اُردو صفحہ فیس بُک پیج

کالمز

کرونا وائیرس اور اسکا سدباب

گزشتہ چند روز سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی پہلی خبر کرونا وائرس ہی ہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اسوقت بنی نوع انسان کو اگر سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ کرونا وائرس ہی ہے کیونکہ کہ اس خطرناک اور مہلک مرض کا شکار کوئی انسان ہوجاتا ہے تو اس سے انسانی زندگی کا بچنا مشکل ہوجاتا ہےیہ ایک۔انتہائی خطرناک اور جان لیوا وائیرس ہے جو کہ ایک انسان سے روسرے انسان میں باآسانی۔ منتقل ہونے کی خاص صلاحیت رکھتا ہے اگر اس وائیرس کا شکار کوئی شخص ہے تو اس انسان کا سانس لینا کھانسنا چھینکنا حتی کہ بات تک کرنا بھی کسی دوسرے انسان کے لئے اس مہلک مرض کا باعث بن سکتا ہے یہ تنفسی نظام کے زریعے دوسرے انسان میں پہنچ جاتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اگر کرونا کا متاثرہ مریض کسی گیٹ کھڑکی برتن صوفہ یا بستر استعمال کے علاوہ زیادہ سے زیادہ ہاتھ بھی لگاتا ہے تو بھی اس کے جراثیم ان اشیا میں منتقل ہوجا تے جو کسی دوسرے شخص کے چھونے پر بھی وہ اس وائرس کا شکار ہوسکتا ہے

اس وائرس کا شکار مریض قوت مدافعت کی شدید کمی کی وجہ سے اتنا حساس ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے زرا سا بھی ذہنی تناو مریض کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے اس لئے ایسے مریض جو کرونا کا شکار ہوں انکو کھلے ما حول جہاں ترو تازہ ہوا کا گزر ہو میں رکھنا سود مند ثابت ہوسکتا ہے ساتھ ہی مریض کے لئے ماسک کا استعمال بھی ضروری بنایا جائے کرونا وائرس کا شکار مریض اگر کسی فیملی کے ایک شخص کو ہے تو بہتر یہی ہے کی گھر کے دیگر افراد اس سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں اور اپنا بستر برتن اور دیگر اشیا کو الگ کرلیا جائے یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ پہلی بار نہیں کہ کرونا وائیرس نے چین پر حملہ کرچکا ہے 2002/2003 میں بھی اس وائیرس سے چین میں تقریبا 800 ہلاکتیں ہوئیں تھیں جبکہ 8000 سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے تھےاور اس بار جب دوبارہ اس وائرس نے سر اٹھایا ہے تو اب تقریبا 134افراد اس سے ہلاک اور تقریبا 6000 سے زیادہ چین میں متاثر ہو چکے ہیں چین میں اس مہلک وائرس سے بچاو کے لیے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ اس کرونا سے عوام کو بچایا جاسکے اور اسی کے پیش نظر چین میں خاص طور پر ایک ہسپتال ہنگامی بنیادوں پر قائم کیا جا رہا ہے

جہاں صرف اس کا شکار اور متاثرہ مریضوں کا ہی علاج ہو سکے گا اور باقاعدہ طور پر فروری میں علاج کا آغاز کردیا حائے گا جہاں کرونا نے چین کو متاثر کیا ہے تو وہی دیگر ممالک کو بھی کرونا کے تیزی سے پھیلتی وبا نے تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور اب اس مہلک کرونا سے بچاو کے لئے اقدامات کرنا بھی شروع کردئے ہیں جیسا کہ امریکہ اور کینیڈا نے چین میں موجود اپنے شہریوں کو با حفاظت واپس لانے نہ صرف کے اقدامات کئے بلکہ چین کے سفر اور آنے جانے سے گریز کرنے کا بھی کہہ دیا ہے اب دیکھیں ہانگ کانگ نے تو چین میں آنے جانے پر سفری پابندی عائد کردی ہے

اب یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی اس سے بچاو اور روک تھام کے لئے کوئی حتمی اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ کرونا کہ 5 کیسز پاکستان میں بھی رپورٹ ہوچکے ہیں اور سب سے بڑا چین میں موجود پاکستانی طلباء اور دیگر افراد کی واپسی ہے کیا پاکستانی حکومت کی جانب سے ان افراد کو با حفاظت لانے کے لئے کوئی اقدامات کئے جارہے ہیں یا کہ صرف تسلی ہی دی جارہی ہے خیر یہ تو بات یقینی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان برادرانہ ۔ تعلقات ہیں تو آمد ورفت اور آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے حالیہ
صورتحال کے پیش نظر فی الحال پاک چائنا سرحد تو بند کردی گئ ہے اور ایئر پورٹس پر بھی اسکیننگ مشینیں لگادی گئیں ہے تو کیا کافی ہوگا ہر گز نہیں پاکستان کو جب تک چین اس کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے ہر قسم کی سفری پابندی عائد کرنالازمی ہے اور اس پر فی الفور اقدامات بھی کرنا ہونگے ۔