اُردو صفحہ فیس بُک پیج

کالمز معلومات

آزادی کے جبر میں جکڑا جدید انسان

انسان کی تاریخی حیثیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔ دنیا کی کوئی تہذیب انسان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ انسان نے ہی اس کائنات کے سر بستہ رازوں کا امین ہوتے ہوئے آئندہ کی نسل کےلیے کئی عقدے وا کیے؛ لیکن انسان کی فکری و سماجی قدر کا اندازہ اسے حاصل آزادی سے لگایا جاتا ہے۔ انسان کو آزادی کے حصول کےلیے صبر آزما انتظار سے گزرنا پڑا، لیکن کیا آزادی منزل ہے یا منزل کے حاصل کرنے کا ایک راستہ؟کہا یہ جاتا ہے کہ انسان کو حاصل آزادی اسے فراہم کرنے کےلیے اقوام متحدہ کا منشور حقوق انسانی ایک جدید دستاویز ہے جس میں کلیت و جزئیت پسندی کے حوالے سے آزادی کے رہنما اصول متعین کیے گئے ہیں۔ اس عالمی منشور میں ’’آزادی اور ترقی‘‘ (freedom and progress) پر زور دیا گیا ہے

لیکن یہ دونوں اصول ہیں کیا؟اس بات کو ماننے میں کسی کو اعتراض نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام بھی دراصل ان ہی دونوں اصولوں اور ان کے متعلقات پر اپنی بنیادیں استوار کرتا ہے، یعنی ہر کسی کو آزادی کے ساتھ سرمائے کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی اجازت ہے۔ آزاد منڈی یا معیشت میں بھی یہی اصول اپنایا جاتا ہے۔ لیکن انسان کی انفرادی و اجتماعی آزادی میں یہ اصول کیوں کارگر رہا، اس کی وجہ بہت دلچسپ ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے قیام کے بعد سے کبھی یہ نہیں کہا کہ انسان کی آزادی کو سلب کرنے دیا جائے گا؛ لیکن کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ اقوام متحدہ نے آج تک انسانی حقوق و آزادی کی بندش کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ کیوں سب کو اپنی مرضی کا نظام منتخب کرنے کی اجازت نہیں؟

سرمایہ داری کیوں ہمارے گھروں تک سرایت کر چکی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ چند نادیدہ ہاتھ دنیا بھر کی دولت پر قابض ہیں؟ یہ اور ان جیسے کئی سوالات ہیں جنہیں آزادی کے جبر کا ابتدائی اور انتہائی ماڈل کہا جاتا ہے۔کہا جاتا رہا ہے کہ آج کا انسان قدیم انسان کے مقابلے میں زیادہ آزاد ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم یا ہمارے جیسے انسان کتنے آزاد ہیں؟ قدیم انسان کتنا آزاد تھا، اس کا اندازہ لگایئے کہ اسے اپنی مرضی کا نظام چننے کی آزادی تھی، یعنی وہ حالات سے مجبور ہوکر ہی شہروں میں آیا وگر نہ امریکا نے اپنے شہریوں کی آزادی کےلیے اصل سرزمین کے باشندوں کو کیوں قتل کیا؟ امریکی آزادی کا سپنا 20 لاکھ ریڈ انڈینز کے خاتمے کا سبب بنا اور اسی لیے جدید دنیا کو یہ قتل عام قبول ہے کیونکہ یہ آزادی کے نام پر ہوا۔

جدید انسان کتنا آزاد ہے، کیا آج کوئی سرمائے کی اثر پذیری کا منکر ہوسکتا ہے؟ کیا کوئی بھی ملک ڈالر کے علاوہ کسی اور کرنسی میں لین دین کا سوچ سکتا ہے؟ تو یہ اقوام کی سطح پر تو آزادی نہ ہوئی۔انفرادی آزادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کم و بیش ہر انسان کی مکمل معلومات سماجی رابطے کی ویب سائٹس یا موبائل کے استعمال کی وجہ سے ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں موجود ہیں جن کی بناء پر امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے 2017 میں ایک امریکی عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر 18 لاکھ کالز ٹیپ کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ تو کیا وہ تمام لوگ آزاد کہلائے جاسکتے ہیں جن کا حدودِ اربعہ اور پسند ناپسند تک کہیں اور سے منتخب کی جاتی ہے؟بادشاہی نظام کے مظالم گنوانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں

کہ بادشاہ گھر میں آکر جاسوسی نہیں کرتا تھا لیکن آج کا انسان تو قدم قدم پر جاسوسی کے نرغے میں ہے۔ کہیں اس کا دفتر اس کی جاسوسی میں معاون ہے تو کہیں اس کی دلچسپیاں۔ یوں تو اس حوالے سے لاکھوں مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر دیگ کے چند دانے کافی ہیں۔ قدیم معاشی نظام میں ہر انسان کو اپنی ضرورت کے مطابق خرید و فروخت کی اجازت تھی لیکن آج کل تو جو آجر چاہتا ہے، وہ ہم خریدتے ہیں۔ اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیے، کیا ہم سامان کے انبار میں نہیں دبے ہوئے؟ کتنی غیر ضروری اشیاء ہمارے پاس ہیں؟ضرورت سے زائد خریدنے کی ترغیب صرف جدید انسان ہی کو حاصل ہے کیونکہ وہ آزاد ہے۔آزادی کے نام پر انسانوں کی تہذیب، سماجیات، روایات، عمرانیات اور نفسیات چھیننے کا یہ پھندا بہت مہلک ہے کیونکہ اس کی جڑیں ہر تصور میں پیوست کر دی گئی ہیں۔

آج کسی جدید ترقی یافتہ ملک کا کوئی بھی باشندہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ آزاد ہے کیونکہ یکساں زبان، ایک ہی معیشت اور ایک ہی طرح کے کام کرنا آزادی نہیں کہلاتا۔ آزادی تو چمن میں ہر پھول کے کھلنے کا نام ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے کہ بچے کا اسکول منتخب کرنے کی آزادی نہیں، مادری زبان میں گفتگو کی اجازت نہیں، خارجہ تعلقات بنانے کی آزادی نہیں، شیمپو بھی خریدنا ہے تو اشتہارات دیکھنے کی پابندی ہے اور اس کے باوجود جدید انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے اور اس سمجھنے کے پیچھے ہر آزادی چھیننے والے کی کوشش شامل ہے۔ آزادی اگر سیاسی نظام میں ووٹ ڈالنے کا نام ہے تو اس کے حوالے سے بھی ابہام موجود ہے۔ الغرض آزادی کے نام پر جبر کا یہ دھندا و پھندا انسانیت کی تاریخ کو مسخ کرنے کا سبب بن رہا ہے جس کا کوئی علاج جدید پابند انسان کے پاس موجود نہیں۔