خبریں

بھارتی پولیس افسر دیوندر سنگھ کی گرفتاری سے بھارتی سیکیورٹی ادارے بے نقاب

سینئر بھارتی پولیس افسر دیوندر سنگھ کی نئی دہلی جاتے ہوئے عسکریت پسندوں کیساتھ گرفتاری نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشتگردی کے تمام الزامات کو دھو ڈالا ..  دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہی فالس فلیگ آپریشن تھا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر کئے گئے حملے میں پولیس افسر داوندرسنگھ نے افضل گرو کو ٹارچر کرکے حملہ آوروں کو مدد فراہم کروائی تھی۔ افضل گرو جو کہ کافی عرصہ قبل عسکریت پسندی چھوڑ کر ہتھیار ڈال چکا تھا اسے ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے اس فالس فلیگ آپریشن کے لیے مجبور کیا

فروری 2019 کے پلوامہ حملے میں بھی دیوندر سنگھ کا کردار اہم تھا جہاں وہ بطور ڈی ایس پی تعینات تھا دیوندر سنگھ کی گرفتاری سے بھارتی سیکیورٹی اداروں اور اس کی فوج کا خود دہشت گردی کروا کر اس کا الزام پاکستان پر لگانے کا کردار بری طرح بے نقاب ہوا ہے سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں پیس اینڈ کونفلکٹ اسٹڈیز کے پروفیسر نے بھی دیوندر سنگھ کی عسکریت پسندوں کے ساتھ گرفتاری پر شک ظاہر کیا کہ کہیں پولیس افسر دیوندر سنگھ پھر کسی سازش کیلئے نئی دہلی تو نہیں جا رہے تھے کہ ملک کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہو سکے انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی پولیس افسر دو دہشتگردوں کیساتھ دہلی کیوں جا رہا تھا ؟ کیا متنازع قانون کیخلاف جاری مظاہروں سے توجہ بھٹکانے کیلئے اور پاکستان پر الزام تراشی کیلئے کوئی کھچڑی پک رہی تھی ؟

13 دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی تفتیش کاروں نے اس حملے کا الزام براہ راست پاکستان پر عائد کیا تھا اس کے لیےجیش محمد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور حملے کی سازش تیار کرنے کے جرم میں افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔اس حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہوگئے تھے اور دونوں طرف سے سرحد پر بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی گئی تھیں۔2013 میں افضل گرو کو پھانسی دے دی گئ اور اس کی باقیات بھی تہاڑ جیل میں ہی دفنا دی گئ اس سے پہلے افضل گرو نے تہاڑ جیل سے اپنے وکیل سشیل کمار کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے اس فالس فلیگ آپریشن سے پردہ ہٹایا تھا افضل گرو اپنے خط میں لکھتا ہے میں نے ہتھیار ڈال کر کاروبار شروع کر دیا تھا  پولیس ہتھیار ڈالنے والے کشمیری عسکریت پسندوں کو ہراساں کرتی تھی "ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو نوکری نہیں دی جاتی تھی” ۔ وہ یا تو ایس پی او یا ایس ٹی ایف کی حیثیت سے کام کرتے تھے یا سیکیورٹی فورسز یا پولیس کی سرپرستی میں مجاہدین کے ساتھ لڑتے تھے روزانہ یہ ایس پی او عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے جاتے تھے۔میں نے ہتھیار ڈالنے کے بعد کمیشن پر مبنی کاروبار شروع کیا جس سے 4000 روپے کماتا تھا۔ قریباً 5000 روپے فی مہینہ بن جاتے تھے . لیکن چونکہ پولیس مخبر (ایس پی او) عام طور پر ہتھیار ڈالے ہوئے عسکریت پسندوں کو ہراساں کرتے ہیں جو ایس ٹی ایف کے ساتھ کام نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے انھیں بھتہ دینا پڑتا ہے

“98-2000 تک میں عام طور پر 300 روپے ان ایس پی او کو ادا کرتا تھا۔ کبھی کبھی 500 روپے مقامی ایس پی او کو بھی بھیجتا تاکہ اپنا کاروبار کر سکیں ورنہ یہ ایس پی او ہمیں سیکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ میں ایس پی او کو اس کا مطلوبہ بھتہ نہیں دے پا رہا تھا

ایک دن صبح 10 بجے میں میں اپنے دو پہیوں والے اسکوٹر پر جا رہا تھا جو میں نے دو ماہ قبل ہی خریدا تھا۔ مجھے ایس ٹی ایف کے جوانوں نے روکا اور پائہلان کیمپ میں لے گئے ۔ وہاں D.S.P. ونئے گپتا نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا ، بجلی کا استعمال کیا – ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا – استعمال شدہ پٹرول – مرچ اور دوسری تکنیک مجھ پر آزامائی گئ مجھے بتایا گیا کہ میرے پاس اسلحہ بھی ہے لیکن شام کے وقت اس کے ایک انسپکٹر فاروق نے مجھے بتایا کہ اگر میں 1000،000 روپے ادا کرسکتا ہوں۔ تو وہ مجھے رہا کروا سکتا ہے ورنہ مجھے مار ڈالیں گے۔

“پھر وہ مجھے ایس ٹی ایف کیمپ لے گئے جہاں ڈی ایس پی درویندر سنگھ نے بھی مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے تشدد کرنے والے انسپکٹر میں سے ایک کو شانتی سنگھ کے نام سے پکارتے تھے مجھے 3 گھنٹے برہنہ رکھا گیا اور ٹیلیفون کے آلے کے ذریعہ بجلی کے جھٹکے دیتے ہوئے مجھے پانی پلایا۔ بالآخر میں نے انہیں 1000000 روپے ادا کرنے کو قبول کرلیا۔ جس کے لیے میرے گھر والوں نے میری بیوی کا سونا فروخت کیا۔

لیکن سونا فروخت کرنے کے بعد وہ صرف 80000 روپے کا انتظام کرسکے ۔ پھر انہوں نے مجھ سے وہ سکوٹر بھی لے لیا جو صرف 2-3 ماہ پرانا تھا جو میں نے 24000 روپے میں خریدا تھا۔ اس طرح 1 لاکھ روپے ملنے کے بعد انہوں نے مجھے آزاد کردیا۔ لیکن اب میں ایک ٹوٹا ہوا شخص تھا۔ اسی ایس ٹی ایف کیمپ میں ایک اور شکار بھی تھا جس کا نام طارق تھا۔ اس نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھے ہمیشہ ایس ٹی ایف کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے بصورت دیگر وہ ہمیشہ ہراساں کریں گے اور مجھے معمول سے آزاد زندگی نہیں گزارنے دیں گے۔

"1990-1996 سے میں نے دہلی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی ، میں مختلف کوچنگ مراکز میں ٹیوشن بھی دیتا تھا اور ہوم ٹیوشن بھی دیتا تھا۔ یہ بات جب الطاف حسین نامی اس شخص تک پہنچی جو ایس ایس پی کے بہنوئی ہیں۔ وہ میرے اہل خانہ اور ڈی ایس پی کے درویندر سنگھ کے مابین دلال بن گئے۔ الطاف نے مجھے بتایا کہ میں نے اپنے دو بچوں کو اپ سے بارہویں ، دسویں جماعت میں پڑھانا چاہتا ہوں کیونکہ عسکریت پسندوں کے خطرہ کے سبب اس کے بچے ٹیوشن کے لئے باہر نہیں جا پاتے تھے۔ اس طرح میں الطاف کے بھی بہت قریب ہوگیا۔

“ایک دن الطاف مجھے دویندر سنگھ (D.S.P) کے پاس لے گیا۔ ڈی ایس نے مجھے بتایا کہ مجھے اس کے لئے ایک چھوٹا سا کام کرنا ہے جس میں ایک شخص کو دہلی لے جانا ہے کیونکہ میں دہلی کے بارے میں بخوبی واقف تھا اور اس کے لئے کرایہ کا مکان بھی لینا ہے۔ چونکہ میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا لیکن مجھے شبہ ہے کہ یہ شخص کشمیری نہیں ہے کیوں کہ اس نے کشمیری میں بات نہیں کی تھی لیکن میں وہی کرنے سے بے بس تھا جو درویندر نے مجھے بتایا تھا۔ میں اسے دہلی لے گیا۔

“ایک دن انہوں نے (دوندر سنگھ) نے مجھے بتایا کہ وہ ایک کار خریدنا چاہتے ہیں۔ اس طرح میں اس کے ساتھ کرول باغ چلا گیا۔ اس نے کار خریدی۔ پھر دہلی میں وہ مختلف افراد سے ملتا تھا اور ہم دونوں اور وہ محمد ، درویندر سنگھ سے مختلف فون کال کرتے تھے۔ ایک دن محمد نے مجھے بتایا کہ اگر وہ واپس کشمیر جانا چاہتے ہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ اس نے مجھے 35000 روپے بھی دیئے۔ اور مجھے بتایا کہ یہ تحفہ آپ کے لئے ہے۔

"میں نے اپنے گھر والوں کے لئے اندرا وہار میں کرائے کے کمرے لینے سے 6 دن یا 8 دن پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ میں نے اپنے کنبے کے ساتھ دہلی میں رہنا ہے کیونکہ میں اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھا۔ میں نے کرائے کے مکان کی کنجی اپنی ایک رشتے دار خاتون کے پاس چھوڑی اور اس سے کہا 14 دسمبر کو عید کے تہوار کے بعد واپس آؤں گا ۔ میں نے ایس جی آر میں طارق سے رابطہ کیا۔ اگلی صبح جب میں بس اسٹینڈ ایس جی آر سے سوپور جانے والا تھا۔ پولیس نے مجھے پکڑا اور پیرپورہ پولیس اسٹیشن لے گئے طارق بھی ایس ٹی ایف کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے 35000 روپے لے لئےمیری جیب سے ، مجھے پیٹا اور براہ راست مجھے ایس ٹی ایف ہیڈ کوارٹر لے گیا۔ وہاں سے مجھے دہلی لے جایا گیا۔ میری آنکھیں آنکھیں بند تھیں۔ یہاں میں نے خود کو پولیس کے خصوصی ٹارچر سیل میں پایا۔

خصوصی سیل کی تحویل میں میں نے انہیں محمد وغیرہ کے بارے میں سب کچھ بتایا لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ میں شوکت ان کی اہلیہ نوجوت (افشاں) گیلانی وہ لوگ ہیں جو پارلیمنٹ حملے کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے بھی مجھے میرے اہل خانہ سے متعلق دھمکی دی اور ایک انسپکٹر نے مجھے بتایا کہ میرا چھوٹا بھائی ہلال احمد گرو ایس ٹی ایف کی تحویل میں ہے۔ اگر میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا ہوں تو وہ خاندان کے دیگر افراد کو بھی اٹھا سکتے ہیں۔
میں نے اپنے کنبہ کی حفاظت کو سب سے اہم ترجیح دی۔ جیسا کہ میں پچھلے سات سالوں سے جانتا ہوں کہ ایس آئی ایف کے جوان کشمیریوں کو کس طرح مارتے ہیں ، انھوں نے کیسے نوجوانوں کو پوشیدہ بنا دیا تھا اور انھیں حراست میں مارتے ہوئے غائب کردیا تھا۔

"میں مختلف اذیتوں اور روایتی قتل کا زندہ اور عینی شاہد ہوں اور میں خود ایس ٹی ایف دہشت گردی اور تشدد کا شکار ہوں۔ جے کے ایل ایف کے ہتھیار ڈالے ہوئے عسکریت پسند ہونے کے ناطے مجھے سیکیورٹی کے مختلف اداروں جیسے آرمی ، بی ایس ایف نے مسلسل ہراساں کیا ، دھمکی دی اور تکلیف دی۔ چونکہ S.T.F. غیر منظم ہے ، اور کسی کی جوابدہ نہیں یہ ریاست، حکومت کے زیر سرپرستی گینگ ہے۔ ایس ٹی ایف دن یا رات کسی بھی وقت کشمیر میں ہر گھر ، میں گھس جاتے ہیں۔ اگر کسی کو ایس ٹی ایف اٹھا کر لے جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کو اس کا پتہ چل جاتا ہے ، تو کنبہ کے افراد صرف اس کی لاش برآمد کرنے کا انتظار کرتے ہیں جس کی انہیں امید ہے۔ لیکن عام طور پر انہیں کبھی بھی اس کا پتہ نہیں چلتا تھا۔

