپنی پہچان بنا نے میں صرف کر تا ہے۔

ترقی، دولت اورشہرت کے حصول کے لیے اپنے پیاروں سے دغابازی اب عام ہو گیا ہے ۔خلوص اور محبت کو عارضی اور بے جان چیزوں پر فوقیت دیا جا نے لگا ہے۔ آج کا انسان صحیح ،غلط، حرام ،حلال جائز اور ناجائز میں تمیز بھول گیا ہے۔ دولت کی ہوس اتنی بڑھ چکی ہے کہ یتیموں، مسکینوں، بہنوں اور بیٹیوں کو انکے وراثت میں سے محروم کیا جا رھاہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے پڑھے لکھے لوگ ہیں جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ کرپشن اتنی بڑھ گئ ہے کہ حقداروں کو انکا حق نہیں مل رہا۔ حتی مزدور کے گھر میں کھانے کے لالے پڑرہے ہیں۔مگر آج کا انسان بے ضمیر ،بے حس اور اپنی نفس کاغلام بن گیا ہے۔ اتنی تعلیم اور قابلیت کا مقصد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھا نا، تنقید کرنا، دولت و امارت کا رعب ڈالنا ،مجبور کی مجبوریوں اور بے بسی سے فائدہ اٹھانا ہی رہ گیا ہے۔ طاقت کے نشے میں انسان اتنا اندھا اور مغرور ہو گیا ہے کہ اپنےآپ کو زمینی خدا سمجھ بیٹھا ہے۔ وہ یہ بھول بیٹھا ہے کہ عزت، ذلت اور رزق حتیٰ کے سب کچھ اللہ ﷻ کے ہاتھ میں ہے۔

آج کا انسان دنیا میں آنے اور علم حاصل کر نے کا بنیادی مقصد اس دنیا کی رنگینیوں میں فراموش کر بیٹھا ہے اور اس دنیاوی زندگی کو دائمی سمجھ کر آخرت کو بھول بیٹھا ہے۔ اسلامی احکامات کو زندگی کے ہر معاملات میں فراموش کیا جا رہا ہے۔ان سب برائیوں کی وجہ دین سے دوری اور اپنے حاصل کردہ علم پر عمل نہ کر نا ہے۔
قول ہے کہ جتنا علم جا نتے ہو اتنا عمل بھی کرو کیونکہ علم، عمل کو آواز دیتاہے اور اگر جواب نہ آۓ تو علم رخصت ہو جاتا ہے۔

ھمیں چاہیئے کہ ہم اس دنیا میں اللہ اور نبی پاکﷺ کے مقرر کردہ حدود کے مطابق زندگی گزاریں۔ حق گوئی،ٍ صبر، فرمانبرداری ،برداشت، شکرگزاری ، صلہ رحمی، عاجزی، انکساری،انصاف، اخلاق اور ادب سیکھیں کسی پر نہ ظلم کریں ، نہ کسی کو کمتر سمجھیں اور نہ ہی اپنی ذات کو کسی کے لیے باعثِ تکلیف بنائیں۔ حاصل کر دہ علم پر عمل کریں۔ اللہ کے بندوں پر رحم کریں کیونکہ یہی تعلیم حاصل کر نے اور زندگی گزارنے کااصل مقصد ہے ۔ بےشک دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کےسوا کچھ نہیں ہے۔

بقلم سیدہ آسیہ بنتِ توصيف