کالمز

حیاء پر خوفناک حملہ (مکمل کالم)

کالم لکھا جا چکا تھا کہ لاہور میں پولیس پر خودکش حملہ ہو ا جس میں بہت سے شہریوں کے علاوہ دوسینئر پولیس افسروں نے جانوں کا نذرانہ دے دیا۔ اس حملے پر پھر لکھوں گا۔ اس بار حیا ء پر ہونے والے حملے کے بارے میں پڑھ لیں۔​ میرا ایک عزیز منصوراحمد انجینئرنگ کرنے کے بعد کچھ دیر اپنے ملک میں رہا اور پھر یورپ چلا گیا جہاں وہ پچھلے بیس سالوں سے خوشحالی اور سکون کی زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی بیٹیاں جوان ہورہی تھیں اور اُس ملک کا ماحول اسے پسند نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیٹیاں عریانی اور بے حیائی کے ماحول میں جوان ہوں اور پھراُنکی اور اُنکی اولاد کی زندگیاں اسی ماحول میں ڈھل جائیں۔ اس کی بیگم پڑھی لکھی اور اعلیٰ کردار کی حامل خاتون ہیں۔ اس نے بیگم سے مشورہ کرکے پاکستان شفٹ ہونے کا پروگرام بنالیا۔ اپنے وطن میں آکر وہ مجھے ملا تو اس بات پر بہت خوش تھا کہ ’’اب میری بیٹیاں اسلامی اور پاکستانی ماحول میں زندگی گزاریں گی‘‘۔​

منصور مالی طور پر مضبوط تھا اس نے اسلام آباد کے بہترین سیکٹر میں رہائش اختیار کی اور مہنگے ترین اسکول میں بیٹیوں کو اے لیول میں داخل کرادیا ۔ منصور پچھلے دنوں ملا تو بہت پریشان تھا، میں نے وجہ پوچھی توکہنے لگا ’’چند روز قبل میری بیگم بیٹیوں اور ان کی ٹیچرز سے ملنے ان کے اسکول چلی گئیں، واپس آئیں تو صدمے سے نڈھال تھیں، حواس بحال ہوئے تو بتانے لگیں کہ پوری کلاس میں صرف ہماری بیٹیاں پاکستانی لباس پہنے ہوئے تھیں۔ باقی تمام لڑکیاں اور ان کی ٹیچرز انتہائی بیہودہ اور نامناسب لباس میں ملبوس تھیں، یہی روزانہ کا معمول ہے۔​​ہماری بیٹیاں کلاس میں بالکل isolateہوچکی ہیں اور پوری کلاس ان کا مذاق اڑاتی اور تضحیک کا نشانہ بناتی ہے۔ بچیوں نے ٹیچر سے شکایت کی تو انھوں نے بھی کوئی دھیان نہ دیا بلکہ باقی کلاس کا ساتھ دیااور ہماری بیٹیوں کو مشورہ دیا کہ “Do in Rome as Romans do” بیٹیوں نے جب کہا کہ ’’میڈم یہ روم نہیں ہے پاکستان ہے‘‘ تو اس پر وہ کہنے لگیں’ہم اسے روم بنادیں گی‘۔ بیٹیاں بھی پریشان ہیں۔ اس اسکول کے ماحول سے تو یورپین اسکولوں کا ماحول بہتر تھا۔ دیکھیں میں تو بڑی چاہت سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے وطن آیا تھا جو ہمارے بزرگوں نے اس لیے بنایا تھا کہ یہاں ہم اپنی دینی اقدار، روایات اور مُسلم تہذیب کے مطابق زندگیاں گزاریں گے۔​

پاکستان کے تعلیمی اداروں کا ماحول اسلامی تہذیب و تمدن کے بالکل منافی ہو۔ یہ قائدِاعظم ؒ کا وژن تونہیں تھا۔ اب میں اورمیری بیگم دونوں پریشان ہیں سمجھ نہیں آتا کیا کریں؟’’ میں نے منصور کو تسلّی دی کہ فکر نہ کریں کوئی بہتر ماحول والا اسکول مل جائیگا۔ پرسوں منصور اور اس کی بیگم میرے گھر آئے تو اُسوقت میر ا ایک لبرل دوست پروفیسر زَیک بھی آیا ہوا تھا۔​ منصور نے پھر درد بھرے لہجے میں کہا ’’پاکستان کے بانی کوئی نیم خواندہ مولوی نہیں تھے، وہ بہت پڑے لکھے روشن خیال لوگ تھے لیکن وہ مسلمان قوم کے علیحدہ تشخص کے علمبردار تھے، انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ جس پاکستان کے لیے لاکھوں بیٹیوں کی عزّت و عصمت کی قربانیاں دی گئی ہیں اُس پاکستان میں ہماری بیٹیاں وہ لباس پہنیں گی جو یورپ میں غیر مسلم لڑکیاں پہنتی ہیں، پاکستان کے چینلوں پر وہی پروگرام چلیں گے جو دہلی اور بمبئی میں چلتے ہیں اگر ایسا ہی ہونا تھا تو علیحدہ ملک کا کیا جواز تھا؟‘‘ پروفیسرزَیک تو بحث مباحثے کا ویسے ہی شوقین تھاباتوں کا پس منظر پوچھ کر بحث میں کود پڑا اور کہنے لگا ’’منصور صاحب آپ نے بیٹیوں کو بُرقعے ہی پہنانے ہیں تو انھیں اسکول نہ بھیجیں گھر میں ہی بٹھادیں۔​ دیکھیں اب ہم ایک عالمی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ لڑکیاں ماڈرن دور کے ساتھ چلنا چاہتی ہیں، وہ یورپین لباس پہننے کی شوقین ہیں تو انھیں پہننے دیں اُن پر سختی یا جبر نہ کریں نئی نسل پرانے دور کی چیزیں قبول نہیں کرتی‘‘ ۔ منصور نے جواباً کہا ’’پروفیسر صاحب عریانی اور بے حیائی ماڈرن دور کی ایجادات نہیں ہیں۔ یہ تو دورِ جہالت کا کلچر ہے حضرت محمدﷺ کے عظیم انقلاب سے پہلے عورتیں میلوں ٹھیلوں اور Public gatheringsمیں عریاں پھرتی تھیں حتیّٰ کہ خانہ کعبہ کا طواف بے لباس ہوکر کرتی تھیں۔​ ہر تہذیب کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، رسولِ خداﷺ نے انسانوں کوجب ایک نئی تہذیب سے متعارف کرایا تو زندگی کے ہر شعبے کے لیے گائیڈ لائنز اور Dos اور Dontsبتائے ۔ خالقِ کائنات نے انسانوں کے حقوق، رہن سہن، شادی، خاندان، وراثت، خوراک اور لباس کے بارے میں بھی واضح احکامات دیے ہیں۔ اگر ہم مسلمان ہیں اور حضرت محمدﷺ کے پیروکار کی حیثیت سے ہی اپنی پہچان کرانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اﷲاور رسولﷺ کے واضح احکامات کی پابندی کرنا ہوگی۔ لباس کے بارے میں تو خود مالکِ کائنات نے واضح طور پر ہدایات دی ہیں:۔​ ’اے نبیﷺ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجزاس کے جو خود بخودظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘۔​

مردوں کے لیے بھی علیحدہ ہدایات دی گئی ہیں:۔​ ’اے نبیﷺ مومن مردوں سے کہو اپنی نظریں بچا کررکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ‘۔​ اگر ہم نے خدا کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرنی ہے تو پھر ہمت کرکے یہ بھی اعلان کردیں کہ اب ہم اﷲ اور رسولﷺ پر ایمان نہیں رکھتے اور حضرت محمد ﷺ کے پیروکار نہیں رہے‘‘۔​ پروفیسر زَیک نے کہا ’’منصور صاحب ! آپ عورتوں کو برقعوں میں چھپا دیں گے تو معاشرہ بے رنگ اور بے کیف ہوجائیگا ۔ آپ کے علامہّ اقبال صاحب نے بھی کہا ہے کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ یعنی کائنات عورت کی وجہ سے ہی کلرفل بنی ہے۔۔ عورت کی فطرت ہے کہ وہ اپنی خوبصورتی اور حسن نمایاں کرنا چاہتی ہے اُسے کرنے دیں یہ رنگ ورو نق کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔​
اب منصورکی بیگم نے بحث میں حصّہ لیتے ہوئے کہا ’’بھائی صاحب! خالق نے عورت کی فطرت میں دو چیزیں کوٹ کوٹ کر بھر دی ہیں ۔۔اولاد سے محبّت اور حیاء۔۔ عورت کی فطرت میں حیا ء ہے، حسن کی نمائش نہیں۔ یہ تو کیپیٹل اکانومی کے کارنامے ہیں۔ یہ کنزیومر مارکیٹ اور فیشن انڈسٹری اور ان کی اشتہاری مہمّات کے کرشمے ہیں۔ عورت دوسروں کے سامنے نہیں گھر میں اپنے شوہر کے سامنے اپنے حسن کی نمائش کرے ، غیر مردوں کے سامنے کریگی تو اس کے حسن پرحملے ہونگے ۔کہیں ہوسناک نظروں سے اور کہیں ہاتھوں سے ۔ اس سے معاشرے کا اپنا توازن اور حسن درھم برھم ہوجائیگا‘‘۔​ زَیک کہنے لگا ’’ آج کی لڑکی جب برقع پہننے پر تیار ہی نہیں ہے تو پھر آپ ایک ناقابلِ عمل بات پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟‘‘​ اس پر مسز منصور نے کہا ’’قرآن میں برقع پہننے کا ذکر نہیں۔ ایسا لباس پہننے کی ہدایات ہیں جس سے جسم کا ستر چھپایا جاسکے۔ یعنی ایسا لباس ہو جس سے عورت کے جسم کے فیچرز نمایاں نہ ہوں۔ اگر عورت اپنے جسم کے ان فیچرز کو نمایاں کرے جس سے مخالف صنف کے جنسی جذبات برانگیختہ ہوں تو ایسا لباس بے حیائی کے زمرے میں آئیگا۔ کوئی مذہب اور کوئی تہذیب ایسے نامناسب لباس کو approveنہیں کرتی۔​

