بلاگ کالمز

محنت میں ہرگز کوئی عیب نہیں!

پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں 60 فیصد لوگ کم عمر ہیں۔ اس قوم کا ہر ایک شخص جو ہماری اجتماعی قوت کا حصہ ہے اپنے آپ میں بہت سی صلاحیتوں کا مجموعہ ہے اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر جہاں مواقع بہت ہیں وہیں آزمائشیں بھی بے انتہا ہیں۔ 2015ء کے مالی سال میں ہمیں پچھلے 13 سالوں میں سے سب سے زیادہ بیروزگاروں کی تعداد دیکھنے کو ملی ہے۔ ہر بیروزگار شخص ہماری قوم کیلئے چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ذمہ داری ہم پرعائد ہوتی ہے کہ اپنے نوجوانوں کو ایسی صلاحتیوں سے آراستہ کریں جو آگے جا کر ان کے لئے روزگار کے اسباب پیدا کرسکیں۔آج ہمارے نوجوان ایک بہتر زندگی کے طلبگار ہیں اور اس کیلئے نوکری کے جو مواقع ان کو میسر آتے ہیں وہ جسمانی محنت و مشقت پر میسر ہوتے ہیں۔ اگر ہم سطح کو کھرچ کر دیکھیں تو پیشہ وارانہ درجہ بندی اور سماجی رویوں کی وجہ سے جسمانی مشقت والی نوکریوں کو وہ مقام اورعزت نہیں ملتی

جس کی وہ حقدار ہیں۔ ہمارے سماجی اور اقتصادی سوچ اور رویے جسمانی محنت کرنے والے شخص کو کم مائیگی کا احساس دلاتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کی کثیر تعداد کی گریجویشن کی سطح تک معیاری تعلیم حاصل کرنا ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ اقتصادی ماہرین کی نظر میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں تعلیمی درسگاہوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، ہمارے خیر خواہ ان درسگاہوں کو نوجوانوں کیلئے ترقی کا دروازہ سمجھتے ہیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن اِس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہنرمند ہونا کبھی بھی ہمارے نوجوانوں کی پہلی ترجیح نہیں ہوتی

اور وہ سفید پوش نوکریوں کے خواب ہی دیکھتے ہیں، لیکن جب ان کو کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور قسمت ان پر سارے دروازے بند کردیتی ہے تب وہ سوچتے ہیں کہ کوئی ہنر سیکھ لیا جائے۔ پلمبر، موٹر مکینک، کوئلہ کھودنے والا یا پھر الیکٹریشن وہ تب بنتے ہیں جب زندگی سے انہیں کچھ اور حاصل نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے لوگ ایسے دیکھنے کو ملے ہیں جو پنکچر اور کارپینٹر کا کام کررہے ہیں، حالانکہ یہ وہ کام تھے جو کبھی بھی ان کی پہلی پسند نہیں ہوتا، اور اپنی زندگی کے لئے انہوں نے کچھ اور ہی سوچ رکھا ہوتا ہے۔تاریخی طور پر آرٹ، ادب اور کسی بھی اس طرح کے کام کو ہنر پر ترجیح دی جاتی تھی، اور یہ سوچ آج بھی قائم ہے۔ یہ چیلنج ہمارے معاشرے کے اندر ہے۔ ہمارے اندر ایک اندرونی مزاحمت ہے جو ہمیں ایسی نوکریاں کرنے سے روکتی ہے جس میں کوئی یونیفارم پہننا ضروری ہو۔ ہم سوٹ اور ٹائی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ کیا سوٹ اور ٹائی بھی ایک طرح کی وردی نہیں ہے؟ ہم ان نوکریوں کو زیادہ عزت دیتے ہیں

جن میں جسمانی مشقت کے بجائے ذہنی کام زیادہ ہوتا ہے۔پاکستان کے معاشی فتنوں کو دیکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہنر اور دستکاری کے شعبوں میں ترقی ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہنر کو سیکھنے کی لاگت کم کرنی چاہیئے۔ اس طرح کے کام کرنے میں فخر کا احساس ہمارے معاشرے میں بڑے پیمانے پر پیدا کیا جانا چاہیئے۔ ہم پاکستانی آج بھی اسی مخمصے کا شکار ہیں کہ ہنرمندی اور جسمانی محنت کرنے میں زیادہ فخر محسوس کریں یا نہیں۔پاکستان کے نوجوان ممکنہ طور پر ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، لیکن یہ اثاثہ ملازمت نہ ملنے کی صورت میں پاکستان کے اقتصادی حالات کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ کیا ان تمام نوجوانوں کو یونیورسٹی میں داخل ہوکر ڈگری لینے کا موقع ملے گا؟ اور اگر ان کو موقع مل بھی جائےتو کیا ان کو مارکیٹ میں وہ مقام اور جگہ مل جائے گی جس کے وہ خواہش مند ہیں؟ بوکر ٹی واشنگٹن نے ایک بار کہا تھا.کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی،

جب تک زرعی زمین کی کھدائی کرنے والے اور نظم لکھنے والے کو ایک ہی طرح کی عزت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ہم نے اپنی تنظیم میں باہمی احترام اور ہمدردی کا احساس پیدا کرنے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ ہر مہینے میں ایک دن ہمارا انتظامی عملہ ہمارے طالب علموں کی وردیاں پہنے گا۔ کسی دوسرے انسان سے منسلک ہوکر اس کی زندگی کی مشکلات کو سمجھنا ایک ایسی صلاحیت ہے جس کے حصول پر محنت کی جانی چاہیئے۔ یہی صلاحیت معاشرے میں مالی درجہ بندی کو ختم کرسکتی ہے۔ایک معاشرہ تب ہی ترقی کرسکتا ہے جب اسے ہر طبقے کے پیشہ وارانہ لوگوں کے ساتھ باہمی انحصار کا احساس ہو۔ یہ ہم زیستی ایک ایسی ثقافت کی طلبگار ہے جہاں ہر پیشے کو وقار اور عزت ملے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو عزت دیں جو وردی میں ملبوس اپنے کام میں مگن ہیں کیونکہ وہ اس عزت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