بلاگ

ہر عورت کا ایک ماضی ہوتا ہے

جی۔۔۔۔۔ہاں! ہرعورت کی ایک کہانی ہوتی ہے. بعض خواتین بچپن سےگھرمیں جھگڑا اورمارکٹائی دیکھتی ہیں تووہ ایسےماحول کاسامنا کرتےہوئےذہنی تناؤکا شکارہوجاتی ہیں. بعض خواتین بچپن میں کسی کی ہوس کاشکاربن چکی ہوتی ہیں. بعض لڑکیوں کوپیارکےنام میں صرف دھوکہ ملتا ہے اورکچھ خواتین کوانکےاپنےہی گھروالےکیسی بھی وجوہات کی بناءپربلیک میل کرتےہیں. کچھ خواتین والدین کےدباؤمیں آکرایک بےنام رشتےمیں بند جاتی ہیں. چندایک خواتین کےماضی میں گھرٹوٹ چکےہوتےہیں. بعض خواتین کوانکےماضی میں کسی وجہ کی بناپرطلاق ہوچکی ہوتی ہے.کچھ خواتین کوحالات کچھ غلط کرنے پرمجبورکردیتےہیں. چند ایک خواتین نشےکی عادی ہوجاتی ہوتی ہے.کچھ لڑکیاں کئی ایک وجوہات کی بناءپرکتنی ہی بارخودکشی کی ناکام کوشش کرچکی ہوتی ہیں. اس سب کےباوجودسوال یہ اٹھتا ہےکے…..صرف عورت کےلیےسزاکیوں؟؟؟

 

پاکستان میں روزانہ اوسطاً11معصوم بچےجنسی درندگی کاشکاربنتےہیں۔ پولیس ریکارڈ اورمختلف تنظیموں کےاعدادوشمارکہ مطابق اوسطاً ہرروز 11 معصوم بچےجنسی درندگی کاشکاربنتےہیں. 2016 میں ملک بھرمیں 100 بچےزیادتی کےنتیجےمیں اپنی زندگیوں سےہاتھ دھوبیٹھے.2013میں 3002 کیسزجنسی زیادتی کےرپورٹ ہوئے۔2014 میں 3508بچوں کوجنسی بدفعلی کانشانہ بنایا گیا.2016 میں جنسی زیادتی کےواقعات میں 1277 بچیوں کوہوس کانشانہ بنایاگیا۔ 06 اپریل 2016 کو تہمینہ نامی بچی کوزیادتی کےبعدقتل کرکےلاش زیرتعمیرمکان میں پھینک دی گئی.4 مئی 2016 کوثنا نامی بچی کوزیادتی کےبعدقتل کیا گیا. 8جنوری 2017 کوعائشہ نامی بچی کوہوس کانشانہ بناکرقتل کردیاگیا اورلاش زیرتعمیرمکان میں پھینک دی گئ۔ 24 فروری 2017 کو ایمان فاطمہ نامی بچی کوزیادتی کانشانہ بنایاگیا۔11 اپریل 2017 کومعصوم پھول نورفاطمہ کوزیادتی کےبعدلاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔21 اپریل 2017 کو فوزیہ نامی بچی کوزیادتی کانشانہ بنایاگیا۔8 جولائی 2017 کو 8 سالہ لائبہ کوزیادتی کانشانہ بنایاگیا۔

 

ہم بات کررہے ہیں اپنےمعاشرےکی جی ہاں!…ہمارےمعاشرےمیں جب کوئی حواکی بیٹی کسی آدم کےبیٹےکوپسندیدگی کی نگاہ سےدیکھتی ہے یا اُس کےساتھ کسی پاک رشتےمیں بندھنا چاہتی ہےتوعزت کےنام پےاُس کی سوچ اُس سےچھین لی جاتی ہے. اُسکےخیالات اُس سےچھین لیےجاتےہیں. اُس کوکمزورہونےکااحساس دلایا جاتا ہے.لوگوں کےرویےبدل جاتےہیں اوراُسکی زندگی کواُس پرحرام قراردیا جاتا ہے.اچانک سےہمارےمعاشرےکی صدیوں سےسوئی ہوئی عزت جاگ جاتی ہے. ہمارے پاکستان میں آج بھی بہت سی بیٹیاں عزت کےنام پےکسی بھی مرد کےہاتھ سونپ دی جاتی ھیں.آج بھی بہت سی بہنیں اپنےبھائیوں کےہاتھوں قتل ہوتی ہیں. یہاں سوال یہ اٹھتاہےکےصرف عورت کےلیےسزاکیوں ….؟؟؟؟

 

سمجھوتےکےنام پرعورت کےاحساسات کوروندھا جاتاہے.ہمارےیہاں بچپن سےلڑکی کےدل میں یہ بات ڈال دی جاتی ہےکہ اپنےشوہرکےگھرجاکرصرف سمجھوتا کرنا ہے.حالات جیسےبھی ہوں بس گزارہ کرناہے.اگرہم گلی محلوں کی بات کریں توہمارےگلی محلوں میں جب بھی گالی کی آوازآتی ہےتواس میں عورت کانام ہوتاہے.ماں بہنوں کی گالیاں نکالنا توجیسےایک معمولی سی بات ہے.ہمارےمعاشرےمیں گھریلوتشدد کا سامنا بھی صرف عورت کوہی کرنا پڑتا ہے.عزت کےنام پرفروخت بھی صرف عورت ہوتی ہے. کچھ لوگ آج بھی عورت کومقام دینےکےلیےتیارنہیں کیایہ سوچنےکی بات نہیں؟؟؟؟ اگرآپ کسی ایسی عورت کودیکھتےہیں جوماضی میں ان سب حالات سےدوچارہوچکی ہوتی ہےاورحال میں اپنےآپ کونارمل دیکھانےکےلیےاپنےآنسوچھپاتی ہے،اپنےچہرےپرمیک اپ لگاتی ہے،بال بناتی ہے اوراپنےآپ کومحفوظ دیکھانا چاہتی ہے.اپنےچہرے پرمسکراہٹ سجاتی ہے،کسی بھی دکھ سےگزرنےکےباوجود اپنےبہترمستقبل کی تمنارکھتی ہے.آگےبڑھناچاہتی ہے،اپنےساتھ براہونےکےباوجودبھی وہ اس چیزپریقین رکھتی ہےکےمحبت،احساس،خوشی جیسی چیزیں اس دنیامیں آج بھی موجود ہیں.

 

یقین مانیں ہرعورت کاایک ماضی ہوتا ہے، لیکن وہ پھربھی بہترحال بہترمستقبل کےخواب دیکھتی ہے. اس کی جاگتی آنکھوں میں ڈھیروں سپنے،ڈھیروں خواب اور ڈھیروں ستارےجھلملاتےہیں. ہمیں یہ سمجھنےکی ضرورت ہےکہ عورت ایک باغ ہے،ایک آزاد پنچھی کی طرح اڑتی ہوئی تتلی ھے.ماں، بہن ،بیٹی، اور بیوی بہت سےانمول رشتےخدا تعالیٰ نےعورت کی ذات میں سموع دیےہیں. یہ ایسی ذات ہے جواپنےہررشتےکےساتھ ایمانداری سےپیش آتی ہے. توکیاہم صرف اس کےحقوق پورےکرکےاُسےاُس کامقام نہیں دےسکتے؟؟؟ ذراسوچیں کیاہمارے بہتررویوں سےبہت سےگھرخوشحالی کی طرف نہیں جاسکتے؟.جب خدا بیوی، بیٹی ،ماں اور بہن کواعلیٰ مقام دیتا ہےتوہم کون ہوتےہیں یہ حق کسی سےچھینےوالے؟.بےشک عزت اور ذلت صرف اسی کی ذات کےہاتھ میں ہے۔ مل کرایک قدم اٹھائیں آزادی کی طرف کامیابی کی طرف….
اور۔ ۔ ۔ یقین مانیں ہرعورت خواب دیکھتی ہے۔ ۔ ۔