عورت کو سب سے زیادہ عزّت اور احترام اسلامی تہذیب نے دی ہے اس لیے عورت کے لیے ایسے باوقار لباس پر سب سے زیادہ زور اسلام نے دیا ہے جس سے اُسے مردوں کی ھَوسناک نگاہوں سے محفوظ کیا جائے اور تنگ کرنے والے فقروں اور آوازوں سے بچایا جائے۔ یورپ کے کئی ممالک میں بھی دفتروں اور تعلیمی درسگاہوں کے لیے ڈریس کوڈ مقرر کیے گئے ہیں جنکے مطابق ٹائٹ جینز پہننے اور سینے نمایاں کرکے پھرنے کی ممانعت ہے۔​ یورپ اور امریکا میں پڑھی لکھی مسلم اور نومسلم خواتین سمجھتی ہیں کہ حجاب عورتوں کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھتا ہے وہ سر اور سینہ ڈھانپ کر وہاں دفتروں میں کام بھی کرتی ہیں اور اپنے اسلامی لباس پر فخر محسوس کرتی ہیں وہ اپنے آپ کو مسلم تہذیب کا نمائیندہ اور حجاب کو اپنے لیے وقار اور افتخار کا باعث سمجھتی ہیں۔​ پاکستانی قوم احساسِ کمتری کی ماری ہوئی ہے اس لیے یہاں کی خواتین اپنے آپ کو مغرب کی غلام اور کمّیں سمجھ کر ہر کام میں گوروں کی پیروی کرتی ہیں یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے کہ مسلم تشخص کے تحفظ کے نام پر بنائے گئے پاکستان میں مسلم تہذیب کے قلعے یعنی عورت کی حیاء پر خوفناک حملہ ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں حیاء کے قلعے میں شگاف پڑگئے ہیں۔ ماؤں نے اپنی بیٹیوں کے دوپٹے اتروا دیے ہیں۔ جوان بیٹیاں اپنے سَتر ڈھانپنے کے بجائے سینے تان کر پھرتی ہیں۔​ کتنے دکھ کی بات ہے کہ مائیں جو بیٹیوں کو شرم و حیا سکھاتی تھیں، لباس کے بارے میں Sensitise کرتی تھیں۔۔ وہ بیٹیوں کی حیاء چھن جانے پر خاموش بلکہ خوش ہیں ۔ محض اس لیے کہ ان کی بیٹیاں یورپی خواتین کی طرح لگیں۔ یہ احساسِ کمتری کی بدترین صورت ہے، آپ یورپ کی تاریخ پڑھ لیں ان کے Declassified Documents پڑھ لیں، انھوں نے مسلمان مردوں کو اخلاق باختہ بنانے اور عورتوں کو حیاء سے محروم کرنے پر بہت investکیا ہے، مسلم خواتین کو حیاء کی دولت سے محروم کرنا ان کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے۔​

چند سال پہلے تک سَتر نمایاں کرنے اور بیہودہ لباس پہننے والی عورتوں کو ہمارے معزز گھرانے نفرت کی نظروں سے دیکھتے تھے، انھیں بازاری اور گھٹیا سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب وہی بازاری اور گھٹیا کلچر ہر گھر میں داخل ہوگیا ہے۔ ہم لباس کے معاملے میں کسی کی نقالی کیوں کریں ۔ کیا ہماری اپنی علیحدہ شناخت اور علیحدہ تہذیب کوئی نہیں ہے؟ ۔​ مسز منصور کی پرجوش باتوں کے جواب میں پروفیسر زَیک نے کہا ’’امریکا اور یورپ میںخواتین سینے ڈھانپے بغیر بلکہ سینے تان کرپھرتی ہیں وہاں تو کوئی قیامت نہیں آگئی۔ ہمارے ہاں بھی اب دفتروں میں دوپٹو ں کے بغیر لڑکیاں پھرتی ہیں۔ کونسا طوفان آگیا ہے؟‘‘۔ اس پر منصور نے کہا ’’خواتین کے لباس پر مردوں کے ردّ ِ عمل کے بارے میں کئی قابل اعتبار اداروں کی سروے رپورٹس موجود ہیں جن کیمطابق نوّے فیصد مردوں کا کہنا ہے کہ’’باریک اور چُست لباس میںعورتوں کے جسم کے خدوخال اور ابھار دیکھ کر مردوں کے جنسی جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔ ساٹھ فیصد نوجوانوں نے اقرار کیا کہ دفتروں اور تعلیمی اداروں میں سینے ڈھانپے بغیر پھرنے والی لڑکیوں کو ہم ہوسناک نظروں سے دیکھتے ہیںاور چھیڑتے بھی ہیں، ایسی لڑکیوں کو دیکھ کر دل کرتا ہے انھیں بانہوں میں بھینچ لیں۔‘‘ گھر یلو ملازموں کے ہاتھوں گھروں میں قتل ہونے والی خواتین کے بارے میں سروے رپورٹ کے مطابق اسّی فیصد کیسوں میں نوجوان ملازم خواتین کو نیم عریاں اور نامناسب لباس میں دیکھ کر درندے بن جاتے ہیں اور ان کی عزّت لوٹ کر انھیں قتل بھی کردیتے ہیں۔ سر اور سینہ ڈھانپنے والی خواتین کے بارے میں اسّی فیصد مردوں نے کہا کہ ’’انھیں دیکھ کر دل میں عزّت اور احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور کسی قسم کے صنفی یا منفی جذبات پیدا نہیں ہوتے‘‘۔ میں والدین سے پوچھتا ہوں کہ وہ خود اپنی بیٹیوں کو اوباش لڑکوں کے لیے فیورٹ ٹارگٹ بناکر کیوں بھیجتے ہیں؟ کیا وہ خود اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو ان کے اسکولوں اور کالجوں کے طلباء ھَوسناک نظروں سے دیکھیں،کیا شوہر اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کی بیویوں کو دیکھ کر دوسرے مردوں کے جنسی جذبات مشتعل ہوں اور ان کے دفتروں میں انھیں ہراساں کیا جائے؟‘‘۔

