اسلام

حاتم طائی کی سخاوت کے واقعات

تاریخ میں ایک ایسی سخصیت بھی موجود ہے جس کی سخاوت کی مثال لوگ آج بھی دیتے نہیں تھکتے۔ عرب میں اسلام سے پہلے برائیاں ہی برائیاں تھی۔ وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن میں ایک حاتم طائی بھی تھا۔
حاتم طائی کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے حاتم طائی کی سخاوت ایک ضرب لمثل ہے۔
حاتم طائی کا پورا نام حاتم ابن عبداللہ بن سعد بن طائی تھا۔ ان کی والدہ ایک دولت مند اور ایک سخی خاتون تھی جبکہ ان کے دادا کو ایسی جنونی سخاوت پسند نہ تھی۔
حاتم کے دادا نے اونٹوں کی نگرانی ان کے ذمہ لگائی۔ لیکن حاتم طائی ایک ہی دن میں ۳۰۰ کے قریب اونٹوں کو غریبوں میں تقسیم کر کے گھر آ گیا۔
اس واقعے کے بعد ان کے دادا نے حاتم سے علیحدگی اختیار کر لی۔
حاتم طائی نے کہا کہ میں تنگدستی کی حالت میں لوگوں سے اجتناب کرتا ہوں۔ اور مالداری کی حالت میں لوگوں سے میل جول کرتا ہوں۔
ابن اعرابی کے مطابق حاتم ہر میدان میں کامیاب ہوتا ہے۔ جب وہ جنگ کرتا ہے تو غالب آ جاتا ہے۔
جب ماہ رجب کا چاند نظر آتا تو حاتم ہر روز ۱۰ اونٹ ذبح کرتا اور لوگوں کو کھانا کھلاتا۔ حاتم نے یمن کے بادشاہ کی بیٹی ماویہ بنت افرت سے نکاح کیا
یمن کا بادشاہ سخاوت میں بہت مشہور تھا۔ وہ اتنا سخی تھا۔ اس کی سخاوت کی وجہ سے اسے بخشش کا بادل بھی کہا جاتا ہے۔ مگر وہ حسد کی بیماری میں مبتلا تھا۔ وہ حاتم طائی سے بہت حسد کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ حاتم طا ئی کی اس کے آگے کوئی حیثیت نہیں۔
بادشاہ سمجھتا تھا کہ میرے پاس مال و دولت ہے جو حاتم کے پاس نہیں ہے اس لیے وہ مجھ سے زیادہ سخی کیسے ہو سکتا ہے۔
بادشاہ اکژ کہا کرتا کہ خالی جیب سخاوت نہیں ہوتی۔
ایک دفعہ بادشاہ نے اپنی سخاوت کو دکھانے کے لیے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں بادشاہ نے ہر غریب شخص کو انعام و کرام سے نوازا۔
اس نے اتنی دریا دلی دکھائی سب لوگ حیران ہو گے۔ لوگوں کو پتہ تھا کہ بادشاہ حاتم سے جلتا ہے۔ تو کسی نے دعوت میں حاتم کا ذکر چھیڑ دیا۔ بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ جب تک حاتم زندہ ہے ۔ لوگ اسے نہیں بھول سکتے۔ تو اس نے حاتم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا یا۔
بادشاہ نے اپنے ایک سپاہی جس کا نام عادل تھا، کو اس کام کے لیے امادہ کیا اور کہا۔ حاتم کا سر کاٹ کر لاو تمہیں ہیرے اور جواہرت انعام میں دوں گا۔ اور تمہیں سپاہی سے کوتوال بنا دوں گا۔
عادل دن رات سفر کرتے ہوے اپنی منز ل تک پہنچ گیا۔ ابھی وہ قبیلے کی بستی سے کچھ دور ہی تھا اسے ایک سخص مل گیا جو مہربان، ملنسار اور خوبصورت بھی تھا۔ اس آدمی نے عادل سے شائستہ لہجے میں پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔
عادل نے کہا میں ایک مسافر ہوں یمن سے آیا ہوں ایک رات بستی میں گزار کر واپس چلا جاوں گا۔ تو اس خوبصورت جوان نے اپنے ساتھ رات رکنے کا کہا جس پر عادل نے قبول کر لیا۔
اس آدمی نے عادل کی مہمان نوازی کی کھانا پیش کیا اور سونے کے لیے بستر دیا ۔ عادل اس کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا۔
صبح جب اجازت چاہی تو مہمان نے پوچھا کیسے آنا ہوا۔ عادل اس نوجوان کی مہمان نوازی سے خوش ہو کر سب کچھ بول پڑا۔ اس نے بادشاہ کے حسد سے لے کر قتل کرنے کا تمام منصوبہ بتا دیا۔
یہ سن کر اس نوجوان نے اپنی تلوارعادل کو دے دی اور اپنی گردن جھکا دی اور کہا میں ہی حاتم طائی ہوں ۔ میرا سر قلم کر کے بادشاہ کے پاس لے جاو اور اپنا انعام لو۔ یہ سن کر عادل شرمندہ ہوا اور خالی ہاتھ لوٹ گیا۔
عادل جب بادشاہ کے پاس پہنچا تو اسے بھی ساری کہانی بتا دی۔ تو بادشاہ بے اختییار بول ُپڑا۔ مجھ میں اور حاتم میں بہت فرق ہے۔ میں حاتم طائی کی جوتے کی خاک کے برابر بھی نہیں۔
آگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو دوستوں کے شیر ضرور کریں۔ شکریہ