معلومات

یادداشت کیسے کام کرتی ہے؟

انسانی یادداشت کا مطالعہ ہزاروں برسوں سے سائنس اور فلسفہ کا موضوع رہا ہے اور یہ علمی، ادراکی اور حسی نفسیات (Cognitive psychology) کے اندر دلچسپی کا سب سے بڑا مضمون بن گیا ہے۔ یادداشت دراصل کیا ہے؟ یادیں کیسے بنتی ہیں؟ اسے کس طرح منظم کیا جائے؟ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

یادداشت کیا ہے؟ یادداشت بنیادی طور پر ایک پیچیدہ عمل ہے، جس میں معلومات کو حاصل کرنا، یاد کرنا اور محفوظ کرنا شامل ہے، تاہم تمام یادیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یادداشت معلومات حاصل کرنے، محفوظ کرنے، برقرار رکھنے اور بعدازاں بازیافت کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں تین بڑے عمل انکوڈنگ (encoding)، اسٹوریج(storage) اور بازیافت(retrieval )شامل ہیں۔

یادیں کیسے بنتی ہیں؟ نئی یادوں کی تشکیل کے لیے معلومات کو قابل استعمال شکل میں تبدیل کرنا ضروری ہے ، جسے انکوڈنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک بار جب معلومات کو کامیابی کے ساتھ انکوڈ کریںتو آئندہ استعمال کے لیےاسے ذہن میں رکھیں۔ اس ذخیرہ شدہ یادداشت کا زیادہ تر وقت ہمارے شعور سے باہر رہتا ہے، ماسوائے جب ہمیں حقیقت میں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہو۔ بازیافت کا عمل ہمیں ذخیرہ شدہ یادوں کو شعوری آگاہی میں لانے کی اجازت دیتا ہے۔

یادیں کب تک چلتی ہیں؟ کچھ یادیں بہت مختصر، صرف چند سیکنڈ طویل ہوتی ہیںجو ہمیں آس پاس کی دنیا کے بارے میں حسیاتی معلومات دیتی ہیں۔ قلیل مدتی یادیں (Short-term memories) قدرے لمبی اور تقریباً 20 سے 30سیکنڈ تک رہتی ہیں۔ یہ یادیں زیادہ تر ان معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں جن پر ہم فی الحال توجہ مرکوز کر رہے ہوتے ہیں یا جن کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ کچھ یادیں زیادہ طویل ہوتی ہیں، جو ہفتوں، مہینوں حتیٰ کہ دہائیوں تک ذہن میں رہنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر طویل مدتی یادیں(Long-term memories ) ہماری فوری آگہی سے عاری ہوتی ہیں ، لیکن جب ضرورت ہو تو ہم ان خوابیدہ یادوں کو جگاسکتے ہیں۔

یادداشت کا اسٹیج ماڈل: 1968ء میں اٹکنسن اور شفرین نےیادداشت کا اسٹیج ماڈل کو متعارف کروایا تھا، جس میں یادداشت کے تین الگ الگ مراحل حسی یادداشت(sensory memory)، قلیل مدتی یادداشت (short-term memory) اور طویل مدتی یادداشت (long-term memory) کا خاکہ پیش کیا گیا ۔’’حسی یادداشت‘‘ ابتدائی مرحلہ ہے، جس کے دوران ماحول سے متعلق حسی معلومات کو بہت ہی مختصر عرصے کے لئے محفوظ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر بصری معلومات کے لئے ڈیڑھ سیکنڈ اور سمعی معلومات کے لئے 3 یا 4 سیکنڈ سے زیادہ دورانیہ نہیں ہوتا۔ ہم’’ حسی یادداشت‘‘ کے صرف چند پہلوؤں میں شرکت کرتےہوئے کچھ معلومات کو اگلے مرحلے یعنی قلیل مدتی یادداشت میں منتقل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

قلیل مدتی یادداشت ، جسے فعال یادداشت بھی کہا جاتا ہے ، ایسی معلومات ہے جس کے بارے میں ہم فی الحال واقف ہیں یا اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرائیڈین نفسیات میں اسے شعوری ذہن (conscious mind) کہا جاتا ہے۔ حسی یادداشت، قلیل مدتی یادداشت کی معلومات میں اضافہ کرتی ہے، جہاںیادداشت میں ذخیرہ کردہ زیادہ تر معلومات تقریباً20 سے30سیکنڈ تک رہتی ہیں۔ اگرچہ ہماری بہت سی قلیل مدتی یادیں جلدی سے فراموش ہوجاتی ہیں ، تاہم یہ معلومات اگلے مرحلے تک جاری رہتی ہیں۔ ’’طویل مدتی یادداشت‘‘ سے مراد دماغ میں معلومات کا مسلسل ذخیرہ ہونا ہے۔

یاد داشت کی تنظیم: طویل مدتی یادداشت، معلومات تک رسائی و بازیافت کی صلاحیت پر مبنی ہے، جو یادوں کو فیصلہ سازی، دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے اور مسائل حل کرنے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ معلومات کو یادداشت میں گروپس میں ترتیب دے کر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح درجہ بندی میں کی گئی معلومات کو یاد رکھنے اوربازیافت کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر الفاظ کے اس گروپ پر غور کریں،’’ڈیسک ، سیب ، کتابوں کی الماری ، سرخ ، بیر ، ٹیبل ، سبز ، انناس ، جامنی ، کرسی ، آڑو ، پیلارنگ‘‘۔ پڑھنے میں کچھ سیکنڈ صرف کریں، پھر ان الفاظ کو یاد کرنے اور ان کی فہرست بنانے کی کوشش کریں۔ جب آپ نے الفاظ کو درج کیا تو آپ نے ان کا گروپ کیسے بنایا؟ زیادہ تر لوگ تین مختلف زمروں کا استعمال کرتے ہوئے فہرست بناتے ہیں جیسے کہ رنگ، فرنیچر اور پھل۔یادداشت کو منظم کرنے کا طریقہ سمینٹک نیٹ ورک ماڈل (semantic network model) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یادداشت کیسے بڑھائیں؟ علمی و حسی ماہرین نفسیات (CognitivePsychologists) نے بہت ساری تکنیکیں دریافت کی ہیں، جن سےیادداشت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یادداشت بڑھانے کا بہترین اصول یہ ہے کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے سب سے پہلے درکار ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ قابلیت و ہنر کی فہرست تیار کریں۔ پھر ترتیب وار مکمل توجہ اس ہنر اور علم کو سیکھنے کی طرف لگاتے ہوئے اپنی نوٹ بک اور پنسل ساتھ رکھیں تاکہ ضروری ہدایات اور نکات نوٹس کی صورت لکھتے جائیں۔

کوئی بھی کام کرتے وقت متحرک اور دلچسپی کا ہونا ضروری ہے۔ سب سے اہم جزو بھرپور نیند ہے، جو یادداشت کے لیے ٹانک کا کام کرتی ہے۔ آج کا کام کل پر نہ ڈالیں،ورک شیڈول کی ڈائری ہر وقت ساتھ رکھیں۔جب بھی کوئی نئی بات ، منفرد آئیڈیا سوجھے فوری ڈائری میں نوٹ کرلیں۔ اپنے اعصاب کو پرسکون رکھیں ، جلد بازی کے چکر میں توجہ کو بھٹکنے نہ دیں۔مطالعے اور تحریر کو اپنی عادت بناکر آپ سدا بہار یادداشت پاسکتے ہیں۔