ان سرویز میں جب نوجوان لڑکیوں سے پوچھا گیا کہ اگر دفتروں میں کام کرنے والے نوجوان لڑکے اپنے سینے اور رانیں عریاں کرکے پھریں تو آپکو کیسا لگے گا؟ تودوپٹہ نہ لینے والی پچانوے فیصد لڑکیوں نے بھی اسے Indecent Exposureقرار دیا صرف 0.1فیصد لڑکیوں نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں، یہ وہ لڑکیاں ہیں جو منشیات کا استعمال کرتی ہیں اور جنکے کردار پر بھی لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ انسانی فطرت اور جذبات کے خالق نے عورتوں اور مردوں دونوں پر اپنے ستّر چھپانا لازم قرار دیا ہے اور جسم کے Indecent Exposure سے منع فرمایا ہے۔ اس کی حکمت واضح طور پر ہر جگہ نظر آتی ہے۔ منصور نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ’’ یورپی معاشرے کے بارے میں یہ کہنا غلط ہے کہ نیم عریاں اور بیہودہ لباس پہننے والی خواتین وہاں محفوظ ہیں۔ ایسا لباس وہاں بھی دعوتِ عام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں جذبات دل میں رکھنے کے بجائے لڑکی کا کوئی نہ کوئی بوائے فرینڈ اسے لے جاتا ہے اور ہوس کا نشانہ بنادیتا ہے۔ ہنگامہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہاں والدین اس تلخ حقیقت سے سمجھوتہ کرچکے ہیں کہ بیس بائیس سال کی عمر تک ان کی بیٹی کی عزّت و عصمت محفوظ نہیں رہیگی اور ان کی جوان بیٹیاں اسکولوں اور کالجوں میں ہی حاملہ ہوجائینگی۔ وہاں ریپ اور Sexual assaultکے کیس پاکستانی یا مشرقی معاشروں سے کئی گنا زیادہ ہیں‘‘۔ اب مسز مریم منصور بات کو آگے بڑہاتے ہوئے بولیں ’’پروفیسر صاحب! یورپ میں بھی اعلیٰ خاندان کی خواتین نیم عریاں یا بیہودہ لباس نہیں پہنتیں۔ ان کی جوان لڑکیاں بھی ایسا لباس ہرگز نہیں پہنتیں جو بے حیائی کا مظہر ہو۔ اچھے تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ مقرر ہوتاہے اور وہاں کی ٹیچرز گاؤن یا اوورآل پہنتی ہیں۔ بیہودہ لباس کا آغاز وہاں بھی شوبِز کی خواتین یا ماڈلز سے ہوتا ہے اور ہمارے جیسے ملکوں کے امیر گھرانوں (جو اخلاقی اقدار سے محروم ہوگئے ہیں اور جنکا دین اور ایمان صرف پیسہ بن چکا ہے) کی خواتین اُنکی اندھی تقلید شروع کردیتی ہیں۔ ہمارے برعکس باغیرت اقوام مثلاً ترک اور ایرانی مرعوبیّت کا شکار نہیں ہوتے اور اپنی اسلامی تہذیب اور اقدار پر فخر کرتے ہیں، چند مہینے پہلے میں پیرس میں خواتین کی ایک کانفرنس میںشریک تھی وہاں ایک جواں سال ترک خاتون سے ملاقات ہوئی جو استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، لباس کا ذکر چھڑا تو انھوں نے زوردار انداز میں کہا ’’ حجاب ہماری پہچان اور ہمارے مسلم تشخّص کی علامت ہے، حیاء عورت کا حُسن اور اسکاسب سے قیمتی سرمایہ ہے اور حجاب ۔حیاء کا قلعہ ہے۔ اس قلعے کو مسمار کرنے کے لیے شیطانی قوتیں حملہ آور ہوچکی ہیں، ہمیں اس کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے۔یادرکھّیں حیاء کے زیور سے آراستہ مائیں ہی تین برّاِعظموں پر حکمرانی کرنے والے فاتح اور غازی پیدا کرتی ہیں، باحیامائیں ہی عظیم لیڈر پیدا کرتی ہیں، بے حیا عورتیں صرف ایکٹرز اور ڈانسرز ہی پیدا کرسکتی ہیں‘‘ ۔

