ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ازدواجی زندگی کو رومانٹک اور شاندار بنانے کے لیے چند نبوی ٹپس

ازدواجی زندگی کو رومانٹک اور شاندار بنانے کے لیے چند نبوی ٹپس

1 ۔ بیوی کے لیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنا
قال رسول الله ﷺ : ” تبسمك في وجه أخيك لك صدقة “.جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: بھلائی کرنے کابیان) 1956 . رسول اللہﷺ نے فرمایا:” اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے ۔” آپ کی بیوی آپ کی مسکراہٹ کی زیادہ حق دار ہے

2 ۔ بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا
قال رسول الله ﷺ : ” إنك لن تنفق نفقة إلا أجرت عليها حتى اللقمة ترفعها إلى فم امرأتك ”
صحیح بخاری: کتاب: انصار کے مناقب (باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے) 3936 .” تم اپنی اولاد کو چھوڑ کر جو کچھ بھی خرچ کروگے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب دے گا ، اللہ تمہیں اس لقمہ پر بھی ثواب دے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالوگے ۔”

3 ۔ بیوی کی کھائی ، پی ہوئی جگہ سے کھانا پینا
عن عائشة – رضي الله عنها – قالت : ” كنت أشرب وأنا حائض ، ثم أناوله النبي ﷺ ، فيضع فاه على موضع فيَّ ، فيشرب ، وأتعرق العرق وأنا حائض ، ثم أناوله النبي ﷺ فيضع فاه على موضع فيَّ ، صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: خصوصی ایام میں عورت کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنے خاوند کا سر دھوئے اور اسے کنگھی کرے، اس کا جھوٹا پا ک ہے ، اس کی گود میں سر رکھنا اور اس (عالم) میں قرآن پڑھنا جائز ہے) 692 : ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں : میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ (ہڈی) نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے (اور بوٹی توڑتے۔)

4 ۔ بیوی کی گود میں سر رکھنا
عن عائشة – رضي الله عنها – قالت : ” كان رسول الله ﷺ يتكئ في حجري ، فيقرأ القرآن وأنا حائض “.
صحیح بخاری: کتاب: حیض کے احکام و مسائل (باب: مرد کا حائضہ بیوی کی گود میں قرآن پڑھنا) 297 . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔

5 ۔ ایک برتن میں غسل کرنا
أن النبي ﷺ كان يغتسل هو وزوجته من إناء واحد حتى يقول لها : أبقي لي (أي الماء) وتقول هي : أبق لي ”
صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک (ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا) 732 . سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا ،غسل کرتے ۔ آپ میری نسبت جلد پانی لیتے حتی کہ میں کہتی : میرے لیے چھوڑیے، میرے لیے چھوڑیے۔

6 ۔ بیوی کے ساتھ ہنسنا اور کھیل کود کرنا
قال رسول الله ﷺ لجابر بن عبد الله : ” هلا بكرًا تلاعبها وتلاعبك “.
صحیح بخاری: کتاب: دعاؤں کے بیان میں (باب: شادی کرنے والے دولہا کے لئے دعا دینا) 6387 . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا : کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔
وعن عائشة – رضي الله عنها – أنها كانت مع النبي ﷺ في سفر ، وهي جارية ، فقال لأصحابه : تقدموا ، فتقدموا ، ثم قال لها : تعالي أسابقك “. (السلسلة الصحيحة 1/254). سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا : ’’ ایک دفعہ ایک غزوہ کے موقع پرسفر میں مَیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اور میرا بدن ہلکا پھلکا تھا۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کو حکم دیا کہ وہ آگے چلے جائیں ، وہ سب آگے چلے گئے پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: آؤ آپس میں دوڑ لگائیں ۔ ‘‘

7 ۔ گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹانا
سئلت عائشة – رضي الله عنها – ما كان رسول الله ﷺ يعمل في بيته ؟ قالت : كان بشرا من البشر يفلي ثوبه ويحلب شاته ويخدم نفسه “.
(صحيح الأدب المفرد 4996). سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا آپ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے ہی انسان تھے جیسے دوسرے انسان ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے کی جوئیں خود ہی دیکھتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے تھے اور اپنی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرلیتے تھے ۔

8 ۔ بیوی کے لیے منہ کو صاف اور پاکیزہ رکھنا
قالت عائشة – رضي الله عنها – كان رسول الله ﷺ : ” إذا دخل بيته بدأ بالسواك “.
صحیح مسلم: کتاب: پاکی کا بیان (باب: مسواک کرنا) 591 . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کی کہ نبی ﷺ جب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے ۔

