بلاگ خبریں

ہارس ٹریڈنگ اور عوام سے تواقعات

سینٹ الیکشن پہ چھائے غیر یقینی بادل بلآخر چھٹ گئے اور یہ روایت بخیرو عافیت خوش اسلوبی سے قرار واقعی انجام کو پہنچی- پنجاب سے ایک نشست پاکستان تحریک انصاف کے چودھری سرور کے نام رہی- ایم- کیو- ایم پاکستان کی تقسیم کا خوب فائدہ بھٹو کے جیالوں نے اٹھایا- خیبرپختونخواہ اسمبلی میں حکمران جماعت کا بلا چلا- بلوچستان میں پلڑا موجودہ حکومتی اتحاد کا بھاری رہا- احتصاراً ایوان بالا کے الیکشن میں اک زرداری سب پہ بھاری کا نعرہ عملاً سچ ثابت ہوا- کے-پی-کے اسمبلی میں چھ نشستوں کے ساتھ ایک جنرل اور ایک خواتین کی مخصوص نشست پر قبضہ اور سندھ اسمبلی میں 10 سینیٹرز کا انتخاب بھی مفاہمت کے گرو آصف علی زرداری صاحب کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے- پنجاب کے اندر عمران خان کی "تبدیلی” ٹیم کا کھلاڑی پیرنی صاحبہ کی پھونک سے جنرل نشست پر کامیاب قرار پایا- تواقعات کے عین مطابق الیکشن کے فوری بعد وہی روائتی تنقیدی شعلے اٹھے- ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کا شور جو الیکشن سے پہلے تھوڑا کم تھا الیکشن کے فوراً بعد شدت اختیار کر گیا جس کی صدائیں فاٹا، پنجاب، کے-پی-کے اور سندھ میں واضح سنی گئیں-

الیکشن سے جہاں ایک طرف جمہوری پریکٹس سر انجام پائی وہیں اس نے عوامی سوچ پر بھی گہرا اثر ڈالا- اس ساری پریکٹس میں ہوا کچھ یوں کہ عوامی نمائندوں کے نظریات اور ضمیروں کی بولیاں لگیں- کچھ صاحبان کے نظریات اور ضمیر نے اچھے دام وصول کیے اور کچھ نے جنرل الیکشن کے لیے ٹکٹ تک کی بولی پر نظریہ اور ضمیر بدلا- دلچسپ امر یہ رہا کہ ہر جماعت اے ٹی ایم والے صاحبان کی تلاش میں رہیں سب نے ایک آدھ اے ٹی ایم مشین کا ضرور سہارا لیا-تماشے کے لیے سٹیج انہیں صاحبان کی وجہ سے سجا اور تماشائی ہمیشہ کی طرح پھر عام عوام رہی جو اپنی اپنی ہم نظریہ جماعت کو جانتے ہوئے بھی صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ دیتے رہے- ضمیر کی اٹھتی آواز کو یہ کہہ کر پھر تالا لگا لیا کہ سینٹ کا الیکشن تو ہر دفعہ ایسے ہی ہوتا ہے- سزا وار کس کو ٹھرایا جائے کیونکہ بولیاں لگانے والے بھی جمہوریت کے علمبردار اور جن کی بولیاں لگیں وہ بھی اسی پرچم کو تھامنے والے- کچھ جماعتوں کے لیڈران کرام کے بیانات سننے کا اتفاق ہوا جس میں جمہوریت کی مضبوطی کی مبارکبادیں گونج رہی تھیں یہ کیسی مضبوطی تھی جہاں جیت پیسوں کے عوض بکتی رہی ضمیر اور نظریہ ہار سے شرمندہ رہا- یہاں کس کو موردالزام ٹھہرایا جائے اس عوامی نمائندے کو جس نے صادق و امین کا حلف لیا یا اسے جو چند روز بعد یہ حلف لے گا-

اس جمہوری پریکٹس سے عوام کو کیا سبق سکھایا گیا کہ پیسے کے پہاڑ سے ٹکرانے پر نظریہ اور ضمیر ہی پاش پاش ہوتے ہیں- عوام بھی انتخاب کے لیے کسی دولت مند انسان کا انتخاب کرے- قانون اور آئین کے پاسدار عوام کو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ اس طرح جمہوریت کی پختگی ہے- جب عوامی نمائندوں کے نظریات اس قدر کمزور اور بکاؤ ہیں تو عوام سے کیسی تواقعات ہیں- جمہوریت جمہوری روائتوں کی پاسداری سے مضبوط ہوتی ہے- تمام بڑی جماعتیں سیخ پا ہیں اور کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں جو ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں گی جس کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی اندیہ دیا جا چکا ہے- لیکن اس معاملے میں نشان عبرت صرف بکنے والے ارکان کو نہیں بنانا چایئے بلکہ بولیاں لگانے والے سینیٹرز کو بھی اپنی صفوں سے باہر نکالا جائےشاید پھر ہم اس نظام اور جمہوریت کے ساتھ انصاف کر سکیں ایسے لوگوں کا راستہ روکا جا سکے جو صرف پیسے کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں- اس سارے عمل میں پیپلز پارٹی خاموش تماشائی بنی رہی جس نے ہارس ٹریڈنگ سے متعلق کسی قسم کا کوئی الزام نہیں لگایا کیونکہ شاید انہیں معلوم ہے کہ کس کا ہارس سب سے زیادہ ٹریڈ کر گیا ہے-

ایسے ارکان کو نشاندہی کے بعد نہ صرف تا حیات سیاست سے رخصت کر دینا چائیے بلکہ سحت سزا عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی عوامی نمائندہ اس جمہوری عمل کا اس طرح مزاق نہ بنائے- ایک مثبت اور عملی قدم جس کی انتہائی ضرورت ہے کہ نہ صرف الیکشن اصلاحات پر دلچسپی سے تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر سوچیں اور اصلاحات کو عملی جامہ پہنائیں بلکہ سینٹ کے الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کیا جائے تاکہ آئندہ ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی نوبت تک نہ پہنچیں اور جمہوری عمل مزید مضبوطی کی جانب بڑھ سکے-پاکستان زدٓندہ باد-

تحریر: علی امین