صحت معلومات

ہائپو تھائرائڈازم کے جسم پر اثرات

تھائرائڈ گلینڈز ہمارے گلے میں ہوتے ہیں ۔یہ گلینڈز ایسے ہارمونز پیدا کرتے ہیں جو جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں ۔تھائرائڈ گلینڈز کی کارکردگی میں کمی ہائپو تھائرائڈازم کہلاتی ہے۔جب تھائرائڈ گلینڈز کم ہارمونز پیدا کرتے ہیں تو جسم کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے ۔ اس طرح ہائپو تھائرائڈازم مختلف طریقوں سے ہمارے جسم پر اثر انداز ہوتاہے۔ ہائپو تھائرائڈازم ہمارے میٹا بولزم،ذہنی کارکردگی، انرجی لیول اور نظام ہضم پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔جسم میں تھائرائڈ کے ہارمونز جتنے کم ہوتے جاتے ہیں جسم کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سستی،کمزوری اور قبض کی شکایت بھی اس کا ہی حصہ ہوسکتی ہے۔ہائپوتھائرائڈازم کا پتہ لگانے کے لئے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے جسم میں تھائرائڈ ہارمونز کا لیول معلوم کیا جاتاہے۔

میٹا بولزم کو متاثر کرتا ہے: ہائپوتھائرائڈازم کے نتیجے میں جسم تھائرائڈ ہارمونزٹی ۳ اور ٹی ۴ کم مقدار میں پیدا کرتا ہے ۔یہ ہارمونز میٹا بولزم کو کنٹرول کرتے ہیں ۔اور ان کی کمی جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔جس کے نتیجے میں ہمارے جسم کے اہم کاموں کی رفتارمیں کمی آجاتی ہے ۔

دوران خون اور دل کی کارکردگی کومتاثر کرتا ہے: ہائپوتھائرائڈازم دل کی دھڑکن کو ہلکا اور کمزور کردیتا ہے جس کی وجہ سے دل پوری قوت کے ساتھ خون کو پمپ نہیں کر پاتا۔اس کے علاوہ جب آپ ورزش یا محنت کا کوئی کام کرتے ہیں تو آپ کا سانس پھولتا ہے اورخون کی نالیاں سکڑ جانے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ہائپوتھائرائڈازم جسم میں کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے جبکہ جسم میں ہائی کولیسٹرول اور بلڈ پریشر مل کر دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھادیتے ہیں ۔

اعصابی نظام : اگر تھائرائڈ کی بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے جسم اورذہن تک جانے والے اعصاب متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ حصے میں سن پن،سنسناہٹ،درد یا جلن محسوس ہوتی ہے۔

نظام تنفس: تھائرائڈ ہارمونز کی کمی سانس لینے میں مددگار مسلز کو کمزور کرتی ہے جس کی وجہ سے پھیپھڑے صحیح طرح کام نہیں کر پاتے اور آپ کو سانس پھولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اور رات کو سوتے وقت بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: بہت زیادہ پسینہ کیوں آتا ہے؟

نظام ہضم : ہائپوتھائرائڈازم کی وجہ سے نظام ہضم سست ہو جاتا ہے جس کی علامات سینے کی جلن ،پیٹ پھولنے اور قبض کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ تولیدی نظام : وہ خواتین جنھیں تھائرائڈ کا مسئلہ ہوتا ہے ان کے پیریڈزیا تو بے قاعدہ ہوتے ہیں ،یا بہت زیادہ آتے ہیں ۔ایسی خواتین کو حاملہ ہونے میں مسئلہ ہوتا ہے اور اگر حمل ٹھہر بھی جاتا ہے تو اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ جسم میں ہارمونز کی کم مقدار میٹا بولزم کو سست کرتی ہے جس کی وجہ سے دوسری علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جیسے : ۔تھکاوٹ ۔وزن بڑھنا ۔سردی برداشت نہ ہونا

۔ہاتھوں اور پیروں میں سوجن ہونا۔ تھائرائڈ ہارمونز میں کمی کی وجہ سے آپ کی جلد خشک اور زرد ہوسکتی ہے۔آپ کو پسینہ معمول سے کم آسکتا ہے جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھا رہتا ہے۔آپ کے سر اور بھنووں کے بال پتلے ہوسکتے ہیں۔آپ کے ناخن کمزور ہو جاتے ہیں ۔ دماغ سے جلد تک ہائپوتھائرائڈازم آپ کے جسم کے ہر حصے کو متاثر کر سکتا ہے۔مختلف لوگوں میں اس کی مختلف صورتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔جو کسی میں کم اور کسی میں شدید ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا کا استعمال کرکے بیماری اور اس کی علامات پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