9 ۔ بیوی کے لیے بن سنور کر رہنا
قال ابن عباس – رضي الله عنهما – : ” إني أحب أن أتزين لها كما أحب أن تتزين لي “.
(مصنف ابن أبي شيبة). سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کہتے ہیں : میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بن سنور کر رہوں جس طرح وہ میرے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے ۔

10 ۔ بیوی کو اچھے اور بہترین نام اور القاب سے پکارنا
كان ﷺ يقول لعائشة : ” يا عائش ، يا عائش هذا جبريل يقرئك السلام “.
صحیح بخاری: کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی فضیلت) 3768 : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : اے عائش یہ جبریل علیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں
وكان يقول لعائشة أيضا : ” يا حميراء “. (السلسلة الصحيحة 818/7). اور آپ ﷺ انہیں حمیراء بھی کہتے تھے :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عید کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا جبکہ حبشی مسجد میں اپنے نیزوں سے کھیل رہے تھے اور فرمایا: اے حمیراء کیا تم انھیں دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں
وضاحت: ۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔ وقالت عائشة أيضًا : يا رسول الله كل نسائك لها كنية غيري ، فكنّاها ” أم عبد الله “. (السلسلة الصحيحة 255/1). سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول میرے علاوہ آپ کے سب بیویوں کی کنیت ہے ، آپ نے اُن کی کنیت ام عبداللہ رکھی ۔

11 ۔ بیوی کی خامیوں کو نظر انداز کرنا
قال ﷺ : ” لا يفرك (أي لا يبغض) مؤمنٌ مؤمنة إن كرِهَ منها خُلُقاً رضي منها آخر “.
صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل (باب: عور توں کے بار ے میں نصیحت) 3645 .اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی ۔ ”

12 ۔ بیوی کی دلجوئی کرنا ، اگر وہ روئے تو اس کو چپ کرانا اور آنسو پونجھنا
كانت صفية مع رسول الله ﷺ في سفر ، وكان ذلك يومها ، فأبطأت في المسير ، فاستقبلها رسول الله ﷺ وهى تبكي ، وتقول حملتني على بعير بطيء ، فجعل رسول الله يمسح بيديه عينيها ، ويسكتها.. “. السنن الكبرى للنسائي» كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ» أَبْوَابُ الْمُلاعِبَةِ» كَمْ تُهْجَرُ
سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج مطہرات کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، ابھی راستے ہی میں تھے کہ ایک آدمی اتر کر ازواج مطہرات کی سواریوں کو تیزی سے ہانکنے لگا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان آبگینوں (عورتوں) کو آہستہ ہی لے کر چلو دوران سفر سیدہ صفیہ کا اونٹ بدک گیا، ان کی سواری سب سے عمدہ اور خوبصورت تھی، وہ رونے لگیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے ان کے آنسو پونچھنے لگے اور انہیں چپ کروانے لگے ۔

13 ۔ بیوی کی کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنا
عن عمر بن الخطاب قال : صخبت عليّ امرأتي فراجعتني (أي ناقشتني في موقف) ، فأنكرتُ أن تراجعني ! قالت : ولِمَ تُنكر أن أراجعَك؟ فوالله إن أزواج النبي ﷺ ليراجِعْنه.. “. صحیح بخاری: کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان (باب: بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت۔۔۔) 5191 : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں : ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے ،اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں ۔

14 ۔ بیوی کے پکائے ہو ئے کھانے میں عیب جوئی نہ کرنا
عن أبي هريرة – رضي الله عنه – قال : ” ما عاب النبي ﷺ طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه “.
صحیح مسلم: کتاب: مشروبات کا بیان (باب: کھانے میں عیب نہیں نکالنا چا ہیے) 5380 . سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکا لا
اگرکو ئی چیز آپ ﷺ کو پسند آتی تو آپ ﷺ اس کو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہو تی تو اسے چھوڑ دیتے ۔

15 ۔ بیوی کی طرف سے بہترین خدمات پیش کرنے پر اس کا شکریہ ادا کرنا
قال ﷺ : ” من لم يشكر الناس لم يشكر الله “. (صحيح الترغيب والترهيب976). رسول مقبول ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کو شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالٰی کا بھی شکر گزار نہیں

