ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سلاجیت کیا ہوتی ہے، کیسے بنتی ہے؟

اکثر موسم سرما میں قبائلی علاقہ جات یا شمالی علاقوں سے لوگ شہروں اور قصبوں میں وارد ہوتے ہیں۔ ان کے کاندھے پر ایک بڑی گٹھری ہوتی ہے جس میں طرح طرح کی ایسی سوغاتیں ہوتی ہیں جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ جن کے بارے میں خاص طور پر مرد حضرات میں بڑی لچھے دار کہانیاں مشہور ہیں۔ ان سوغاتوں میں دنداسہ، ہینگ، اخروٹ، بادام، پستہ، سلاجیت اور دیگر کچھ جڑی بوٹیاں وغیرہ شامل ہوتی ہیں، جن کے فوائد کے بارے میں عجیب جناتی قسم کی کہانیاں مشہور ہیں۔ سلاجیت بھی ایک ایسی ہی پہاڑی سوغات ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مردانہ طاقت میں بےپناہ اضافہ کرتی ہے جس کے معاملے میں مرد حضرات ہمیشہ سے بلا کے حریص ہیں۔ مشہور ہے کہ بڑے بڑے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں اور نوابین کو ان کے طبیب سلاجیت سے تیار شدہ نسخے استعمال کرواتے تھے، جس کی بدولت وہ روزانہ درجنوں عورتوں کے ساتھ بیک وقت داد عیش دیتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کتنے بعد میں گردوں اور دیگر شدید اقسام کے امراض میں مبتلا ہو کر اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔

بھارت کی بےشمار فارمیسیاں اور ویدک دواخانے سلاجیت سے تیار شدہ نسخے بڑے بڑے دعووں کے ساتھ فروخت کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں دودھ اور شہد تک خالص دستیاب نہیں تو وہاں سلاجیت جیسی نایاب اور قیمتی چیز کا خالص ملنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر آپ کو خالص سلاجیت چاہیے تو مئی جون کے مہینے میں کیلاش یا ہمالیہ کے پہاڑوں پر جا کر بذات خود اس پتھر کے پسینے کو تلاش کریں۔ یہ بھی سنا ہے کہ ان پہاڑی علاقوں کے لنگور اس کو بڑے شوق سے چاٹتے ہیں۔ سلاجیت کے بارے میں عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں، جن میں بڑا دخل ان کو فروخت کرنے والوں کی لفاظی کا ہے۔ آئیے آج سلاجیت کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس کے طبی فوائد کیا ہیں۔

سلاجیت کے معنی “پتھر کی جان” کے ہیں۔ سلاجیت، شمالی پاکستان بالخصوص گلگت بلتستان، چترال اور کالاش کےعلاوہ کوہ ہمالیہ کا نچلا حصہ ہر دوار شملہ اور نیپال۔ اس کی کثیر مقدار کھٹمنڈو سے آ کر بھارت و پاکستان میں بکتی ہے، اس کا رنگ سیاہی مائل چاکلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔ مئی جون میں بعض پہاڑوں میں گرمی کی شدت کے باعث دراڑوں کے اندر سے ایک قسم کی گوند کی طرح کا مادہ خارج ہو کر جم جاتا ہے، یہ مادہ پہاڑ کی درزوں/دراڑوں میں از خود بنتا ہے۔ یہ ایک ٹھوس مادہ ہوتا ہے جس میں نامیاتی اجزاء، نباتاتی ریشے اور ارضی اجزاء پائے جاتے ہیں۔‌ سلاجیت ایسے پہاڑوں‌ سے نکلتی ہے جن میں‌ سونے، چاندی، تانبے، سیسہ، زِنک اور لوہے کی کانیں ‌ہوتی ہیں‌، اس لیے اس کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔ اس میں‌ سےگائے کے پیشاب جیسی بُو آتی ہے۔

اس کے مختلف نام ہیں جو درج ذیل ہیں:
1- انگریزی: black asphaltum۔ 2۔ لاطینی: Asphaltum punjabian۔ 3- فارسی: ملایی۔مومیائی۔ 4- ہندی: شیلاجیت۔ 5- اردو: سلاجیت۔

تاثیر:
سلاجیت کا مزاج گرم، خشک، اور ذائقہ تلخ ہوتا ہے۔ مقدار خوراک 2 رتی سے 1 ماشہ تک ہے۔
سلاجیت کو چترالی زبان میں “زومو آشرو” یعنی “پہاڑ کا آنسو” کہا جاتا ہے۔ چترالی زبان میں “آشرو” آنسو کو کہا جاتا ہے، لفظ آشرو پنجابی زبان کے لفظ “اَتھرُو” سے بنا ہے۔

