بلاگ کالمز

بنیادی انسانی حقوق اور ہم

انسانی حقوق کی عالمی قرارداد میں تیس شقِیں شامل کی گئی ہیں۔ اِن تمام شقوں میں دنیا بھر کے انسانوں کیلئے بنیادی انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اِن بنیادی انسانی حقوق کو دنیا کے اکثر ممالک اور ریاستوں نے تسلیم کیا اور بنیادی انسانی حقوق کی اِس قرارداد پر دستخط کیے۔ ممالک یا ریاستوں کے سربراہان کے قرارداد پر دستخط کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو اُس قرارداد میں شامل تمام بنیادی حقوق فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ریاست تمام باشندوں کو تمام حقوق اور آزادیاں دینے کی پابند ہوتی ہے۔اسی طرح اقوامِ متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں بنیادی انسانی حقوق کا نہ صرف تعین کیا گِیا بلکہ انسانی حقوق کی جامع تعریف کرتے ہوئے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ مملکتوں کےلیے اصول وضع کئے گئے۔ ہر ریاست کے انتظامی امور کو چلانے کےلیے سب سے پہلا کام ایک دستور مرتب کرنا ہوتا ہے۔

ریاست اپنے دستور میں بھی ریاستی ذمہ داریوں، شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور سماجی ذمہ داریوں کا تعین کرتی ہے۔ دستور کو اساس بنا کر قوانین بنائے جاتے ہیں اور اُن قوانین کی روشنی میں جرم و سزا کا تعین ہوتا ہے۔ دستور اور قوانین وہ بنیادی اساس ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر شہریوں کو اپنے حقوق کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کےلیے جدید دنیا میں چند سادہ بنیادی اشاریئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، رہائشی سہولیات، روزگار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اور بنیادی ڈھانچہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اِن بنیادی اشاریوں میں تعلیم، صحت اور قانون کی پاسداری کسی بھی ملک کی معاشی اور اقتصادی ترقی کےلیے اہم ہیں۔

اسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اکیسویں صدی کے اوائل میں اقوام متحدہ کے میلینیم اجلاس کے موقع پر 149 ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں میلینیم ڈیکلریشن کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔اِس میلینیم ڈیکلریشن کی روشنی میں ترقی کے آٹھ اہداف مقرر کیے گئے۔ ان آٹھ اہداف میں غربت اور بھوک کا خاتمہ، بنیادی تعلیم کا حصول، صنفی برابری اور عورتوں کو بااختیار بنانا، بچوں کی اموات کی کمی، ماؤں کی صحت میں بہتری، ملیریا اور ایڈز جیسی بیماریوں کے خلاف اقدامات، ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانا اور ترقی کےلیے عالمی شراکت داری کو یقینی بنانا شامل تھا۔ 2005ء میں 170 سے زائد ممالک کے سربراہان نے ایک مرتبہ پھر ترقی کے مذکورہ آٹھ اہداف پر کام کرنے کی توثیق کی۔ اِن اہداف پر کام کرنے کا مقصد 1990ء سے لے کر 2015ء تک مذکورہ شعبوں میں بہتری لانا تھا۔اگر ترقی کے اِن آٹھ اہداف کی نتائج کا اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افریقی ممالک نے اِن اہداف کو حاصل کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان اِن جمہوری ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جو ترقی کے اہداف کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔ ترقیاتی اہداف کے بارے سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں واضح کمی آئی ہے مگر سال 2013ء میں جاری ہونے والی غذائی تحفظ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس کی توثیق پاکستان کے کئی سرکاری اداروں نے کی ہے، پاکستان میں 54 فیصد لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اِس پر سوال بنتا ہے کہ اگر مجموعی طور پر 12 یا 15 فیصد لوگ خطِ غربت سے اوپر گئے ہیں تو وہ محفوظ غذا کا انتخاب کیوں نہیں کر پاتے؟اسی طرح ماں اور بچے کی صحت، تعلیم، پینے کا صاف پانی، صنفی مساوات اور بین الاقوامی شراکت داری کا عمل جوں کا توں ہے۔ ترقیاتی اور سماجی ماہرین نے اِس ساری صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اُس کی کچھ خاص وجوہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ اکثریت اِس رائے پر متفق نظر آتی ہے

کہ حکومتی اور ریاستی نظم و نسق چلانے والے ذمہ داران کی عدم دلچسپی کے باعث ترقی کے مذکورہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تعین کردہ ترقیاتی اہداف پر ملک کے موجودہ سیاسی، سماجی یا معاشی حالات کے مطابق کام کیا جاسکتا ہے یا نہیں، لیکن پھر بھی یہ دیکھنا ازحد ضروری ہے کہ کیا اربابِ اختیار اور ریاست کے اندر بسنے والے انسانوں کی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے ذمہ داران اس معاملے میں کس حد تک مخلص ہیں؟جس معاشرے میں طبقاتی تقسیم، مذہبی منافرت، عدم مساوات اور نا انصافی اپنے عروج پر ہوں وہاں سماج کے نچلے طبقوں کی ترقی سے متعلق سوچ اور منصوبے حکمران طبقے کی ثانوی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں۔ عوامی تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات کو معیاری بنانے اور محفوظ غذا کے حصول کے اقدامات اُن کے نزدیک اِس لیے ضروری نہیں ہوتے

کیونکہ اُن کے بچے نہ تو سرکاری تعلیمی اداروں کے طالب علم ہوتے ہیں اور نہ وہ علاج معالجے کےلیے مقامی سہولیات سے استفادہ کرتے ہیں۔اگر آپ کو تعلیم و صحت میں ترقی کے اشاریئے کو دیکھنا ہے تو اعلیٰ عہدوں پر براجمان ریاستی اہلکاروں یا سیاستدانوں کی اولاد کی تعلیمی اسناد یا طبی معائنے کے کوائف دیکھئے۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ ملکی اشرافیہ کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم بدیسی جامعات سے حاصل کردہ ہے اور وہ اپنا علاج معالجہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل اسپتالوں سے کرواتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مقامی جامعات سے فارغ التحصیل طلباء عملی زندگی میں بھی اِس لیے نظام کا کارآمد پرزہ نہیں بن پاتے کہ وہ فرسودہ تعلیمی نظام کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔2015ء سے 2030ء تک اقوامِ متحدہ نے پائیدار ترقی کے 17 نئے اہداف مقرر کیے ہیں جن میں بھوک کا خاتمہ، انسدادِ غربت، معیاری تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات،

صنفی مساوات، صاف پانی اور صفائی، سستی اور آلودگی سے پاک بجلی، معقول روزگار اور معاشی ترقی، کم عدم مساوات، صنعتی ترقی، امن اور تعاون جیسے اہداف شامل ہیں۔ اِن اہداف اور مطلوبہ نتائج کے حصول کےلیے کسی بھی ریاست کے اندر سیاسی و معاشی استحکام، تمام سماجی طبقات کی شمولیت، معاشیاتی منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، قانون کی عملداری، متنوع طرزِ فکر، سماجی ہمواری اور صاف نیت کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو جہاں اخلاقیات سے عاری سیاستدانوں اور بدعنوان ریاستی اشرافیہ کی موجودگی میں ایک طرف دستور میں شامل بنیادی انسانی حقوق، ریاست کے فرائض اور آزادیوں پر قومی سلامتی کے نام پر سمجھوتہ کیا جارہا ہو تو کیا دوسری جانب وہاں بینِ الاقوامی طرز کی ترقی میں شراکت داری کیسے ممکن ہے؟