معلومات

ناول کرونا وائرس

ووہان کے ہسپتال میں 29 دسمبر 2019 کو چار مریض آئے۔ چاروں کو نمونیا تھا اور چاروں مچھلیوں اور جانوروں کی منڈی میں کام کرتے تھے۔ اس نے صحت کے محکمے میں کام کرنے والوں کی توجہ حاصل کر لی۔ اس سے دو روز کے بعد چینی حکام نے عالمی ادارہ صحت کو ایک نئے وائرس کے بارے میں مطلع کر دیا۔ آپ نے اس بارے میں شاید سنا ہو۔ یہ کرونا وائرس کا نیا سٹرین ہے جب کسی نئی بیماری کا معلوم ہوتا ہے تو اس کے بارے میں بہت سے چیزیں نامعلوم ہوتی ہیں۔ اور یہ نامعلوم بہت سی مِس انفارمیشن کا سبب بنتا ہے۔ یہ مضمون ایک مختصر خلاصہ ہے، اس کا جو ہمیں اس وقت تک معلوم ہے اور اس بارے میں بہت زیادہ گھبرانے کی ضرورت کیوں نہیں ہے۔

اس وائرس کو 2019 ناول کرونا وائرس کہا جاتا ہے۔ کرونا فیملی کے بہت سے دوسرے وائرس ہیں۔ یہ نام اس لئے ہے کہ اس فیملی میں وائرس پر نکلی ڈنڈیاں کسی تاج کی طرح لگتی ہیں۔ یہ وائرس جانوروں اور انسانوں میں عام ہے۔ ان میں سے چند ہیں جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ سٹرین زکام کرتے ہیں۔ صحت کا زیادہ سنجیدہ مسئلہ بننے والے اور SARS اور MERS رہے ہیں۔ جو سانس کی سنجیدہ بیماریاں ہیں۔ایشیا میں Severely Acute Respiratory Syndrome کرونا وائرس 2002 میں آیا۔مشرقِ وسطیٰ میں Middle East Respiratory Syndrome کرونا وائرس 2012 میں آیا۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ نیا وائرس ان دونوں میں سے کوئی نہیں کیونکہ اس کا پورا جینوم بہت جلد شائع کر دیا گیا تھا۔ اور یہ عالمی وباوٗں کی ڈیٹابیس کا حصہ ہے۔ لیکن اس سے ہونے والی بیماری کی علامات ان بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں جو بخار اور کھانسی ہے۔

وبائی امراض کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ جانوروں سے انسان میں جمپ کیا ہے۔ یعنی کہ زونوٹک بیماری ہے۔ وائرس اپنے میزبان کے انتخاب کے بارے میں زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کو خلیے کے اندر جانا ہوتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ تالے کی چابی بنانے جیسا کام ہے۔ لیکن کسی موقع پر کسی وائرس کا تکا لگ جاتا ہے۔ اور وہ نئی نوع میں جا کر ڈیرا جما سکتا ہے۔ پھر میوٹیشن کے ذریعے اس نوع کا طفیلیہ بن جاتا ہے۔

سارس، مرس اور ناول کرونا وائرس سب کی ابتدا غالباً چمگادڑوں سے ہوئی تھی لیکن انسانوں تک پہنچنے کے لئے تینوں کا راستہ جدا تھا۔ سارس مشک بلاوٗ سے آیا، جبکہ مرس اونٹ سے پہنچا۔ جو لوگ ان جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یا ان کا استعمال کرتے ہیں، عام طور پر ان کے آنے کا راستہ یہ بن جاتا ہے آپ نے شاید ناول کرونا وائرس کے بارے میں بھی کچھ خبریں دیکھیں ہوں لیکن اس وقت ہمیں بالکل بھی معلوم نہیں کہ یہ کس جانور کے ذریعے انسانوں تک آیا ہے۔ اس کا جینیاتی ڈیٹا جنوری کے وسط میں شائع ہوا ہے۔ سائنسدان ابھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کونسا جانور ممکن ہے۔

ایک پیپر جس نے میڈیا کی توجہ حاصل کی، اس میں اس کو سانپ سے انسانوں تک آنے کا بتایا تھا۔ جس مارکیٹ سے یہ چار ابتدائی مریض آئے تھے، وہاں سانپ بھی بکتے ہیں، اس لئے کچھ لوگوں نے اس پر یقین کر لیا لیکن اس میں شواہد بہت کمزور ہیں۔ کرونا وائرس پرندوں اور ممالیہ میں ملتا ہے۔ سانپ میں اس کی موجودگی ہی غیرمعمولی ہو گی چہ جائیکہ یہ اس کے ذریعے انسانوں تک پہنچے۔

اور کیا یہ مارکیٹ ہی وہ جگہ تھی جہاں سے ابتدا ہوئی؟ ہمیں معلوم نہیں۔ ابتدائی کیس یہاں سے آنے سے ایسا لگا تھا لیکن بعد میں محققین نے اس سے پرانے کیسز کی شناخت بھی کر لی۔یہ پہلی بار کہاں سے آیا؟ اس پر تحقیق کی اس وقت کی یہ پہلی یا اہم ترجیح نہیں۔ اس وقت توجہ اس پر ہے کہ وائرس کیسے behave کر رہا ہے۔ اس پر اعداد و شمار روزانہ بدل رہے ہیں لیکن اب تک 11500 لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ تقریباً سب کا تعلق چین سے ہے۔ چند کیسز قریبی ایشیا ممالک، آسٹریلیا، فرانس، امریکہ اور کینیڈا تک بھی پہنچے ہیں۔ یہ تعداد بڑی ہے لیکن ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کتنی جلدی پھیلتا ہے اور کتنی بار سنجیدہ علامات کا باعث بنتا ہے۔

ہمیں یہ علم ہے کہ انسانوں سے انسانوں میں یہ پھیل سکتا ہے لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کہ کتنی آسانی سے۔ اس بارے میں ایک آدھ عدد دیکھنا غلط معلومات دیتا ہے۔ مثال کے طور پر وبائی امراض میں ایک عدد آر ناٹ کا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اوسطاً ایک مرض سے یہ کتنی دوسرے لوگوں کو بیمار کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطالبق ناول کرونا وارئس میں یہ نمبر 1.4 سے 2.5 کا ہے۔ اور انٹرنیٹ پر اس نمبر کو بتا کر ڈرایا جاتا ہے۔ یہ ایبولا یا کئی دوسرے امراض سے زیادہ ہے لیکن یہ موازنہ اکیلے میں کچھ زیادہ نہیں بتاتا۔ یہ عدد عام فلو میں بھی اتنا ہے۔ یہ بیماری کے خطرناک ہونے کے بارے میں نہیں بتاتا۔ اور جب ہمیں ٹھیک معلوم ہو جائے کہ احتیاطی اقدامات کیا لینے ہیں تو یہ کم ہو جاتا ہے۔ وبا میں ایک اور عدد وائرولنس کا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ بیماری ہو جانے کے بعد کتنی خطرناک ہے۔ میکسیکو میں 2003 میں پھیلنے والی آشوبِ چشم کا آر ناٹ 4 تک تھا لیکن چونکہ وائرولنس زیادہ نہیں، اس لئے اس نے خوف و ہراس نہیں پھیلایا۔

اپیڈیمولوجسٹ آر ناٹ کی پرواہ اس لئے کرتے ہیں کہ اگر یہ عدد زیادہ ہو تو بیماری زیادہ جلد پھیل جاتی ہے اور ایسی بیماری بھی جس میں مرنے کا امکان بہت ہی کم ہو، وہ بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مرنے والوں کے تناسب fatality rate کہلاتا ہے۔ ناول کرونا وائرس کا ریٹ کتنا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں لیکن سارس اور مرس سے کم ہے۔ ایک اندازہ تین فیصد کا لگایا گیا ہے لیکن ابھی اتنا ڈیٹا میسر نہیں کہ زیادہ اچھا اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ رپورٹ ہونے والی کیسز اور ہونے والی اموات کو مدِنظر رکھ کر لگایا گیا ہے لیکن اگر یہ بیماری زیادہ تر سنجیدہ علامات کا باعث نہیں بنتی اور مریض خود جلد ریکور کر جاتا ہے تو رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی کم ہو گی۔ اس لئے امکان یہ ہے کہ یہ نمبر اس سے خاصا کم بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ اتنا ہے کہ یہ تشویش کا باعث ہے۔ اور اس کو پھیلنے سے بچانا ضروری ہے۔

دنیا پہلے تجربات سے سیکھ چکی ہے اور ممالک مل کر اس کے خلاف تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ چین نے اس کو روکنے سے بچانے کے لئے بڑی جلد موثر اقدامات لئے۔ نئے سال کی تقریبات منسوخ کرنا، بیماروں کو الگ کر دینا، بہت جلد وائرل جینوم کو سیکونس کر کے شائع کر دینا ان میں سے ہیں۔ اس جینوم سے دنیا بھر کے سائنسدان اس کا پتا لگانے کے لئے اچھے ٹیسٹ بنا سکتے ہیں۔ ویکسینز کو بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

نئی بیماری اور نیا وائرس تشویش کی بات ہوتی ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بارے حد سے زیادہ خوف اور گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ اس سے متاثرہ علاقوں میں ہیں یا وہاں گئے ہیں تو وہی احتیاطی تدابیر کرنے کی ضرورت ہے جو فلو سے بچنے کے لئے۔ کھانسنے اور چھینکے سے جو ذرات ہیں، ان سے پھیلتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ہاتھ دھوتے رہیں، بیمار محسوس کر رہے ہیں تو گھر میں رہیں۔ اس طرح آپ فلو سے بھی بچ سکیں گے۔ موازنے کے لئے: امریکہ میں اس سال عام فلو سے ڈیڑھ کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں، ایک لاکھ چالیس ہزار ہسپتال میں داخل ہوئے اور آٹھ ہزار لوگو اس وجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔ (پاکستان میں اس بارے میں اعداد و شمار اچھے نہیں لیکن پاکستان میں بھی مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے)۔

انسان اور جراثیم کا گرم سرد رشتہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ ناول کرونا وائرس کے بارے میں ابھی نامعلوم بہت کچھ ہے۔ نامعلوم ہمیں خوف زدہ کرتا ہے۔ طرح طرح کے غلط دعووں اور کہانیوں کا باعث بنتا ہے۔ اس کو معلوم میں تبدیل کرنے کے لئے اس وقت دنیا بھر کے سائنسدان کام کر رہے ہیں۔