طب یونانی میں اس سیال مادہ کے کئی طبی فوائد بیان کیےگئے ہیں۔ جن میں؛
1- ہڈیوں کی کمزوری کا خاتمہ۔ 2- جسمانی کمزوری کا خاتمہ۔ 3- شیاٹیکا درد کا خاتمہ 4 – ران کے پٹھوں میں پڑنے والے عضلاتی کھچاؤ کا خاتمہ۔ 5- پنڈلی کے پٹھوں میں پڑنے والے کھچاؤ کا خاتمہ۔ 6- پاؤں میں پڑنے والی سوجن کا خاتمہ۔

سلاجیت ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے اور جسم کو گرمائش دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عموما یہ مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہر مرض کے لیے مفید ہے، اعصابی امراض میں بکثرت اس کا استعمال ہوتا ہے، اعصاب کوطاقت دیتی ہے۔

اگرچہ سلاجیت پیشاب آور ہے، مگر اس کو “سلسل البول” یعنی بار بار پیشاب آنا میں استعمال کیا جائے تو پیشاب کی زیادتی کو روک کر مثانہ کو قوی کرتی ہے۔ سردیوں میں اس کی معمولی سی مقدار کھانے سے سردی کا احساس ختم ہوتا ہے۔کلکتہ ٹراپیکل سکول نے سلاجیت کا کیمیائی تجزیہ کیا تھا، جس سے ثابت ہوا ہے کہ اس دوائی کی تاثیر اس کے مؤثر اجزا بنزئوگ ایسڈ اور بنزوئیس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لالچی دکاندار سلاجیت کی جگہ سڑا ہوا گڑ بھی دے دیتے ہیں۔

اصلی سلاجیت کی پہچان
سلاجیت کی شناخت یعنی اس کے اصل اور نقل ہونے کی شناخت کا طریقہ یہ ہے کہ سلاجیت کو پانی میں بھگو دیں، اور انگلی سے رگڑ کر اٹھائیں‌، اگر تار جیسے ریشے نکلیں تو اصلی ہے، اور اگر سلاجیت پانی میں حل ہونا شروع ہو جائے تو نقلی ہے۔

استعمال سے قبل سلاجیت کی صفائی کا طریقہ:
‎سلاجیت کو جمع کرنے والے پہاڑوں پر سے اس کو کھرچ کھرچ کر اکٹھا کرتے ہیں۔ اس میں کنکر پتھر اور مٹی وغیرہ شامل ہوتی ہے، جس کو صاف کیے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سلاجیت کو صاف کرنے کے لیےاس کو گرم پانی میں آدھے دن تک بھگو دیں، ‌اس کے بعد باریک ململ کے کپڑے سے چھان لیں‌، چھنے ہوئے پانی کو دھوپ میں رکھ دیں، اس کے اوپر بالائی آئے گی، اس کو اتار لیں اور جب تک بالائی آتی رہے اتارتے رہیں،‌ یہی صاف سلاجیت ہے۔

سلاجیت میں ایک مومی مادہ پایا جاتا ہے جسے تیز آنچ پر رکھنے سے نقصان پہنچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سورج تاپی سلاجیت کو اگنی تاپی سلاجیت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ جب غیر مصفی سلاجیت کو صاف کرنا ہو تو اسے قریبا چار گنا گرم پانی یا دودھ میں گھول کر کپڑ چھان کر کے آہنی ظرف میں ڈال دیتے ہیں، اس سیال کو دھوپ میں رکھ دیتے ہیں، جب اس کے اوپر کالی کالی بالائی سی آجاتی ہے، اسے اتار لیتے ہیں۔ بس یہی سورج تاپی یعنی آفتابی شدھ سلاجیت ہے جس کو ست سلاجیت بھی کہتے ہیں۔ ایک دفعہ سیال پر سے بالائی اتار لینے کے بعد پھر بھی بالائی آتی ہے اور اسی طرح اتار لی جاتی ہے، جب بالائی اوپر آنی بند ہو جائے تو پھینک دی جاتی ہے۔

سلاجیت خاص طور پر ہڈیوں کی مضبوطی اور پٹھوں کی تعمیر کے لیے بہت مفید ہے۔ باڈی بلڈر حضرات بھی اس سے بنے سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ سلاجیت اور اس سے بنے بےشمار مرکبات بازار میں دستیاب ہیں، لیکن اصلی سلاجیت بھی اب انتہائی مہنگے بلکہ سونے کے دام ملتی ہے، اس لیے معیاری اور بااعتماد دواخانے کے مرکبات ہی خریدنے چاہییں۔ ہمدرد کی قرص سلاجیت بھی ایک معیاری پروڈکٹ ہے۔ گلگت بلتستان کی سلاجیت بھی بہت اعلی اور عمدہ تصور کی جاتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

ثناء اللہ خان احسن

 

تبصرے
Loading...