بلاگ کالمز معلومات

درست پیشے کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

برسوں سے یہ ریت چلی جارہی ہے کہ جب بھی انسان شعور کی سرحدوں پر قدم رکھتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دل میں ایک نیا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ مستقبل کی فکر کرتا ہے تو ذہن میں بہت سارے منصوبے جیسے ڈاکٹر، پائلٹ یا انجینئر ہمیشہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اِس کی خاص وجہ یہ ہے کہ صرف یہی چند ضابطے ہیں جو عزت و روپے پیسے کی ضمانت سمجھے جاتے، حتٰی کہ آج کے جدید دور میں بھی اکثریت کا پہلا انتخاب ایسے منافع بخش پیشے ہی ہیں، حیرت کی بات یہ کہ لوگ یہ بات بھی نہیں جانتے کہ آج پیشے کے انتخاب کے لئے مواقع لاتعداد ہیں۔آج جب ہم طلبا و طلبات کی زندگیاں متحرک و مصروف ترین ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار تخلیقی صلاحیتوں سے مزین ہیں تو اس کے ساتھ  ہی بے خبری و لاعلمی کے ساتھ ساتھ سستی و کاہلی شاید ہماری زندگیوں کا حصہ ہے۔ ہم میں سے چند طلبا و طلبات ہی اب طب اور انجنیئرنگ سے دو قدم آگے آئی ٹی، الیکٹرونک میڈیا، ویب نٹ ورکنگ سے آن لائن کاروبار کرنے کے

نئے راستوں کے علاوہ چند غیر روایتی پیشوں تک قدم بڑھا رہے ہیں جو ایک مثبت عمل ہے، لیکن اس مثبت عمل میں بہت کم طلبا و طلبات شامل ہیں۔ اکثریت آج بھی لاعلمی اور ناکافی رہنمائی کی وجہ سے تعلیمی سفر میں مشکلات کے ساتھ ساتھ درست پیشے کے انتخاب میں بھی ناکامی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔درست پیشے کے انتخاب کا سوال آج بھی موجود ہے اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ’’درست پیشے‘‘ سے مراد محض ایک پیشہ ہی لیتے ہیں۔ وہ پیشہ جو ہمارے حالاتِ زندگی بہتر سے بہترین بنا دے، منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سہل و آرام دہ بھی ہو۔ محنت طلب نہ ہو۔ یہاں ہم کام میں دلچسپی، ذہنی اطمینان، شوق و لگن کو اپنی ترجیحات سے خارج کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے اور شاید یہی وجہ کہ ہم کسی بھی شعبے کی وسعت کا جائزہ نہیں لے پاتے۔مثال کے طور پر ایک عشرہ قبل کمپیوٹر سائنس کے پیشہ ور ماہرین کی طلب تھی تو طلباء کا ایک سیلاب ’’ماسٹر آف کمپیوٹر سائنس‘‘ میں چلا آیا۔

جس کے نتائج مایوس کن رہے، اس لیے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کیرئیر کونسلنگ کو اہمیت دی جائے۔ چونکہ کیرئیر کونسلرز عام طور پر ایسے رحجانات سے واقف ہوتے ہیں۔ کیرئیر کونسلنگ کو درست پیشے کے انتخاب کے لئے طلبا و طلبات کی رہنمائی میں کلیدی حثیت حاصل ہے۔درحقیقت مقصدِ حیات کا تعین ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسکول کی سطح پر ہی کیرئیر کونسلنگ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کیرئیر کا فیصلہ کرتے وقت اکثر والدین کے ساتھ طلبہ خود کو بے بس پاتے ہیں۔ وجہ مارکیٹ کے رحجانات، تعلیمی نظاموں اور کسی مخصوص شعبہ کی وسعت سے لاعلمی ہے۔ کیرئیر کونسلنگ چودہ، پندرہ برس کی عمر سے ہی بہت ضروری ہے، مگر طلبہ اس عمر میں زندگی بدل دینے والے بہترین فیصلے نہیں کر پاتے۔ یہاں مشورہ اور مکمل آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ ایک بار درست راستے کا انتخاب آگے کی تمام راہیں ہموار کردیتا ہے۔ ایک بار جب کوئی شعبہ منتخب کرلیا جاتا ہے تو اگلا قدم یقینی کامیابی کر طرف ہوتا ہے۔

کون سے مضامین، ڈگری، سرٹفیکیٹس، یا کورسسز کئے جائیں؟ یہ یقیناً ایک مشکل سوال ہے۔ اگر ہم طلبا و طلبات کسی تجربہ کار یا پیشہ ور ماہرین سے استفادہ کریں تو ہماری یہ مشکل باآسانی حل ہوسکتی ہے۔ ایم بی بی ایس، انجینئرنگ یا چارٹرڈ اکاؤنٹینسی بلاشبہ مشکل ترین اور بہترین مشاہرے والے شبعے ہیں۔ جن کا انتخاب انٹرمیڈیٹ یا اس کے مساوی تعلیم کے بعد براہِ راست کیا جا سکتا ہے، مگر یہاں پر لگن، شوق اور ذاتی رحجان بہت اہمیت کا حامل ہے کیوںکہ شوق و لگن تخلیقی صلاحیتوں اور تصورات کی تعمیر میں بہت اہم ہیں۔ کاروبار میں دلچسپی و شوق رکھنے والے طلبا بی کام، بی بی اے، بی بی آئی ٹی، بی سی ایس کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے ساتھ ہی

طلبا و طلبات کے لئے نئی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ انجینئرنگ کے شعبے میں بائیو میڈیکل انجنیئرنگ کا رخ بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح شعبہِ صحافت بھی بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ مگر ہمیشہ کسی بھی شعبے کا رخ کرنے سے پہلے اپنی دلچسپی و لگن کو مدِ نظر ضرور رکھیں۔درست راہ پر گامزن ہونے کے لئے بہت ضروری ہے کہ طلبا و طالبات، اپنے مقصدِ حیات کا تعین اپنے رحجان کے مطابق کریں۔ اپنے کام میں لگن، دلچسپی، اور شوق کو سامنے رکھیں۔ ذہنی و جسمانی چستی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے

آپ پر مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔ مستقل مزاجی اور لگاتار محنت ہمیں اپنے مقصد کے قریب تر کر دیتی ہے۔ اپنے آپ کو ہر طرح کے حالات کے مطابق ڈھالنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ بے شک خود شناسی بامقصد اور مکمل زندگی کی ضمانت ہیں، لہذا ہمیشہ اپنی دلچسپی اور ذہنی اطمینان کو اہمیت دیں۔ کسی بھی شعبے کا انتخاب کرنے سے پہلے یقین کرلیں کہ آپ کا منتخب کردہ شعبہ بغیر کسی رکاوٹ و پریشانی کے آپ کو کامیابی کی طرف کے جائےگا۔