خبریں

حسین حقانی ۔۔۔کالے کرتوتوں پر ایک نظر !

حسین حقانی سابقہ رکن جماعت اسلامی ہیں۔ اس دور میں وہ نفاذ اسلام اور امریکہ کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔
جنرل ضیاء کے دور میں ان کی شہادت تک وہ جنرل موصوف کے گن گاتا رہا۔ ضیاء کے بعد وہ بے نظیر کے خلاف نواز شریف کے میڈیا ایڈوائزر بن گئے۔ جیسے ہی نواز شریف کی حکومت گری حسین حقانی وقت ضائع کیے بغیر بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل گئے اور نواز شریف کو لتاڑنا شروع کر دیا۔

جب مشرف کا مارشل لاء لگا تو اس کے قریب جانے کی کوشش کی لیکن وہاں سے لفٹ نہ ملی تو کچھ عرصے بعد اچانک جنرل مشرف کو ڈکٹیٹر اور غاصب کہنا شروع کر دیا۔ اسی عرصے میں اس نے نفاذ اسلام اور جنرل ضیاء کے روس کے خلاف جہاد کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کے ان مضامین کو انڈین اور امریکی اخبارات نے خوب پزیرائی بخشی۔ ان مضامین پر امریکہ نے انکو بوسٹن یونیورسٹی میں تعلقات عامہ کا پروفیسر بنا دیا جہاں اس نے کوئی ایسا لیکچر نہیں دیا جس میں اسلام، پاکستان، پاک فوج اور جہاد کو نشانہ نہ بنایا ہو۔

2006 کے بعد اس نے دوبارہ پیپلز پارٹی کے لیے امریکہ میں لابنگ شروع کی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے انکو امریکہ میں پاکستانی سفیر مقرر کر دیا۔ا پنی اس تعئناتی کے دوران اس ” پاکستانی سفیر” نے پاکستان کی جو نمایاں خدمات سرانجام دیں ان میں۔ بغیر سیکورٹی کلیرنس کے 5000 کے قریب امریکی سی آئی اے، بلیک واٹر اور ڈائن کور کے اہلکاروں کو پاکستان بھیجنا بشمول ریمنڈ ڈیوس کے۔ جس کے بعد پاکستان میں تاریخ کی بدترین دہشت گردی ہوئی۔

ایبٹ آباد آپریشن میں امریکہ کی معاؤنت کی جسکا اعتراف اس نے کچھ دن پہلے خود کیا ہے۔ میمو سکینڈل والا معاملہ جس میں اس نے امریکہ کو پاکستان پر حملہ کرنے، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو تحویل میں لینے اور آئی ایس آئی کو مفلوج کرنے کی سفارش کی۔ اور اب اپنے تازہ ترین مضمون میں موصوف نے ایک بار پھر خطے میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کی ذمہ داری پاکستان (پاک فوج اور آئی ایس آئی) پر ڈالتے ہوئے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ "اگر امن چاہتے ہو تو پاکستان سے نمٹو” ۔حسین حقانی پاکستان کو ایف 16 جہاز دینے کا بھی سخت مخالف ہے۔

میمو سکینڈل والے معاملے میں حسین حقانی کے خلاف پاک فوج سپریم کورٹ گئی جہاں افتخار چودھری نے پہلے حسین حقانی کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دی اور اس کے باہر چلے جانے کے دس دن بعد اسکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے کر ایک بڑے غدار کی جان بچائی! حسین حقانی کو پاکستان میں "لفافہ صحافت” کا گاڈ فادر بھی کہا جاتا ہے۔