معلومات

ویلنٹائن ڈے

رُومی بادشاہ Claudius کلاؤڈیس دوم اپنے دَور کا ایک سفاک بادشاہ تھا- اُس نے اپنی سلطنت میں ایک حکم جاری کیا ہوا تھا جس کے تحت روم کی فوج کے نوجوان شادی نہیں کر سکتے تھے- اُس کی یہ سوچ تھی کہ غیر شادی شُدہ سپاہی، شادی شُدہ کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، کیونکہ شادی شُدہ افراد کو اِس بات کی فکر لگی رہتی ہے کہ اُن کی موت کے بعد اُن کے بیوی بچوں کا کیا ہو گا…؟ویلینٹائن اُسی دَور کا ایک پادری اور معالج بھی تھا اُسے بادشاہ کا یہ حکم سخت ناپسند تھا لہٰذا اُس نے اِس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طور پر نوجوان سپاہیوں کی شادیاں کروانا شروع کر دیں-

آخر کار جب ویلینٹائن کی حقیقت سب کے سامنے آئی تو اُسے قید میں ڈال دیا گیا اور جسمانی طور پر ہراساں بھی کیا گیا- دورانِ قید اُس پر نظر رکھنے کے لیے جس جیلر کو مقرر کیا گیا اُس کی بیٹی نابینا تھی- ویلینٹائن نے ایسے حیران کُن اور معجزانہ انداز میں اُس کا علاج کیا کہ جیلر نے اُس سے متاثر ہو کر اپنے پورے خاندان کے ساتھ عیسائیت اختیار کر لی-

اپنے اِن جرائم کی پاداش میں 269AD میں ویلینٹائن کو موت کی سزا سُنائی گئی- جس روز اُس کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا اُسی صبح اُس نے جیلر کی بیٹی کو ایک الوداعی خط لکھا جس کا اختتام اُس نے ”from your valentine“ پر کیا- جس سے متاثر ہو کر آج کل کی نوجوان نسل بھی کچھ ایسے ہی القابات اپنے لیے بھی استعمال کرتی ہے-ویلینٹائن ڈے کا رومانس سے کوئی تعلق نہیں تھا- یہ تعلق قرونِ وسطیٰ کے ایک شاعر جیوفرے چاسر (Geoffrey Chaucer) نے محض اپنی شاعری کے ذریعے قائم کیا-

ویلینٹائن ڈے کی بنیاد قدیم رومیوں کے ایک تہوار (Lupercalia Festival) سے شروع ہوئی جو 15 فروری کو منایا جاتا تھا- رومی تقریباً آٹھ سو سال (800) تک اِس تہوار کو اپنی دیوی لیوپرکس (Lupercus) کے اعزاز میں مناتے رہے- اِس تہوار کی تقاریب میں تمام نوجوان لڑکیاں اپنے نام کی پرچیاں ایک مرتبان میں ڈال دیتی تھیں اور پھر نوجوان لڑکے اُس میں سے ایک ایک پرچی اُٹھا لیتے تھے- جس کے پاس جس لڑکی کے نام کی پرچی آتی تھی وہ تہوار کی باقی تقاریب کے لیے اُس کی دوست منتخب ہو جاتی تھی- اگر کسی جوڑے کی آپس میں اچھی بنتی تو وہ اگلے سال تک بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے- یہاں ایک ضروری بات قابلِ غور ہے کہ یہ تعلق مکمل طور پر غیر شرعی اور بےہودہ ہوتا تھا- اس دن کو منانے والے تمام لوگ کافر تھے-

بعدازاں پوپ گلیسیئس (Pop Glasius) نے 496AD میں (Lupercalia Festival) کو (Valentines Day) میں بدل دیا لیکن اِس کی روایات اور اقدار کو نہ بدل پایا جو آج بھی ویسے ہی برقرار ہیں- دیگر ممالک میں اِس دِن کو اپنے اپنے طریقے سے منایا جاتا ہے- کچھ ممالک میں تو اِسے بالکل اُسی طرح منایا جاتا ہے جیسے رومی مناتے تھے- بعض لوگوں میں ایک تصوّر پایا جاتا ہے کہ ویلینٹائن ڈے (Valentine Day) عیسائیوں کا ایک مذہبی تہوار ہے، یہ بالکل غلط اور بے بنیادی عقیدہ ہے، بلکہ یہ رومن اور کیتھولک تہوار ہے کیونکہ اِس میں دونوں کی تاریخ سے متعلق نظریات ملتے ہیں-اسلامی ممالک میں اِس دِن کے منانے پر سختی سے ممانعت ہے لیکن اِس کے باوجود کچھ ممالک اپنی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بہت جوش وخروش سے اِس دِن کو مناتے ہیں-

ایسے لوگوں کے بارے میں قرآنِ پاک میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے،”وہ لوگ جو اہلِ ایمان کے درمیان بےحیائی کی اشاعت کو پسند کرتے ہیں، اُن کے لیے دُنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے-“ (سورہ النور: 19)اِسلام ہمیں فحاشی اور بےحیائی سے روکتا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب تو ہر جگہ سرِعام حیا سوز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں- مختلف تفریحی مقامات پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ نظر آتے ہیں- پاکستان کے شہری علاقوں کی عوام اس دن کو زیادہ زوروشور سے مناتی ہے بلکہ فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی اِس کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں-قرآنِ پاک میں کئی جگہوں پر فحاشی اور بُرائی سے بچنے کا حکم آتا ہے-”فحاشی کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کُھلی ہو یا چُھپی ہو-“ (سورہ البقرہ: 169)اللہ تعالیٰ ہمیں ویلینٹائن ڈے جیسے بیحودہ اور غیر اِسلامی تہوار سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین