بلاگ ظنز و مزاح

نوک والے جوتوں سے نوکیلی ہیل تک!

مرد حکمرانی کے حصول کےلیے کیا کچھ نہیں کرتے، ساری زندگی لگا دیتے ہیں۔ جدوجہد کرتے ہیں۔ پیسے خرچ کرتے ہیں۔ دن رات ایک کردیتے ہیں۔ لیکن عورت صرف تین الفاظ کہہ کر مرد کی زندگی کی……… حکمراں بن جاتی ہے۔ اگر آپ یہ تین لفط “آئی لو یو” سمجھ رہے ہیں تو آپ بالکل غلط ہیں۔ یہاں نکاح کے تین بول کی بات ہورہی ہے۔ جس کے ساتھ ہی اسے شوہر کی زندگی پر حکمرانی کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔اس کے بعد بیگمات بھی شوہروں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو حکمراں الیکشن جیتنے کے بعد عوام کے ساتھ کرتے ہیں۔ جبھی دنیا میں بیشتر شوہروں کا وہی حال ہے جو پاکستان میں عوام کا ہے۔ یعنی بے بس، لاچار اور مسائل سے دوچار۔

ویسے دنیا میں وہ عورت جسے آپ کبھی متاثر نہیں کرسکتے، وہ بیوی ہے۔ اور جس عورت کو آپ منٹوں میں متاثر کرسکتے ہیں وہ بھی بیوی ہے۔ لیکن کسی اور کی۔یہ بات یونس بٹ صاحب نے کہی ہے۔ اب ان سے اختلاف کرسکوں، میری اوقات!ویسے تو بیگم شوہر کی زندگی پر حکمرانی کا نام ہے، لیکن پھر بھی بیوی اپنے شوہر کو مزاجی خدا کا درجہ دیتی ہے۔یہاں مزاجی مرد کے نہیں بلکہ عورت کے مزاج کےلیے استعمال ہوا ہے تاکہ مرد سمجھ جائے اسے زندگی میں سکون اسی صورت مل سکتا ہے جب وہ بیگم کے مزاج کے مطابق چلنا سیکھ جائےمثال کے طور پر کیا کھانا ہے، کہاں جانا ہے، کب جانا ہے، کیا پہن کر جانا ہے، کہاں نہیں جانا، صبح کب اٹھنا ہے اور اسی طرح زندگی کے چھوٹے چھوٹے کام آپ نے بیگم کی مرضی سے کرنا ہوتے ہیں۔

مگر یہاں پتے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کام ہوں گے کیسے؟ یہ آپ کو بیگم نہیں بتائے گی، یہ آپ کو خود سمجھنا ہوگا۔ویسے صرف یہی خصوصیات نہیں جو خدا نے بیگمات کو عطا کی ہے، اور بھی……………… ئی خصوصیات ہیں۔ مثلاً آپ بیگم سے بحث میں نہیں جیت سکتے۔ اور کبھی ایک آدھ بار آپ کو ایسا لگ بھی جائے کہ یار آج تو میرے پاس بڑے زبردست دلائل ہیں۔ آج تو میں جیتا ہی جیتا۔ تب ہی آنسوؤں کی بارش اور میچ کا فیصلہ “ڈک ورتھ لوئس سسٹم” کے تحت ان کے حق میں سنادیا جائے گا۔ایسے ہی ایک دن میری بیگم سے کسی بات پر بحث ہوگئی تو میں نے اسے ایک نامعلوم فلسفی کا لکھا قول نکال کر دکھایا۔ جس میں لکھا تھا “میاں بیوی کے رشتے میں برابری ہونی چاہیے، دونوں کو ہر بات کا برابر حق ملنا چاہیے۔”بیگم نے قول غور سے پڑھا اور جواب دیا۔

دیکھا وہ بھی یہ بات صرف لکھ ہی پایا۔ایک بار ایک بہت ہی قابل آدمی سے کسی نے خوشگوار شادی شدہ زندگی کا راز پوچھا۔ پہلے تو وہ صاحب سوچ میں پڑگئے۔ پھر بولے۔ “جب آپ کی بیوی بات کرے تو آپ اسے چپ چاپ سنیں۔ سنتے جائیں۔ اور جب وہ چپ ہوجائے تو آپ بھی چپ ہوجائیں۔”خیر ہم تو ٹہرے زن مرید۔ آپ کو اپنے ایک بہادر دوست کے بارے میں بتاتا ہوں۔ اُسے نوکیلے جوتے پہننے کا بڑا شوق تھا۔ وجہ یہ بتاتا تھا کہ بیگم کو جوتے کی نوک پر رکھنا چاہیے، اور عورت کو اس کا اصل مقام دکھانے کےلیے ہی وہ یہ جوتے پہنتا ہے۔اس وقت تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اب جب بھی ملتا ہے تو دو پٹی کی چپل میں ہی ملتا ہے۔ البتہ بھابھی ہمیشہ “نوکیلی ہیل”ہی پہنی ہوتی ہیں۔