اسلام

حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔اسماء بنت محمد اجمل

نبی اکرمﷺ نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں، ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب اور شائستہ ناموں سے کریں گے۔ یہ برائی کی سب سے بدترین صورت ہوتی ہے، کیونکہ نفس کی غلامی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ جب کوئی انسانی گروہ گناہ کا عادی ہوجاتا ہے اور جان بوجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا طریقہ کا ریہ ہوتا ہے کہ وہ بدی کو نیکی اور برائی کو اچھائی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ”فحاشی اور بے حیائی کا فتنہ ہے“ جو ”روشن خیالی“ کے نام سے پروان چڑھا یا جارہا ہے۔ قرآنا کریم میں جا بجا ”فحاشی“ ہر اس بُرے اور بے حیائی کے کام کو کہا جاتا ہے جس کی برائی انتہائی درجہ کو پہنچتی ہوئی ہو اور عقل وفہم اور فطرت سلیمہ کے نزدیک بالکل واضح ہو اور منکر کا اطلاق اس قول فعل پر ہوتا ہے، جس کے حرام اور ناجائز ہونے پر اہل شرع کا اتفاق ہو۔

ارشاد باری ہے (ترجمہ) ”یعنی شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے ایک اور جگہ ارشاد باری ہے (ترجمہ)یعنی جو شیطان کے پیچھے چلے تو شیطان تا ہمیشہ بے حیائی اور ناجائز کاموں کی تلقین کرے گا۔ لفظ منکر کے تحت فحشاء بھی داخل ہے، اس کے باوجود قرآن کریم کی مختلف آیات میں فُحشاء کو الگ اور مستقبل ذکر کیاگیا ہے او ر دوسری منہیات سے مقدم فرمایا ۔اس میں طرف لطیف اشارہ ہے کہ فحشاء اور بے حیائی بہت سے منکرات اور مصیبتوں کاذریعہ بنتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں فحشاء کا رواج ہو، وہاں بے غیرتی وبے حمیتی عام ہوجاتی ہے ۔ جذبہ دینی ماند پڑجاتا ہے۔ اسلام وایمان کیلئے زندہ رہنے کی فکر وقوت کمزور ہوجاتی ہے۔ اور کئی گناہوں اور معصیتوں شناعت دل سے اٹھ جاتی ہے دوسری طرف اسلام نے فحشاء کے برعکس حیا کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ اسے جزوایمان قرار دیاہے ۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ”الحیاء شعبتہ من الایمان “ یعنی حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ترجمہ: یعنی اگر آپ میں حیا نہیں تو جی میں آئے کریں۔ حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں حیا سے مراد”شرم“ ہے، جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اور اپنے اللہ کے سامنے محسوس کرتا ہے۔حیا وہ وقت ہے جو انسان کو فحشاء اور منکر کو اقدام کرنے سے روکتی ہے اور اگر وہ جبلت حیوانی کے غلبے سے کوئی بُرا فعل کر گزرتا ہے تو یہی چیز اسے دل میں چٹکیاں لیتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم وتربیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حیا کے اسی چھپے ہوئے مادے کو فطرت انسانی کی گہرائیوں سے نکال کر علم وفہم اور شعوری غذا سے اس کی پرورش کرتی ہے۔ نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے ۔قرآن اور حدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ رب تعالیٰ نے مرد وعورت کو حکم دیا ہے کہ جب وہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں تو اپنی نگاہ نیچی رکھیں! سورہٴ نور میں ارشاد ہے” اے پیغمبر ایمان والوں سے کہہ سے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں“یہاں صرف مردوں کو یا صرف عورتوں سے نہیں کہا، بلکہ دونوں کو حکم دیا اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ رحمت عالمﷺ نے فرمایا اللہ کی لعنت ہے دیکھنے والے پر اور اس پر جس کو دیکھا جائے ۔

شعب الایمان مطلب یہ ہے کہ جو کوئی غیر محرم عورت کو دیکھے اس پہ بھی لعنت ہے اور جو قصدا دیکھنے والے کو دیکھنے کا موقع دے اس پر بھی لعنت فرمائی ۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مرد کا عورت کے محاسن کو دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔ عورتوں کی ذراسی بے باکی مردوں کو آگے بڑھنے کی حرارت دلاتی ہے۔ اس لیے ان پر شرافت کی چند پابندیاں عائد کی گئی ہیں مثلا نگاہ نیچی رکھیں، پردہ کرکے نکلیں تاکہ ان کی زیبائش وآرائش کا ہرنقش راہ چلتوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے اور یہ پہچان ہوکہ یہ عزت والی شریف عورت ہے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی شریعت کی نظر میں جرم ہے۔باہر نکلنے میں خوشبو نہ لگائیں، راستے کے کنارے چلیں، جذب نمائش حسن بھی اس فتنہ نظر کی ایک شاخ ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے۔ یہ خواہش ہمیشہ چلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائش حسن کا جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں ، بالوں کی آرائش میں باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن نے ان سب کے لئے ایک جامع اصطلاح ، تبرج جاہلیت ، استعمال کی ہے ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لئے لذت نظر بننا ہو تبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے۔

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment