اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ کالمز معلومات

آئی جی سندھ کی تبدیلی یا مفادات کی جنگ۔

۔آئی جی سندھ کلیم امام کی تبدیلی کی جنگ جوکہ گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور یہ مسئلہ طول پکڑتا گیا اور اختلافات ،سیاست اور لگتا یوں ہے کہ اب ذاتی مفادات کی جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے اور اور ذاتی مفاد ہو بھی کیوں نہ ظاہر ہے سمندر میں رہ کر مگرمچھ سے دشمنی مول تھوڑی لی جاتی ہےاور لگتا یوں ہے کہ یہ ذاتی مفادات کی جنگ بن چکی ہے جس طرح کے بیانات سندہ حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں دئے گئے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ سندھ حکومت کلیم امام کے حق میں ہے ہی نہیں اور یہی چاہتی ہے کہ ہر صورت انکا من پسند آئی جی تعینات کیا جائے جس کے لئے سندھ حکومت نے تو پہلے تین نام تجویز کئے اور جس میں غلام قادر تھیبو کا نام سر فہرست رہا جس کے بعد دوبارہ پیپلز پارٹی نےپانچ نام تجویز کئے اور وفاق کو بھجوائے جس میں مشتاق مہر۔

کامران فضل ۔انعام غنی۔ ثناءاللہ اور غلام قادر تھیبو کا انعام ایک بار پھر سر فہرست رہا اور یہی کوشش کی گئی کہ ان کو ہی آئی جی سندھ کا عہدہ دیا جائے لیکن وفاق نے ان میں سے کسی نام پر اتفاق نہیں کیا جاسکا جس کے بعد پیپلز پارٹی ۔ کے رہنماوں کی جانب سے سخت اور وفاقی حکومت پر طنزیہ بیانات سامنے آئے مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کا آئی جی تیس منٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے تو سندھ کا کیوں نہیں اور یہ بات واضح کہ چکی ہے کلیم امام کی کارکردگی سے خوش نہیں پھر بھی تیس دن سے وفاق کی جانب سے فیصلہ نہیں کیا جاسکا اس میں وفاقی حکومت کا مفاد ہے جبکہ سعید غنی کی جانب سے بھی حکومت پر تنقید کی گئی وزیر اعظم کی اسی سلسلے میں وزیراعلی سندھ سے ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کو غلام قادر تھیبو، مشتاق مہر، کامران فضل، انعام غنی اور ثناءاللہ عباسی کے نام نئے آئی جی کے لیے بھیجے گئے تھے تاہم وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کا تبادلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط کیا تھا جس کے بعد کابینہ میں نام پیش کئے گئے تھے لیکن بات نہیں بن سکی تھی اور ان ناموں پر اعتراضات اٹھائے گئے ۔ کہا گیا گورنر سندھ وزیر اعلی سے مشاورت کریں تاکہ کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے جبکہ۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آپ کو ہر جگہ ایک نہیں 2 پاکستان کا سلسلہ نظر آتا ہے، آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کیا گیا تھا، خیبرپختونخوا سے آئی جی کوپنجاب میں لگایاگیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیارٹی کی بنیاد پر 5 افراد کے نام آئی جی کے لیے بھیجے، امن و امان کی صورتحال پرعوام کو ہمیں جواب دینا پڑتا ہے لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ جو قانون اسلام آباد کا آئی جی تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا وہی قانون آئی جی سندھ کے معاملے پر بھی استعمال کیا جائے ۔سندہ حکومت یہی چاہتی ہے کہ جو بھی آئی جی آئے وہ ان کے ماتحت کام کرے کیونکہ کلیم امام نے اپنے اس دورانیہ میں سخت ترین اقدامات اٹھائے اور جس سے سندھ حکومت نا خوش رہی اور گزشتہ سال تقریبا سولہ ایس ایس پیز کے ناموں کی لسٹ بھی بنائی اور واضح طور پر کہا کہ یہ کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر کی سر پرستی کرتے ہیں اور کہا کہ تحقیقی ٹیم بنائی جاے اور ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور پہر کلیم امام کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں پولیس کی محکمہ میں جاگیر دارانہ نظام نہیں چلنے دونگا پولیس کا کام جرائم کی روک تھام ہے نا کہ جرائم کو پروان چڑھانا ہے۔

مزید پڑھیں: کرونا وائیرس اور اسکا سدباب

یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ کلیم امام کے دور میں جو بھی بھرتیاں کی گئیں وہ میرٹ پر کی گئیں اور سیاسی بنیادوں اور بھاری رشوت اور پیسوں کی بنیا د پر نہیں ہوئی جیسا کہ سابقہ ادوار میں کی گئیں یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کلیم امام کو ہٹائے جانے کی جناب یہاں حکومت کی کارکردگی اور خصوصا کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں اور اب سونے پر سہاگہ یہ ہے لوکل گورنمنٹ کے الیکشن بھی تو ہونے ہیں اور انتخابات کے دوران پولیس کی جو کارکردگی ہوتی وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور پھر اب ایک بڑے پیمانے پر پولیس میں بھرتیاں بھی ہونی ہیں اور آئی جی سے لیکر ایس ایس پیز کی پوری ٹیم اپنی من پسند ہو تو انتخابات کا نتیجہ بھی اپنی مرضی کا آتا ہے تو اب سمجھ جانا چاہئے کہ کیونکہ اب سندھ حکومت کلیم امام کو برداشت نہیں کر پا رہی اور وفاق کیوں ان کے تجویز کردہ ناموں پر اتفاق نہیں کر پارہی ہے یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔

خیر اب جو بھی ہو اب کلیم امام کا جانا تو طے ہے اور اب وہ اینٹی نارکوٹکس میں اپنی خدمات انجام دینگے جبکہ حالیہ تقریب میں کلیم امام کہنا تھا کہ میں کہیں نہیں جارہا اور مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے جس کے بعد انہوں نے کہا یہ سب از رائے طفنن کہا جبکہ زرائع تو یہ بھی بتاتے ہیں کلیم امام نے وزیراعظم سے حالیہ ملاقات میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ تو دی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئے آئی جی کے لیئے غلام نبی میمن کا نام بھی تجویز کیا ہے جو کہ کراچی میں پولیس چیف کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں جوکہ اکیس گریڈ کے آفیسر ہیں اور انکی سروس ساتھ سال کے لئے باقی بھی اور امکان تو یہی ہے کہ غلام نبی میمن کو تعینات کیا جانا ہے لیکن اب دیکھنا یہ کہ اس پر عمل در آمد ہوتا کب ہے واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جو پہلے تین نام تجویز کئے گئے تھے ان میں غلام نبی کا نام بھی تجویز کیا گیا تھا