اب پروفیسر زَیک کو دلائل ڈھونڈنے میں مشکل پیش آنے لگی۔ تھوڑی سی خاموشی کے بعد منصور گویا ہوا کہ ’’پاکستانی خواتین مرعوبیّت اور احساسِ کمتری کا زیادہ ہی شکارہیں، یورپ اور امریکا میں پڑھے لکھے لوگ حق کی تلاش میں جدوّجہد کرتے ہیں اور جب خالقِ کائنات کی سچّی کتاب تک ان کی رسائی ہوتی ہے تو سچائی کے نور سے ان کے دل و دماغ منوّر ہوجاتے ہیں، وہ کسی قسم کے Complexesکا شکار نہیں ہوتے اس لیے سوچ سمجھ کر اسلام قبول کرنے والے نو مسلم خواتین و حضرات اسلامی شعائر کا پورے اعتماد ، دلائل اور جرأت کے ساتھ دفاع کرتے ہیں۔ نو مسلم برطانوی صحافی ایوان دیڈلے کئی بار کہہ چکی ہیں کہ مغرب حجاب میںلپٹی پاکیزہ زندگی گزارنے والی خواتین سے خوفزدہ ہے، خدائے واحد پر ایمان اور اسلام ہی انسانی حقوق اور خصوصاً عورتوں کے حقوق کو تحفّظ دیتا ہے اور تعصّبات سے پاک منصفانہ زندگی کا ضامن ہے یہی احساس اسلام کی مقبولیت کا سبب بھی ہے‘‘۔ وہ اکثر کہتی ہیں ’’ میرا حجاب میرا قلعہ اور میرا سائبان ہے۔ یہ عورت کا محافظ اور باڈی گارڈ ہے‘‘ ۔ سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کی بیگم کی سگی بہن لارن بوتھ کی ایک تقریر میں نے خود سنی تھی، تقریب میں اس کی دونوں معصوم بیٹیاں اس کے ساتھ کھڑی تھیں اس نے حاضرین کو بتایا کہ ’’جب کافی مطالعے کے بعد میں اسلام کی طرف راغب ہوئی تو میں نے اپنی بیٹیوں کو بتایا کہ اب میں مسلمان ہونے جارہی ہوں، اس پر انھوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے۔ ان کا پہلا سوال تھا Mom! will you keep on drinking alcohol? (امّی کیا آپ مسلمان ہونے کے بعد بھی شراب پیا کریں گی؟) میں نے کہا اب بالکل نہیں پیونگی۔ یہ سنکر میری بیٹیاں بہت خوش ہوئیں۔ پھر بڑی بیٹی نے پوچھا Mom! will you open your chest to the public? (امّی کیا آپ مسلمان ہونے کے بعد بھی سینہ نمایاں کرکے لوگوں میں پھریں گی ؟) میں نے کہا “Oh no I will cover my whole body” ( نہیں اب میں اپنا پورا جسم ڈھانپاکرونگی ) اس پر ان کی خوشی دیدنی تھی انھوں نے بڑے زور سے پُر مسرّت نعرہ لگایا”۔ پھر میڈم بوتھ سامعین سے مخاطب ہوئیں کہ ’’اس حجاب کے لیے مجھ پر کوئی جبر یا سختی نہیں ہے یہ تو میرے مسلمان ہونے کی علامت اور سمبل ہے، یہ میرے لیے شرف ا ور افتخار کا باعث ہے ۔ مجھے حجاب سے اس لیے محبّت ہے کہ میرے اﷲسبحانۂ تعالیٰ کی خوشی اور خوشنودی اِسمیں ہے‘‘۔

