ظنز و مزاح

اُدھر تم، اِدھر ہم

ذرا ایک کاغذ لیں اور لکھنا شروع کریں کہ آپ کہاں رہتے ہیں‘ آپ کے والد صاحب کہاں رہتے تھے‘ آپ کے دادا کی رہائش کہاں تھی اور آپ کے پردادا کا مسکن کہاں تھا۔ پھر اِن چار نسلوں کے بچوں کے نام لکھئے۔ شنید ہے کہ یہ تعداد پچاس تک پہنچ سکتی ہے۔ اب ان پچاس لوگوں کو کسی کاغذی طور پر کسی ایک گھر میں ایڈجسٹ کر کے دیکھئے۔ یقینا اس کے لیے ہوٹل نماایک ایسا گھر درکار ہوگا جس میں کم ازکم پچاس کمرے‘ آٹھ کچن‘ بارہ باتھ رومز‘ بیس ائیرکنڈیشنڈ‘ بارہ گاڑیوں اور تیس پینتیس موٹر سائیکلوں کا گیراج‘ بیس ہزار لٹر والی پانی کی ٹینکی اورکم ازکم تین کنال کا صحن درکار ہوگا۔ظاہری بات ہے عمومی طور پر ایسا ممکن نہیں ہوتا اسی لیے شادی کے وقت لڑکی کو اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑنا پڑتاہے اور کچھ عرصے بعد لڑکے کو بھی یہی عمل دہرانا پڑتاہے۔

ہمارے ہاں اس عمل کو بہت برا سمجھا جاتاہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کے یقینا بہت فوائد بھی ہیں لیکن اگر گھر پانچ مرلے کا ہو اور بچوں کی تعداد آٹھ تو پھر جوائنٹ فیملی سسٹم سے بڑا عذاب کوئی نہیں۔کثرت ِ اولاد والے گھروں میں اکثر یہ طریقہ اپنایاجاتاہے کہ جس بچے کی شادی کرنی ہوتی ہے اس کے لیے گھر کی چھت پر ایک کمرہ بمعہ اٹیچ باتھ تعمیر کر دیا جاتاہے۔ یہ کمرہ کبھی کبھار والد صاحب تعمیر کروا دیتے ہیں ورنہ شادی کے شوقینوں کو اپنی تنخواہ کا پیسہ پیسہ جوڑ کر تعمیر کرنا پڑتاہے۔اس کے باوجود جب گھر کے افراد کی تعداد بڑھتی ہے تو یہاں بھی رہنا مشکل ہوجاتاہے نتیجتاً روز روز کے جھگڑے معمول بن جاتے ہیں۔ بچوں کی آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں‘ خاوند نے بیوی کے لیے آئس کریم بھی لانی ہو تو گھر کے افراد کی تعداد کے پیش نظر اپنے آفس بیگ میں چھپا کر لاتاہے۔پرائیویسی بالکل ختم ہوکر رہ جاتی ہے اورہر ماہ بجلی کا بل آنے پر سیاپا شروع ہوجاتاہے کہ ”ہم تو صرف دوگھنٹے کے لیے موٹر چلاتے ہیں‘ ہم کیوں اتنا زیادہ بل دیں“۔یہی وجہ ہے کہ اکثر جوائنٹ فیملی سسٹم کے افراد آپس میں کرایہ داروں کی طرح رہتے ہیں۔شادی کے بعد اکثر بیویاں الگ گھر کا مطالبہ کرتی ہیں تاہم بیوی اگر اپنے مطالبے سے دستبردار ہوبھی جائے تب بھی ایک نہ ایک دن لڑکے کوالگ گھر لینا ہی پڑتاہے تاہم اس علیحدہ گھر میں وہ ماں باپ کو رکھنا بھی چاہے تو وہ نہیں آتے بلکہ اکثر یہی سننے کو ملتاہے ”ہم کیوں اپنا گھر چھوڑیں؟“۔ یہ جو”اپنا گھر‘‘ ہوتاہے یہی فساد کی جڑ بنتاہے۔

والدین خود بھی برسوں پہلے جوائنٹ فیملی سسٹم سے نکل کر الگ ہوچکے ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنے بیٹے کا الگ ہونا گوارا نہیں ہوتا۔جوائنٹ فیملی سسٹم کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس طرح بزرگوں کا ساتھ میسر رہتا ہے‘ مل جل کر ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ شیئر کیے جاسکتے ہیں۔ حالانکہ ایسا خال خال ہی ہوتاہے۔یقینا الگ رہنے کے بھی ایک سو ایک مسائل ہیں لیکن جوائنٹ فیملی سسٹم سے پھر بھی کم ہیں۔ میرا ایک دوست جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتا تھا‘ موصوف کی شادی ہوئی تو ہنی مون کے لیے مری جانے کا پروگرام بنایا لیکن اگلے ہی روز کینسل کر دیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بے بسی سے بتانے لگا کہ ”سب گھر والے ساتھ جانا چاہتے ہیں“۔ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کی مخالفت گناہ تصور ہوتی ہے‘ ذرا سا حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو آپ خود تسلیم کریں گے کہ اس سسٹم میں کیا کیا قباحتیں جنم لیتی ہیں۔ آپ کسی مہمان کو گھر کھانے پر نہیں بلا سکتے‘ بلالیں تو پورے گھر کی ناراضی مول لینا پڑ جاتی ہے کہ اُس کے لیے بریانی بنائی تھی تو ہمیں کیوں نہیں دی۔وہ جوائنٹ فیملی سسٹم جن میں تین تین فیملیوں کے لیے ایک فریج ہوتاہے ان سے جاکر پوچھئے کہ وہ چھ انڈے بھی فریج میں نہیں رکھ سکتے۔ رکھ دیں تو اگلے دن تین انڈے غائب ہوتے ہیں اور کچھ پتا نہیں چلتا کون ہڑپ کر گیاہے۔

تین فیملیز کے لیے ایک ہی واشنگ مشین استعمال ہوتی ہے تو ظاہری بات ہے خراب بھی جلدی ہوتی ہے لیکن کوئی یہ نقصان اپنے سر اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ہر ایک کی دوسرے پر کڑی نظر ہوتی ہے لہذا ہزار کوشش کے باوجود کئی نجی معاملات بھی پوشیدہ نہیں رہ پاتے۔ایسے میں اگر پستے ہیں تو بیچارے بوڑھے والدین‘ جن کی خدمت کا سبھی دعویٰ کرتے ہیں تاہم کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہ وزن دوسری فیملی اٹھائے۔اگلے وقتوں میں بڑے بڑے حویلی نما گھر ہوتے تھے لہذا جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے بھی کشادگی کا احساس ہوتاتھا‘ آج کل یہ ممکن ہی نہیں رہا۔ہمارے ہاں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں ہر کوئی ایک دوسرے کا خیال رکھتاہے۔ایسا کتنے گھروں میں ہوتا ہے؟چولہا کس نے زیادہ استعمال کیا‘ کون روز نہاتاہے‘ کس کے بچے زیادہ ہیں‘ کون زیادہ صابن استعمال کرتاہے‘ کس کی بیوی زیادہ بوٹیاں کھاتی ہے یہ سارا حساب کتاب جوائنٹ فیملی میں ہی رکھا جاتاہے۔اولاد بال بچوں والی ہوجائے تو بڑی جگہیں بھی چھوٹی پڑنے لگتی ہیں۔حل تو یہ بھی ہے کہ تین فیملیز میں سے دو فیملیز الگ ہوجائیں اور ایک فیملی ماں باپ کے ساتھ رہے لیکن وہ ایک فیملی کون سی ہوگی؟یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ماں باپ بوڑھے ہوجائیں تو انہیں اکیلے نہیں رکھا جاسکتا۔

اِس عمر کے بزرگ بڑھاپے کی وجہ سے نہیں بلکہ اکثراپنی ضد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔اس کے باوجود اولاد کا فرض بنتا ہے کہ وہ اِن کی انا کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا خیال رکھے۔یہ خیال کیسے رکھا جاسکتا ہے اس بارے میں ہر گھر کے مختلف قواعد ہیں لہذا یہاں کوئی ایک فارمولہ لاگو نہیں ہوسکتا۔ الگ ہونا اور الگ گھر لینا دومختلف چیزیں ہیں۔جس نے ہمیں پیدا کیا اور جس نے ہمارے بچوں کو پیدا کیا‘ دونوں مائیں ہیں‘ دونوں کے پاؤں تلے جنت ہے۔ یہ دونوں مائیں توجہ مانگتی ہیں‘ دونوں کی وجہ سے گھر جنت بنتے ہیں‘ دونوں کے اپنے اپنے حقوق ہیں۔بیوی کو الگ گھر میں رکھنا گناہ نہیں …… گھر الگ نہیں ہوں گے تودل الگ ہوجائیں گے ……اور دل الگ ہوگئے انہیں ”جوائنٹ“ کرنا بہت مشکل ہوگا۔

لکھاری کے بارے میں

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

Loading...