ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

“سب کچھ ملا مجھے جو تیرا نقش پا ملا !!

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوئے دعا پڑھی اور مسکرائے، علی بن ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا علی سے مسکرانے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول پاک کو سواری پر سوار ہو کر مسکراتے دیکھا تو میں بھی مسکرایا ! (سنن ترمذی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا تو ایک پتھر ہے نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، میں تجھے نہ چومتا اگر میں نے اپنے نبی کے لبوں کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا !(صحیح بخاری)

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں دوران نماز رسول پاک نے جوتے اتار دیے صحابہ کرام نے بھی رسول پاک کو دیکھ کر جوتے اتار دیے، نماز کے بعد رسول پاک نے پوچھا تم نے جوتے کیوں اتارے، عرض کی اللہ کے رسول ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، رسول پاک نے فرمایا مجھے جبرئیل نے آ کر بتایا کہ آپ کے جوتے کے نیچے گندگی لگی ہے اس لیے میں نے جوتے اتار دیے! (صحیح مسلم)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک بار سفر میں تھے راستے میں ایک مقام پر سواری کو لے کر راستے سے نیچے اتر کر پھر اوپر راستے پر چڑھ گئے، ساتھیوں نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا، فرمایا ایک سفر میں اسی مقام پر میں رسول پاک کے ساتھ تھا تو رسول پاک بھی یہاں راستہ چھوڑ کر ہٹ کر چلے پھر راستے پر تشریف لے آئے، بس اسی لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا !

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک درخت پڑتا تھا وہ جب کبھی اس درخت سے گزرتے تو وہاں رک کر آرام کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے آرام کی ضرورت نہیں لیکن، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اس لیے میں ایسا کررہا ہوں!

خلافت فاروقی کا دور ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی کے ساتھ تھا، اور اس مکان کا پرنالہ مسجد کی طرف تھا جب بارش ہوتی تو پرنالہ سے پانی گرتا جس کے چھینٹے نمازیوں پر پڑتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو پرنالے کو اکھاڑ پھینکا، سیدنا عباس آئے دیکھا ان کے مکان کا پرنالہ اتار دیا گیا ہے، پوچھا یہ کس نے اتارا،
جواب ملا امیر المومنین نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو اسے اتار دیا، سیدنا عباس نے قاضی کے سامنے مقدمہ دائر کر دیا،
چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، امیر المومنین ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوئے تو جج صاحب لوگوں کے مقدمات سن رہے ہیں اور سیدنا عمر عدالت کے باہر انتظار کر رہے ہیں، کافی انتظار کے بعد جب سیدنا عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو بات کرنے لگے، مگر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روک دیا کہ پہلے مدعی کا حق ہے کہ وہ اپنا دعوی پیش کرے، سیدنا عباس دعوی پیش کرتے ہیں کہ میرے مکان کا پرنالہ شروع سے مسجد نبوی کی طرف تھا، زمانہ نبوی کے بعد سیدنا ابوبکر کے دور میں بھی یہی رہا لیکن عمر نے میرے مکان کا پرنالہ میری عدم موجودگی میں میری اجازت کے بغیر پرنالہ اتار دیا ہے، لہذا مجھے انصاف چاہیے!

چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ بے فکر رہیں آپ کو انصاف ملے گا، قاضی نے سیدنا عمر سے پوچھا آپ نے سیدنا عباس کے گھر کا پرنالہ کیوں اتارا، بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم کٹہرے میں کھڑا ہو کر کہتا ہے، سیدنا عباس کے مکان کا پرنالہ مسجد نبوی کی طرف تھا جب بارش ہوتی ہے پرنالے سے پانی بہتا ہے اور چھینٹے نمازیوں پر پڑتے ہیں جس سے نمازیوں کو پریشانی ہوتی ہے اس لیے میں نے اسے اتار دیا، آبی بن کعب نے دیکھا کہ سیدنا عباس کچھ کہنا چاہ رہے ہیں، پوچھا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟؟

سیدنا عباس کہتے ہیں یہ جس جگہ میرا مکان ہے یہاں رسول پاک نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دیا اور میں نے اسی جگہ مکان بنایا پھر جب پرنالہ نصب کرنے کا وقت آیا تو رسول پاک نے کہا چچا میرے کندھے پر کھڑے ہو کر اس جگہ پرنالہ نصب کر دیں میں نے نبی پاک کے کندھے پر کھڑا ہونے سے انکار کیا مگر بھتیجے کے اصرار پر میں نے ان کے کندھے پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ نصب کیا یہاں پرنالہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لگوایا تھا، ابی بن کعب نے پوچھا اس کا کوئی گواہ ہے آپ کے پاس، سیدنا عباس جلدی سے باہر گئے اور کچھ انصار کو لے کر آئے انہوں نے گواہی دی کہ سیدنا عباس سچ کہہ رہے ہیں! یہ سنتے ہی سیدنا عمر کے ہوش اڑ گئے اور رونے لگے، عدالت میں سب کے سامنے یہ بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم سر جھکائے کھڑا ہے، جس کا نام سن کر قیصر و کسری کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا تھا،

سیدنا عباس سے کہا مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ رسول پاک نے خود لگوایا ہے، آپ چلیے میرے ساتھ جیسے رسول پاک نے یہ پرنالہ لگوایا تھا ویسے ہی آپ لگائیں، چشم کائنات نے دیکھا وقت کا حاکم دونوں ہاتھ مکان کی دیوار سے ٹکا کر کھڑا ہو گیا بالکل اسی طرح جیسے رسول پاک کھڑے ہوئے تھے، سیدنا عباس امیر المومنین کے کندھوں پر کھڑے ہوئے اور دوبارہ اسی جگہ پرنالہ لگا دیا، وقت کے حاکم کا یہ سلوک دیکھ کر سیدنا عباس نے مکان مسجد نبوی کو وقف کر دیا !

سب کچھ ملا مجھے جو تیرا نقش پا ملا !

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...