“6000 نوجوان غائب ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں اور اس خوفناک ماحول میں مجھ جیسے افراد ایس ٹی ایف کے ہاتھوں کوئی گھناؤنا کھیل کھیلنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ صرف اپنے خاندانوں کی بقا کے لیے  انہوں نے مجھے پارلیمنٹ حملہ کیس میں شوکت کو ان کی اہلیہ اور گیلانی کو ملوث کرنے پر مجبور کیا لیکن میں نے ان سے کہا یہ ممکن نہیں ہے۔ کچھ دن بعد مجھے میڈیا کے سامنے ہینڈ کفڈ میں پیش کیا گیا۔

"اصل کہانی سنانے کے لئے مجھے عدالت میں کبھی بھی موقع نہیں دیا گیا۔ جج نے مجھے بتایا کہ مجھے کیس کے اختتام پر بولنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا لیکن آخر میں انہوں نے میرے تمام بیانات قلمبند نہیں کیے اور نہ ہی عدالت نے مجھے بولنے دیا اگر ریکارڈ شدہ فون نمبرز کو بغور دیکھا جائے گا تو عدالت کو ایس ٹی ایف کے فون نمبر معلوم ہوجاتے۔عدالت کے کمرے میں جب بیانات قلمبند کیے جا رہے تھے مجھے بتایا گیا کہ میرا کنبہ ٹھیک ہے۔ بالواسطہ طور پر یہ ایک پوشیدہ اشارہ تھا جس کا عدالت کو شاید احساس ہی نا ہوا ورنہ عدالت اس سے پوچھ گچھ کرتی

"تمام مقدمے کی سماعت کے دوران میں گواہوں ، پولیس اور حتیٰ کہ ججوں کے سامنے خاموش اور بے بس تماشائی بنا رہا وہ سب میرے خلاف ایک واحد قوت بن گئے۔ میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی اور حفاظت کے مابین ایک مایوس کن پریشان اور الجھا ہوا رہا۔ میں نے اپنے اہل و عیال کی حفاظت اور حفاظت کی۔ اس طرح میں موت کی ڈور میں پڑا ہوں۔ بھارتی حکومت نے افضل گرو کے اپنے وکیل کو لکھے گئے خط کی کبھی تحقیقات نہیں کروائی کیونکہ وہ بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بھارتی ایجینسز کے دم پر ہی پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں بھارتی ایجینسز ہی اپنی عوام پر دہشت گردانہ حملے کروا کر عالمی ہمدردی بٹورتی ہیں دیوندر سنگھ کی عسکریت پسندوں کیساتھ گرفتاری کے معاملے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی سوالات کی بوچھاڑ کی ہے

2001 میں پارلیمنٹ پر ہونیوالے حملے میں بھارتی پولیس افسر کے مبینہ کردار پر بھی سوال اٹھا دیئے۔ترجمان کانگریس رندیپ سنگھ نے سوال کیا کہ دیوندر سنگھ کون ہیں ؟ ان کا پارلیمنٹ پر حملے میں کیا کردار تھا ؟ ان کا ؟ کیا وہ حزب المجاہدین کے عسکریت پسندوں کو اپنے طور پر لے جا رہے تھے یا پھر وہ کسی پیادے کی طرح کام کررہے تھے جبکہ اصل سازشی کہیں اور تھے۔ یہ زیادہ بڑی سازش ہے ؟برطانوی نشریاتی ادارے نے اس بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ دیوندر سنگھ کیس کی کئی گرہیں ہیں، لیکن پارلیمنٹ حملے کیساتھ اسکا نام آنا بھارت کی قومی سلامتی کی پالیسی پر سوالیہ نشان ہے بھارتی صحافی ساگریکا گھوش کا سوشل میڈیا پر کہنا تھا کہ یہ دیوندر سنگھ کون ہیں؟ پہلے افضل گورو نے ان کا نام لیا تھا کہ انہوں نے اسے پھنسایااور اب دیوندر سنگھ جشن جمہوریہ سے قبل دہشتگردوں کو دہلی لے جاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں

 

تحریر :حجاب رندھاوا