مسز منصور نے لقمہ دیتے ہوئے کہا ’’میری بھی ان سے ملاقات ہوچکی ہے، وہ اتنی خوبصورت گفتگو کرتی ہیں کہ دل چاہتا ہے انسان سنتا ہی رہے۔ ایک تقریب میںوہ مجھ سے بڑی گرمجوشی سے ملیں اور مجھے کہا کہ ’’پاکستانی خواتین کو جاکر بتائیں کہ عریاں اور ٹرانسپیرنٹ لباس اور لڑکیوں کا بازو ننگے کرکے اور سر اور سینہ ڈھانپے بغیر پھرنا ماڈرن اِزم ھرگز نہیں ہے یہ تو ہزاروں سال پرانا کلچرہے۔ یہ ابو جہل کے دور کا کلچر ہے جب عورتیں عریاں پھرتی تھیں۔کیا مسلمان لڑکیاں پھر جہالت کے دور میں واپس جانا چاہتی ہیں؟۔ انھیں بتائیں کہ شیطان کا پہلا حملہ عورت کے لباس پر ہوتا ہے ، اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں صرف اہم ترین باتوں کا ذکر کیا ہے اور خواتین کے جسمانی اعضاء میں سےChest ڈھانپنااتنا اہم ہے کہ کائناتوں کے خالق اور مالک نے خود اس کا حکم دینا ضروری سمجھا ۔ مسلم خواتین کو اپنی تہذیب اور اپنے کلچر پر فخر کرنا چاہیے۔ جو قوتیں مسلمان لڑکیوں کا حجاب اتروانا چاہتی ہیں میں انھیں بہت قریب سے جانتی ہوں وہ عورت کی عزّت نہیں کرتے وہ عورت کو صرف ہوس کی تسکین کا ذریعہ یا commercial comodityسمجھتے ہیں، یورپ اور امریکا اسلامی معاشروں سے حیاء کا سرمایہ چھین کر مسلمان لڑکیوں کو بے حیا بنانا چاہتاہے، وہ مسلمانوں کی حمیّت ختم کرنے کے لیے حیاء کے قلعے کو مسمار کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مسلم دشمن قوتیں جانتی ہیں کہ اگر مسلمان معاشرے حیاء سے محروم ہوگئے تو پھر وہ مغرب کے سامنے کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہینگے ، پھران کا علیحدہ تشخّص اور identity ختم ہوجائیگی اورپھر وہ مغرب اور مغربی تہذیب کے پٹھّو اور پیروکار بنکر زندہ رہیں گے “۔ (پاکستان کی بیٹیوں اور ان کی ٹیچرز کے نام) مشرق کے بے مثل مفکّر ، شاعر اور دانائے راز علامہ اقبال ؒنے ’’جاوید نامہ‘‘ میں اپنی ایک خوبصورت فارسی نظم میں حجاب کی حکمت بڑے دلپذیر انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ کائناتوں کو تخلیق کرنے والے ربّ ِ ذوالجلال کو ہم دیکھ نہیں سکتے کیونکہ خالق پوشیدہ رہتا ہے اسی طرح تخلیق کرنے والی ہر ہستی کو نظروں سے اوجھل رکھا جاتا ہے کیونکہ تخلیق کی حفاظت کے لیے خلوت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے صدف کا موتی خلوت میں ہی جنم لیتا ہے‘‘۔ حفظ ہر نقش آفریں از خلوت است۔۔۔۔خاتم اِورانگیں از خلوت است۔۔۔جاپانی نو مسلمہ خولہ لکاتا حجاب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’ میرے دل میں روحانیت کی اتنی اشتہا تھی کہ میں نے سب سے پہلے اسلامی لیکچر کے ہر لفظ کو اس طرح جذب کرلیا جیسے خشک اسفنج پانی کو جذب کرتا ہے۔ حجاب پہنکر میں اپنے آپ کو پاکیزہ اور محفوظ سمجھنے لگی اور مجھے احساس ہوا کہ میں ﷲ سبحانہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوگئی ہوں۔

