بلاگ

ہم اور ہمارے پچھتاوے

زندگی، اللہ رب العزت کا ایک ایسا تحفہ ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ ہماری زندگی انتہائی متنوع اور ہمہ جحت ادوار پر مشتمل ایک ایسی فیچر فلم ہے جس کے ہیرو اور ولن دونوں ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم جہاں اپنی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں وہیں ناکامیوں پر دل ہار بھی جاتے ہیں۔ خدائے بزرگ وبرترنے جہاں انسان کو اشرف المخلوقات تخلیق کیا وہیں اس بندہ خاکی کے دل کو خوشی، غمی، حیرت، پشیمانی، امید اور پچھتاووں کا مجموعہ بھی بنا ڈالا ہے۔ ہماری زندگی میں سب سے بڑا پچھتاوا کیا ہے، یہ جاننے اور اس کو تسلیم کرنے میں عمر گزر جاتی ہے اور ہم زیست کے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں پچھتاوا ایک عفر یت کی شکل اختیار کرکے ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں کی زندگیاں اور ان کے پچھتا و ے ایک دوسرے سے گہری مما ثلت رکھتے ہیں۔ ہم مغرب میں رہیں یا مشرق میں ہماری خوشیاں اور غم کسی نہ کسی نکتے پر ایک ہو جاتے ہیں۔

ہم اپنی زندگی اپنے ڈھنگ اور انداز سے گزارنا چاہتے ہیں لیکن یہ ہو نہیں پاتا کیونکہ ہم میں یا تو اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ ہم زندگی کو اپنی شرائط پر جئیں یا پھر ہمارے سارے خواب صرف اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنی زندگی کی ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور خود فیصلے نہیں کر پاتے اور اپنی پوری زندگی اپنے گردموجود لوگوں کی توقعات کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ ہمارے خواب حقیقت کا روپ لینے سے پہلے ہی دوسروں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا پچھتا وا ہے جس کا سامنا ہمیں زندگی کی آخری سیڑھی پر پہنچ کر ہوتا ہے۔ کچھ پچھتا وے صرف مردوں کی قسمت میں لکھے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں خاندان کی کفالت کی بنیادی ذ مہ د ا ری ان کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ بچوں نے کب بچپن کی دہلیز پھلانگ لی اور وہ اپنے بچوں کا سنہری بچپن نہیں دیکھ پائے۔ کاروباری الجھنوں میں اپنے خاندان کو قریب سے جان ہی نہیں پائے۔ ان کو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ بچوں نے ڈرائینگ بک پر ان کا ایک پورٹیٹ بنایا تھا یا وہ روز اپنے پاپا کا کہانی سننے کے لیے انتظار کرتے رہے ہیں۔ نوکری اور روزگار کے غم نے ان سے تمام وقت ہی چھین لیا جس پر ان کے بچوں اور اہل خانہ کا حق تھا۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس پچھتا وے کے ساتھ جی رہے ہیں کہ ساری محنت جن کے لیے کر تے ہیں کام کی زیادتی نے ان کو ہی ان سے دور کر دیا ہے؟ ہم کہیں رشتوں کی دنیا میں تنہا تو نہیں ہوگئے۔

زندگی میں ایک بہت اہم بات اپنے خیالات اور جذبات کو دوسروں تک پہچانا ہے لیکن ہم دوسروں کی ناراضگی یا ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچ جانے کے ڈر سے کبھی اپنے دل کی بات ہی نہیں کر پائے۔ ہماری تمام صلاحیتیں ہمارے اندر گھٹ کر رہ گئیں جس کی وجہ سے کبھی مزاج میں تلخی آگئی تو کبھی کوئی بیماری اور اس نے ایک ایسے پچھتا وے کا روپ دھار لیا جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں اتنے مصرو ف ہو گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے بہترین دوستوں کے لیے وقت ہی نہیں ہے ۔ دل کے وارڈ کے باہربہت خوبصورت جملہ لکھا تھا کہ “اگر کھول لیتے دل دوستوں کے ساتھ تو آج نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ”۔ ہم اپنے بچپن کے دوستوں کو یاد کرتے ہیں انکی باتیں کرتے ہیں، انکی شرارتوں کو ان کی حماقتوں کو اور اس سنہرے زمانے کو جس میں صرف بے فکری تھی، کو یاد کرتے ہیں لیکن وقت نہیں نکالتے ان دوستوں سے ملنے کے لیے۔ اور وقت گزر جانے پریہ ز ندگی بھر کا پچھتا وا بن جاتا ہے۔

آخری اور سب سے اہم بات ، زندگی کی اس دوڑ میں ہم نے اپنی خوشی کو جاننے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ دوسروں کی خوشی پراپنی خوشی کو قربان کر تے رہے۔ ہم نے خوشی کو جاننے اور پہچاننے کا عمل شروع ہی نہیں کیا اور نتیجے میں مسرت کا خوبصورت پرندہ ہماری زندگیوں سے غائب ہوگیا۔ ہم نے تجربے کرنا، حماقتیں کرنا چھوڑ دیا ہے۔ تبدیلی سے ڈرنے لگے اور یکسانیت کا شکار ہوگئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر غیر جذباتیت کا ایک خول چڑھا لیا اور کھل کر ہنسنا بھول گئے ہیں اور گھٹن کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ ایسا المیہ ہے جو ہماری زندگی پر انتہائی منفی اثر ڈالتا ہے اور شدید پچھتاوے کا سبب بنتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی زندگی میں یہ غم بالکل نہیں ہوں گے۔ آپ نہ صرف اپنے بچوں، خاندان اوربچپن کے دوستوں کے ساتھ بھرپور زندگی گزار رہے ہوں گے بلکہ اپنے جذبات اور خوابوں کی آبیاری بھی اپنے انداز سے کر رہے ہوں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کسی ایک بھی ایسے المیے کا شکار ہیں تو ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ حل صرف ادراک اور سچ کا سامنا کرنے میں پنہاں ہے۔ زندگی کو پچھتاووں کے بجائے خدا کا شکرادا کرتے ہوئے گزارنا ہی ا صل مقصد حیات ہے۔