ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

حسن بن صباح اور اس کی بہشت

حسن بن صباح(1050-1124) کا شماراسلامی تاریخ کے متنازعہ کرداروں میں ہوتا ہے۔اس کی شخصیت ،اس کی فکری اور مذہبی تحریک ،جس نے بعد ازاں نزاری اسماعیلیوں کی شکل اختیار کی (موجودہ دور میں پرنس کریم آغاخاں اور ان کے پیروکار)کے بارے میں بہت سے قصے کہانیاں مشہور ہیں۔حسن بن صباح کو غلام احمد پرویز جیسا’روشن خیال‘ مذہبی دانشور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ’آلودہ ‘ کرنے کا الزام دیتا ہے اور اسے’ عجمی سازش‘ کہہ کر حقارت سے مسترد کر دیتا ہے ۔

کچھ ہم عصر دانشوروں کے نزدیک حسن بن صباح اور اس کے فدائین موجودہ دور کے خود کش بمباروں کے پیش رو تھے ۔ان کہنا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنے کا سلسلہ حسن بن صباح ہی نے شروع کیا تھا۔

ایران کے شہر قم میں پیدا ہونے والے حسن اور اس کے قلعہ الموت ( لفظی مطلب ، شاہینوں کا بسیرا)کے بارے میں جو قصے کہانیاں مشہور ہیں وہ سب اطالوی سیاح مارکو پولو سے منسوب ہیں۔ مارکوپولو 24سال ایشیا کے مختلف ممالک کی سیاحت کے بعدجب وہ واپس اپنے آبائی شہر وینس لوٹا تو وینس او ر جنیوا کے مابین جنگ ہورہی تھی ۔ مارکو پولو نے اس جنگ میں حصہ لیااور دوران جنگ وہ گرفتار ہوگیا ۔

جنگی قیدی کے طور پر اس نے اپنی سیر و سیاحت اور اس دوران حاصل ہونے والے تجربات سے اپنے ساتھی قیدیوں کو آگاہ کیا جنھیں انھوں نے بعد ازاں لکھ لیا۔ دنیا آج جسے مارکو پولو کا سفرنامہ کہتی ہے وہ در اصل اس کے ساتھی قیدیوں کی وہ یادداشتیں ہیں جنھیں انھوں نے دوران قید مار کو پولو کی زبانی سنا تھا ۔مارکو پولو کا اپنا لکھا ہوا کوئی سفر نامہ دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے ۔

ساتھی قیدیوں کی ان یاد داشتوں کا دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ان تراجم کے متون ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مارکو پولو کے سفرنامہ کو بہت سے اہل علم متنازعہ قرار دیتے ہیں۔

قرون وسطی ٰکے مسلم مورخین ،جو حسن بن صباح کی تحریک اور اس کے مرکز قلعہ الموت سے زیادہ واقفیت رکھتے تھے، کی تحریروں میں قلعہ الموت میں کسی بہشت کی موجودگی اور حشیش کے استعمال کا ذکر موجود نہیں ہے۔ کہیں یہ تو نہیں کہ مارکو پولو نے قلعہ الموت کی بہشت اور وہاں حشیش کے زیر اثر عیش و عشرت کی سر گرمیوں کا ذکر اپنے سفر نامہ کو زیادہ رنگین اور دل چسپ بنانے کے لئے کیا ہو؟۔

قلعہ الموت کوئی ایسا جگہ نہیں تھی کہ جہاں لوگ جا نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ کوئی خفیہ مقام یا کسی زیر زمین تحریک کا مرکز نہیں تھا ۔ قلعہ الموت جس وادی میں واقع تھا وہ پچاس کلومیٹر لمبی اور پانچ کلو میٹر چوڑی تھی اور یہاں دوسرے مذاہب اور فرقوں کے افراد کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ عباسی خلافت کے سفارتی وفود ایک سے زائد مرتبہ قلعہ الموت گئے تھے لیکن وہاں کسی بہشت کی موجودگی اور حشیش کا ذکر ان میں سے کسی نے بھی نہیں کیا اور ان وفود میں شامل افراد سے منسوب ایسی کوئی تحریر موجود نہیں ہے ۔

جب منگولوں نے مختلف مسلمان علاقوں کو فتح کرنا شروع کیا تو بہت سے مسلمان دانشوروں، اوراہل علم و فن نے پنا ہ کے لئے قلعہ الموت کا رخ کیا تھا ۔ ان پنا ہ لینے والوں میں مشہور عالم نصیر الدین طوسی ( متوفی : 1274) بھی شامل تھا ۔یہ افراد کئی دھائیوں تک قلعہ الموت میں رہے لیکن ان میں کسی نے بھی وہاں بہشت یا حشیش کے استعمال کا ذکر نہیں کیا ۔

جب ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کر لیا تو اس کا سیکرٹری عطاالملک جیونی نے اس کا دورہ کیا ۔ اس نے قلعہ کی لائبریری سے کتب اور سائنسی آلات کو نکال کر باقی سب کچھ نذر آتش کر دیا تھا ۔ جیونی حسن بن صباح کا بد ترین مخالف تھا لیکن اس نے بھی الموت میں بہشت اور حشیش کے استعمال کا ذکر نہیں کیا تھابلکہ اس نے حسن بن صباح کی اس بنا پر تعریف کی تھی کہ اس نے اپنے زیر اثر علاقوں میں ہر قسم کی نشہ آور اشیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رکھی تھی ۔

ہم عصر مسلمان مورخین نے قلعہ الموت میں کسی بہشت کی موجودگی کا اشارہ نہیں دیاتھا ۔ جدید تحقیق بھی ایسی کسی بہشت کی موجودگی اور حشیش کے زیر اثر نامور شخصیات کو قتل کرنے والے فدائین کی قلعہ الموت میں موجودگی کی تائید نہیں کرتی ۔ اب جو آثار قدیمہ والوں نے قلعہ الموت کی جگہ پر جو کھدائی کی ہے اس میں بھی ’ مشہور زمانہ

تبصرے
Loading...