16 ۔ بیوی کے رشتہ داروں اور اس کی سہیلیوں سے حسن سلوک
قالت عائشة – رضي الله عنها – : ” إن كان رسول الله ﷺ ليذبح الشاة فيتتبع بها صدايق خديجة فيهديها لهن “.
جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: (شریک حیات کے ساتھ) اچھی طرح نباہ کرنے کابیان) 2017 : اور اگر آپ ﷺ بکری ذبح کرتے تو ان (سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنھا) کی سہیلیوں کوڈھونڈتے اورگوشت ہدیہ بھیجتے تھے ۔

17 ۔ ہمیشہ ساتھ ساتھ رہنے کا عزم
عن عائشة – رضي الله عنها – عن قصة أم زرع وزوجها الذي كان يحسن إليها ثمّ فارقها ؛ قال ﷺ لعائشة – رضي الله عنها – عندها : ” كنت لك كأبي زرع لأم زرع غير أني لا أطلقك “. صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب (باب: ام زرع ؓ کی حدیث کا بیان)
6305: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ام زرع اور اس کے خاوند کا قصہ جب بیان کیا جو اپنی بیوی سے بہت اچھا سلوک کرتا تھا اور پھر اسےچھوڑدیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں تیرے لئے ایسا ہوں جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا۔ (لیکن نہ تجھے طلاق دی ہے اور نہ دوں گا) ۔

18 ۔ بیماری کی حالت میں بیوی کی خبر گیری کرنا
قالت عائشة – رضي الله عنها – في قصّة الإفك : كنت إذا اشتكيت رحمني ﷺ ، ولطف بي ، فلم يفعل ذلك بي في شكواي تلك فأنكرت ذلك منه كان إذا دخل علي وعندي أمي تمرّضني قال : كيف تيكم ! لا يزيد على ذلك “. صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: واقعہ افک کا بیان) 4141 : واقعہ افک کے ضمن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بیان کرتی ہیں : البتہ اپنے مرض کے دوران ایک چیز سے مجھے بڑا شبہ ہوتاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت وعنایت میں نہیں محسوس کرتی تھی جس کو پہلے جب بھی بیمار ہوتی میں دیکھ چکی تھی ۔ آپ میرے پاس تشریف لاتے ‘ سلام کرتے اور دریافت فرماتے کیسی طبیعت ہے ؟ صرف اتنا پوچھ کر واپس تشریف لے جاتے ۔وعنها – رضي الله عنها – قالت : ” كان ﷺ اذا مرض أحدٌ من أهل بيته نفث عليه بالمعوذات “. یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کہتی ہیں : صحیح مسلم: کتاب: سلامتی اور صحت کابیان (باب: پناہ دلوانے والے کلمات پڑھ کر اور پھونک مار کر مریض کو دم کرنا) 5714 جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے۔

19 ۔ اللہ مالک الملک کی اطاعت میں بیوی کی مدد کرنا
قال ﷺ : ” رحم الله رجلاً قام من الليل ، فصلي وأيقظ امرأته ، فأن أبت نضح في وجهها الماء “. سنن ابو داؤد: کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل (باب: رات کے قیام کا بیان) 1308 . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” رحم فرمائے اللہ تعالیٰ اس بندے پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے ۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے

20 ۔ بیوی پر اعتماد کرنا اور اس کی کمزوریاں تلاش کرنے کی ممانعت
نهى رسول الله ﷺ : ” أن يطرق الرجل أهله ليلاً وأن يخونهم ، أو يلتمس عثراتهم “.
صحیح مسلم: کتاب: امور حکومت کا بیان (باب: مسافر کے لیے طروق (یعنی ) رات کو گھر میں داخل ہونا مکروہ ہے)
4969 . نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان رات کو (اچانک) گھر والوں کے پاس جا پہنچے اور ان کو خیانت (جس طرح خاوند نے کہا ہوا ہے، اس طرح نہ رہنے) کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں ڈھونڈے ۔

21 ۔ گھر سے باہر جاتے وقت بیوی کا بوسہ لینا
قالت عائشة – رضي الله عنها – : ” قبّل النبي ﷺ بعض نسائه ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضأ “. جامع ترمذی: كتاب: طہارت کے احکام ومسائل (باب: بوسہ لینے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان) 86 . ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھرآپ ﷺ صلاۃ کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا

تبصرے
Loading...