میرا حجاب دوسروں کے لیے ﷲ تعالیٰ کے وجود کی یاددہانی ہے اور میرے لیے اپنے آپ کو ﷲ کے سپرد کرنے کی یاد دہانی۔ میرا حجاب مجھے آمادہ کرتا ہے کہ ہوشیارہوجاؤ تمہارا لباس اور طرزِ عمل ایک مسلم کی طرح ہونا چاہیے، جس طرح پولیس اور فوج کا سپاہی وردی میں اپنے پیشے کے تقاضوں کا خیال رکھتا ہے اسی طرح حجاب بھی مجھ سے کچھ تقاضے کرتا ہے۔ اسلام عورتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر مردوں سے اپنا جسم پوشیدہ رکھیں۔ اس کی حکمت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے۔ ٹائٹ پینٹ، منی اسکرٹ یا ہیجان انگیز لباس کا مطلب ہوتا ہے ’اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو مجھے لے جاسکتے ہیں‘۔ حجاب صاف طور پر بتاتا ہے ’میں آپکے لیے ممنوع ہوں‘۔ اسلام میںعورت صرف اپنے شوہر کے لیے دلکش بننے کی کوشش کرسکتی ہے۔کوئی شادی شدہ عورت دلکش بنکر کسی مرد کی توجّہ کیو ں اپنی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے؟ کیا وہ اس بات کو پسند کریگی کہ دوسری عورتیں اس کے شوہر کو اپنی طرف مائل کریں؟ اسلام سے بغض رکھنے والے متعصّب لوگ ایسی عورت کی عظمت کا اندازہ نہیں لگاسکتے جو حجاب میں پراعتماد، پرسکون ، باوقار اور پرمسّرت ہے اور اپنے حجاب پر فخر کرتی ہے‘‘۔ 15فروری کو حیاء پر حملے کے بارے میں پہلا کالم چھَپنے کے بعد ممتاز ماہرِ تعلیم اور لاہور کالج فارویمن کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ متین صاحبہ نے فون کیا اور فرمایا ’’مجھ سے کچھ طالبات حیاء کے بارے میں سوال پوچھتے ہوئے جب کہتی تھیں کہ میڈم حیاء تو دل میں یا آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اس کا لباس سے کیا تعلق ہے‘‘ تو میں انھیں بتاتی تھی ’’بیٹا ! یہ صرف فلمی ڈائیلاگ ہیںاور کچھ لوگ بیہودہ لباس کے دفاع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ حیاء کا لباس سے گہرا تعلق ہے جو لڑکی اپنے جسم کے فیچرز اور اُبھار ڈھانپتی ہے وہ باحیاء ہے اور جولڑکی اپنے فیچرز اور خدّوخال سرِ عام دکھانے میں شرم محسوس نہیں کرتی لوگ اسے با حیا کیسے کہیں گے؟ ڈاکٹر صاحبہ نے مزید کہا کہ کچھ مائیں اور خود لڑکیاں بھی آجکل کا نامناسب لباس پسند نہیں کرتیں مگر سماجی دباؤ کی وجہ سے خاموش ہوجاتی ہیں اور تنہائی کا شکار ہونے کے ڈر سے وہ بھی بیہودہ لباس پہننا شروع کردیتی ہیں۔ انھیں چاہیے کہ ہمّت سے کام لیں اس بیہودگی کے خلاف ڈٹ جائیں، بے حیائی کے خلاف نفرت کا اظہار کریں اور اپنی تہذیب اور اَقدار کے مطابق باحیاء اور باوقار لباس پہنیں۔ انھوں نے بتایا کہ میری ایک بیٹی ڈاکٹر ہے، ایک دن اس نے مجھے خود کہا کہ امّی میں پورے بازوؤں والی قمیض پہن کر اسپتال جایا کروںگی کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتی کہ وار ڈمیں مریض میرے ننگے بازو دیکھتے رہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے درست کہا کہ’’ نئی نسل کو بے حیائی سے بچانا ہمارا بہت بڑا چیلنج ہے۔ د ہشتگردی سے بھی بڑا! اس کے لیے ان کی ماؤں اور ٹیچرزکو بھرپور اور فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتی تو وہ مجرم ٹھہریں گی، تاریخ کے کٹہرے میں بھی اور ﷲ کی عدالت میں بھی‘‘ ۔

پچھلے کالم کے بعد اسلام آباد کے ایک گرلز کالج کی پرنسپل صاحبہ ملنے کے لیے تشریف لائیں،کالم کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ ’’تحریر نے انتہائی اہم اور تشویشناک اِشوکی نشاندہی کی ہے اور بروقت دستک دی ہے۔ پھر کہنے لگیں صاف نظر آرہا ہے کہ کچھ طاقتوں نے منصوبہ بندی کے تحت حیا کے قلعے کا محاصرہ کیا ہے اور اس پر مسلسل گولہ باری کرکے اسے جگہ جگہ سے منہدم کردیا ہے اس حملے میں وہ سب سے زیادہ میڈیا اور انٹرنیٹ کو استعمال کررہی ہیں۔ میڈیا ہاؤسز اشتہاروں کے لیے ان کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔میں طالبات سے اکثر کہتی ہوں کہ ہماری پبلک لائف کی معروف ترین خواتین کیطرف دیکھیں محترمہ فاطمہ جناح دوپٹہ لیتی تھیں، محترمہ بینظیر بھٹوہمیشہ دوپٹے سے سرڈھانپتی تھیں،موجودہ خاتونِ اوّل بیگم کلثوم نوازاور ان کی بیٹی مریم نواز حجاب میں حجاب محسوس نہیں کرتیں، پہلی خاتون اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور موجودہ وفاقی کابینہ کی تینوں خواتین وزراء دوپٹہ لیتی ہیں۔ صوبائی وزیر بیگم ذکیہ شاہنوازصاحبہ تو گریس اور وقارکی دیوی لگتی ہیں۔ یہ ملک کی ویمن لیڈرز ہیں، لڑکیوں کو لباس کے معاملے میں ان کی پیروی کرتے ہوئے سَر اور چَیسٹ کوcoverکرنا چاہیے اور گھٹیا قسم کی ایکٹرسوں یا اخلاق باختہ عورتوں کی پیروی ہرگز نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ قاضی حسین احمد صاحب مرحوم و مغفور کی صاحبزادی اور سابق ایم این اے محترمہ سمیعہ راحیل قاضی نے عالمی یومِ حجاب کے سلسلے میں بڑا خوبصورت کتابچہ مرتب کیا ہے۔اس کتابچے میں انھوں نے حجاب اور مسلم تشخّص کے تحفّظ کے لیے مروہ الشربینی سمیت کئی خواتین کی قربانیوں کے روح پرور واقعات تحریرکیے ہیں۔مروہ الشربینی ایک مصری نژاد جرمن مسلمان خاتون تھیں جو اُس بے حیائی کے ماحول میں بھی اپنی عصمت و عفت کی حفاظت سے غافل نہیں تھیںاور مکمل حجاب کا اہتمام کرتی تھیں۔ مغرب کے انتہا پسندوں کو یہ بات پسند نہ تھی۔ ان کے ایک بدمعاش پڑوسی ایگزل نے اسوقت ان کی توہین کی جب وہ ایک پارک میں اپنے بچے کے ساتھ موجود تھیں۔ الشربینی بہادر خاتون تھیں انھوں نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرادیا، عدالت نے ایگزل کو جرم ثابت ہونے پر دوہزار یورو جرمانے کی سزا سنادی۔ یہ سنتے ہی جنونی ایگزل نے الشربینی پر عدالت میں ہی حملہ کردیا، وہ حاملہ تھیں، مجرم نے ان کا حجاب پھاڑ دیا، ان کے پیٹ پر لاتیں ماریں اور پھرچاقو کے کئی وار کرکے الشربینی کو عدالت میں ہی شہید کردیا۔ مروہ الشربینی شہید کی یاد میں دنیا بھر کی مسلم خواتین یومِ حجاب مناتی ہیں۔ یقیناً جنّت کے اعلیٰ ترین حصّے میںحضور نبی کریم ﷺ نے خود مروہ شہید کا استقبال کیا ہوگا۔

