بلاگ صحت معلومات

ہسپتال کے وارڈ میں مریض کے ساتھ لواحقین میں سے ایک کو ہی رکنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ (اس پابندی کی کی کئی ضروری وجوہات ہیں)

میری وارڈ میں ڈیوٹی چل رہی تھی جب ایک مریض آیا ہمارے وارڈ میں جس کے ساتھ مسلسل تین چار لواحقین رکے ہوئے تھے، نرسیں بھی تنگ ہو رہی تھیں دوائی لگاتے ہوئے اور مجھ سے دو تین دفعہ کہہ چکی تھیں کہ ان کے لواحقین کو کہیں کہ اتنے لوگ نہ رکیں یہاں میں نے ان میں سے ایک بندے کو آہستگی اور نرمی سے کہا کہ اتنے لوگ نہ رکیں یہاں پہ ، وہ آگے سےایک دم چلایا ”وجہ” میرے ساتھ ساتھ اردگرد کے مریضوں نے بھی چونک کے اسے دیکھا، میں نے پھر نرمی سے کہا کہ باقی کسی مریض کے ساتھ آپ کو ایک سے زیادہ لواحقین نظر آ رہے ہیں کیا ؟ ” ان کی مرضی، وہ نہیں رکے….. ہم کیوں جائیں یہاں سے ” وہ دوبارہ غصے سے بولا اب کی بار مجھے برا لگا اس کا لہجہ اور میں نے صاف کہہ دیا کہ مجھے نہیں کرنی آپ سے کوئی بات اور ان کے باقی لواحقین سے کہا کہ براہِ مہربانی اسے باہر بھیج دیں اور یہاں ایک بندہ رکے بس۔ لیکن وہ بندہ تو چلانے لگا کہ ” تماشہ بنایا ہوا ہے تم لوگوں نے ، یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ ایک بندہ رکے گا جتنے مرضی رکیں یہاں ، تم لوگ نواب بنے ہوئے ہو” میں نے غصے سے کہا اسے کہ خاموشی اختیار کر لو۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات!

اور ان کے لواحقین سے کہا کہ آپ اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا مریض یہاں علاج کروائے تو اس بندے کو وارڈ سے باہر بھیج دیں اور یہ دوبارہ نظر نہ آئے مجھے اس کے باقی عزیز اسے پکڑ کر باہر لے گئے ورنہ وہ پوری طرح ہاتھا پائی کے موڈ میں تھا اور جاتے جاتے بھی اول فول بولے جا رہا تھا اس واقعے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ مریضوں کے لواحقین سے لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں ڈاکٹرز کی اور کچھ ڈاکٹرز یہ کیوں کہتے ہیں کہ ان مریضوں سے فیس لینی چاہیے تاکہ انھیں میسر علاج اور سہولیات کی اہمیت کا احساس ہو سکے

جب یہ واقعہ پیش آیا میں اس وقت مسلسل پینتیس گھنٹے سے ڈیوٹی پہ تھا، جن میں سے تین گھنٹے سو کر گزارے تھے ، باقی بتیس ڈیوٹی کرتے ہی گزرے تھے لیکن اس کو بالکل احساس نہیں تھا کہ اسے مفت ملنے والی سہولیات کے لیے کون کتنی قیمت چکا رہا ہے اور اس کے باقی لواحقین کا رویہ بھی ایسا ہی ترش تھا، انھیں اپنے ساتھی کہ جہالت پہ قطعاً کوئی افسوس یا شرمندگی نہیں تھی اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اپنی نوعیت کا، روزمرہ کی بات ہے ہسپتال میں تو ایسے رویے ہم ڈاکٹرز کا دل کھٹا کیوں نہ کریں ؟ ہمیں سخت دل کیوں نہ بنائیں ؟؟؟؟