مسلم عورتوں سے حیا کی چادر اتار نے والے کون ہیں؟ ذرا غور سے دیکھیں ایک ہاتھ سے بیٹیوں کا دوپٹہ کھینچنے والے دوسرے ہاتھ سے ڈالر وصول کررہے ہیں ،یہ بھی دیکھیں کہ اس حملے کے منصوبہ ساز ، فنانسر اور ہدایتکار کون ہیں؟ کیاوہ ہمارے خیرخواہ اور well wisher ہیں؟۔ ہرگز نہیں! وہ بدنیّت بھی ہیں اور ہمارے بدخواہ بھی ۔ انھیں ہمارے ملک کا امن اور استحکام بھی پسند نہیں اور وہ ہماری بقاء اور حیاء کے بھی مخالف ہیں، انھیں پہچانیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں خونِ مسلم کو اَرزاں کردیا ہے۔جنہوں نے بم اور بارود سے عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں لاکھوں معصوم بچوں ، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کے چیتھڑے اڑا دیے ہیں ، جو عورتوں کو جانگیئے پہنا کر ان کی کُشتیاں کراتے ہیںجوعورت کی عورت سے شادی کو جائز قرار دیتے ہیں، ان کا عورت سے صرف ہوس اور حرص کا رشتہ ہے۔ ہر قوم کی اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہو تا ہے اور لباس اس تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔کیا ہماری اپنی کوئی تہذیب نہیں ہے؟۔ ہماری تہذیب تو اتنی توانا ہے کہ اس سے خود مغرب خوفزدہ ہے ۔ اپنی مسلم تہذیب اور مسلم تشخّص کے تحفّظ کے لیے ہی قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے انڈیا سے علیحدہ ہوکر پاکستان بنایا تھا۔ تو کیا اب ہماری شناخت ختم ہوجائے گی؟ کیا ہم خود اپنی علیحدہ شناخت ختم کردیں گے؟ نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ ﷲ سبحانہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اس پاک سرزمین کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات خود اٹھ کھڑی ہوںگی۔ وہ بہت جلد اپنی تہذیبی اَقدار کا پرچم لے کر نکلیں گی ، حیا دشمن کلچر کو مسترد کردیں گی اور بیہودگی کے طوفان کا رخ موڑ دیں گی، ان کی للکار ہر سمت گونجے گی اور ان کی آواز ہر گھر میں ہر بیٹی اور ہر ماں تک پہنچے گی ۔ وہ حیاء کے قلعے پر ہونے والے حملے کو پَسپاکردیں گی اور ان کا یہ اعلان پورے خطّے میں گونجے گا کہ “ہماری حیاء ، ہمارا ایمان ہے۔ یہ ہماری پہچان ہے اور یہی وجۂ پاکستان ہے۔ ہم ہر قیمت پر اپنی حیاء کے قلعے کا تحفّظ کریں گی‘‘۔ (ختم شدہ)

کالم از ذوالفقار احمد چیمہ۔سابقہ آئی جی موٹروے پولیس

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment