بلاگ کالمز

حمیت نام تھا جس کا۔۔گئی تیمور کے گھر سے

یوں تو تاریخِ ہندوستان مغلوں، پٹھانوں اور روہیلوں کی کارفرمائیوں سے بھری پڑی ہے لیکن ہندوستانی تاریخ کے دوکردارو ں نے آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ایک کا نام غلام قادر روہیلہ ہے جبکہ دوسرے کو مرزا عبداللہ المعروف شاہ عالم ثانی کے نام سے جانا جاتاہے۔ان دونوں کی دشمنی کی بھی تاریخ ہے۔ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں جب مرہٹوں کی چیرہ دستیاں اور مظالم حدیں تجاوز کرنے لگے تو غلام قادر روہیلہ کا جرنیل دادا مرہٹوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔نجیب الدولہ نامی یہ جرنیل اس خوش فہمی میں تھا کہ مغل اس مڈبھیڑ میں مرہٹوں کے خلاف روہیلوں کا ساتھ دیں گے لیکن خاندان تیموریہ نے کمال بدطینتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگوں کی بساط ہی پلٹ دی۔مغل مرہٹوں کے ساتھ مل گئے اور نجیب الدولہ کو محصورکردیا گیا۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق نجیب الدولہ کے پاس احمد شاہ ابدالی سے مدد مانگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا۔

احمد شاہ ابدالی نے نجیب الدولہ کا ساتھ دیا اور پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کے خلاف جنگیں لڑیں۔1761ء میں لڑی جانیوالی مشہور پانی پت کی لڑائی انہی جنگوں کا حصہ تھی۔اس لڑائی میں احمدشاہ ابدالی نے غلام قادر روہیلہ کے دادا نجیب الدولہ اور والد۔۔ ضابطہ خان۔۔کی مدد سے مرہٹوں کو مستقل شکست فاش سے دوچار کیا۔ لڑائیاں چلتی رہیں لیکن نجیب الدولہ زیادہ عرصہ نہ جی سکا۔ 1770ء میں فوت ہونیوالے اس جرنیل کو دشمن بھی زبردست الفاظ میں یادکرتے ہیں۔ نجیب الدولہ کے مرنے کے بعد مرہٹوں نے روہیلوں سے پانی پت کی شکست کا انتہائی شرمناک انتقام لیا۔ اس وقت غلام قادر روہیلہ کی عمر کم وبیش بارہ تیرہ سال تھی۔ اس نے روہیلہ قبیلے کے لوگوں کو مرہٹوں اور مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مرہٹوں اور مغلوں کی فاتح فوجیں روہیلہ قبیلے کی نہتی عورتوں کی کس طرح عصمت دری کرتی رہیں۔

جیسے کیسے غلام قادر روہیلہ کی جان تو بچ گئی لیکن مسلسل قتل عام اور عورتوں کی عصمتیں تارتار ہونے کے واقعات وہ مرتے دم تک نہ بھلا سکا۔ اکثر مغلوں کی بہادری اور سفاکانہ ہیبت اس پر طاری رہتی لیکن انتقام کا لاوا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ابلتا رہا۔روہیلہ قبائل پر مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے مظالم وہ بھلائے نہیں بھول پایا اور دہلی کی طرف پیش قدمی کی تیاری کرتا رہا۔ بالآخر 1787ء میں غلام قادر روہیلہ نے کم وبیش ستائیس برس کی عمر میں اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ دہلی پر حملہ کیا اور گھمسان کے رن کے بعد دہلی پر قابض ہوگیا۔عیش و عشرت اور تن آسانی کے نشے میں گھرے مغل اب وہ مغل نہ تھے جس کا عکس غلام قادر روہیلہ کے ذہن پرنقش تھا۔آگے کی کہانی مکافات عمل اور عبرت کے لوازمات سے بھرپور ہے۔اپنے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ روا مظالم کا بدلہ غلام قادر روہیلہ نے کچھ یوں لیا کہ شہنشاہ شاہ عالم ثانی کی بھرے دربار میں دونوں آنکھیں نکلوا ئیں اور نذر زنداں کردیا۔ جبکہ مغل شہنشاہیت اور ہیبت کے جبروت اور سطوت کی نشانی یعنی لال قلعے میں تیمور اور بابر کی بیٹیوں کو برہنہ رقص کراتا رہا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی تصنیف بانگ درا میں غلام قادر روہیلہ کے عنوان سے نظم شامل ہے۔ اس نظم میں اقوام عالم کے عروج و زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کو بطور کہانی بیان کیاگیا ہے۔ نظم کا ایک شعر
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام تھا جس کا۔۔ گئی تیمور کے گھر سے

اقبال اپنے اشعار میں کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ کہ لال قلعہ کے دیوان خاص میں جہاں کبھی شہاب الدین محمد شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر تخت وطاوس پر بیٹھ کر ہندوستان کی تقدیر کے فیصلے کرتے تھے، اسی دیوان خاص میں غلام قادر روہیلہ نے مغل شہزادیوں کو ناچنے کا حکم دیا۔ ہائے وقت بھی کیا کیا دکھاتا ہے، خون مغلیہ کی ہیبت اور روہیلہ کے ذہن میں پکتے لاوے نے شہزادیوں کی جرات کو پیمانہ ء اداکاری سے تولنے کی چال چلی۔ اپنے خنجر نکالے، برابر میں رکھے اور شہزادیوں کو ناچنے کا حکم دے کر جھوٹ موٹ کا سو گیا۔وہ خراٹے لیتا رہا اور شہزادیاں برہنہ رقص کرتی رہیں۔کافی دیر گزرنے کے بعد غلام قادر روہیلہ نے آنکھیں کھولیں اوروہ جملہ کہہ گیا جس نے سلطنت مغلیہ کی تاریخ کے درودیوار ہلا دئیے۔ غلام قادر روہلیہ دیوان خاص میں کچھ یوں گویا ہو ا۔

’میرا خیال تھا کہ تیمور کی بیٹیوں میں کچھ غیرت اور حمیت باقی رہ گئی ہوگی اور وہ مجھے سوتا پا کر میرے ہی خنجر سے مجھ پر حملہ آور ہوں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔خون مغلیہ میں اب وہ غیرت، جرات اور حمیت کہاں، پہلے مجھے گمان تھا مگر اب یقین ہے کہ مغل شہنشاہیت کو مٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘ ہم پاکستانی بھی ویسی ہی ناقص العقل قوم ہیں جو تاریخ سے بھی سبق نہیں لیتے۔ اور سبق لیں بھی تو کیسے۔۔ جس قوم کے جوانوں کے ہاتھوں میں ’قلم یا تلوار‘ کی بجائے ڈرم اور Guitarتھما دئیے جائیں۔ جس قوم کے معماروں کا وقت ’نعرہ تکبیر اور ولولہ شبیر‘ پر غرانے کی بجائے ’بے بی ڈول اور چٹیاں کلائیاں‘ جیسے بیہودہ گانوں پر ناچنے میں صرف ہوتا ہو۔ جس قوم کے بچوں کی مائیں ’علی ولی اور اللہ ہو‘ کی لوریاں سنانے کی بجائے ٹک ٹاک پر ’توہی تو۔۔بس توہی تو‘ کا ورد سکھاتی ہوں۔جہاں شادیوں میں بھارتی گیتوں پر انتاکشری کھیلی جاتی ہو، میدانوں میں برہنہ چئیر لیڈر ز کا راج ہو، ایوانوں میں ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کے آوازے کسے جاتے ہوں۔۔ کھلیانوں میں عزتیں نیلام ہوتی ہوں اور شادیانوں کے بیچوں بیچ جنازے پڑھے جاتے ہوں۔ اس قوم کے مقدر میں رضیہ سلطانہ اور ٹیپو سلطان کی جگہ’شرمین عبیدچنائے اور ہم جیسےtweetoo سلطان‘ لکھ دئیے جاتے ہیں۔

آج مقبوضہ کشمیر میں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہیں۔ کئی ہفتوں سے مقبوضہ وادی میں لاک ڈاون کی کیفیت ہے، اسکولز اور کالجز بند ہیں، مواصلاتی ذرائع منقطع ہیں اور سلام ہے ہماری حمیت کو۔۔ہم تہتر سال پرانا باجا ۔۔ باربار بجائے جا رہے ہیں۔اور جانے کب تک بجاتے چلے جائیں گے۔ مملکت خداداد کے کرتا دھرتاوں میں سے کیا کسی کو اندازہ ہے کہ پانچ اگست کے بعد بطور قوم ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہم معاملے کی بین االاقوامیت، سلامتی کونسل کے ہنگامی سیشن اور چند منٹ کی یکجہتی کال کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں لیکن دیوار کے اس پار نظر دوڑائیے، آپ کے دشمن نے اس دوران عرب ممالک کو اپنا بنالیا ہے، ان کی مارکیٹ پر قابض ہوا ہے، وہاں درہم کی بجائے بھارتی روپے کو مضبوط کیا ہے، بیس سے زائد ارب پتی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر سری نگر سمیت مقبوضہ وادی کو ایکسپورٹ زون اور فلم سٹی میں بدلنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری بھی آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ان سے زیادہ امیدیں لگانا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

ہمیں جان لینا چاہیے کہ جو کرنا ہے ہمیں خود کرنا ہے اور غیرت اور حمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنا ہے۔یہ بھی سراسر نا انصافی ہے کہ جو کثیر المدتی اقدامات گزشتہ حکومتوں کو کرنے چاہیے تھے اس کا اثر ہم نوزائیدہ حکومت کی قلیل المدتی پالیسیوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور موجودہ حکومت کی حالت یہ ہے کہ وزیراعظم نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں مودی سے کسی بھی قسم کے ممکنہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہیں تو وزیر خارجہ کچھ دن بعد مشروط مذاکرات کی بانسری بجاتے ہیں۔ وزیر اعظم آدھے گھنٹے کے لئے باہر نکلنے کی کال دیتے ہیں تو مشیر اطلاعات ’تین منٹ‘ کی تفصیلات لاتی ہیں۔یہ شش وپنج کی کیفیت وہ حکومت پیداکر رہی ہے جو کشمیر پر مضبوط حکمت عملی کا دعوی اور وعدہ کئے ہوئے ہے۔خدارا۔۔اگر حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تو اپنے اردگرد موجود سمجھدار لوگوں سے مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں کنٹرول روم کے نام سے موجود پاکستان کے واحد نجی تھنک ٹینک میں کشمیر سے متعلق پاکستان کی ممکنہ اسٹریٹیجی پربحث ہوئی۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے اپنی ماہرانہ رائے دی۔ ائیر چیف مارشل سہیل امان کے مطابق عرب ممالک کی بے اعتنائیوں پہ نہ جائیں، ابھی جو وہ کررہے ہیں کرنے دیں لیکن یاد رکھیں کہ بحرانی کیفیت میں عرب صرف ہمیں پکارتے ہیں۔اس وقت کا یا تو انتظار کرنا چاہیے یا حالات کو سفارتی دباو کے ذریعے اس نہج تک لانا چاہیے۔کہ اہل عرب گھٹنے ٹیک دیں۔۔ان کے مطابق حکومتی بیانات میں کمزوری یا جھول نہیں ہونا چاہیے تاکہ بیانات کا اثر ہو۔

عرب ممالک ہماری عسکری تربیت گاہوں پر انحصار کرتے ہیں، انہیں یہ بھی باور کرانے کی ضرورت ہے۔مختلف ممالک کے سفارتکاروں کو بلا کر اپنا نقطہ نظر ان کے سامنے رکھنا ہوگا۔ ترکی اور قطر کو نظر انداز کرنے اور ہچکچاہٹ کی بجائے ہمیں مدعے پر کھل کربات کرنی چاہیے۔کشمیر پر ان ممالک کی حمایت کا اثر وزن رکھتا ہے۔ ہمیں سفارتی محاذوں پر کمیاں دور کرنا ہوں گی۔ائیر چیف مارشل سہیل امان نے ایک نہایت گہری بات کی اور کہا کہ لفظوں کا زیادہ اثر اس وقت ہوتا ہے اگربولنے والے کی حیثیت مضبوط ہو، ہمیں معیشت بہتر کرنا ہوگی اور تمام قومی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے یکجہت قومی آواز بلند کرنا ہوگی۔سابق ائیر چیف کی جانب سے پیش کردہ یہ چند تجاویز ہیں جن پر عمل کرکے حکومت کثیر المدتی نتائج حاصل کرسکتی ہے۔لیکن جہاں تک فی الفور نتائج کی بات ہے تو میری ناقص رائے میں ہمیں ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ معاملے کی بین الاقوامیت کا ڈھنڈورا پیٹنا کینسر کا علاج ہومیو پیتھک ادویات سے کرنے کے مترادف ہے۔مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ نعروں اور یکجہتی مہمات سے حل ہونے والا نہیں ہے۔

اس معاملے کا واحد حل جہاد فی سبیل اللہ یا کشمیر کے اندر سے گوریلا وار ہے۔ اب بات جہادکی ہے تو وہ اسی وقت کارگر ہوگا جب حکومتی سطح پر اس کی کال دی جائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل جنرل ضیاء الحق ماڈل کی تحریک آزادی ہی ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ دشمن اس ضمن میں ہم سے غلطیاں کروا چکا ہے۔کل تک جو ہمارے لئے فلاحی تنظیموں کے معززین تھے امریکہ ہمارے ہی منہ سے انہیں غیر ریاستی عناصر کے اعزاز دلوا چکا ہے۔ وہ شخصیات جن کے نام سے بھارتیوں کے پسینے چھوٹتے ہیں۔ ان کی ہیبت کو استعمال کرنے کا وقت آگیا ہے۔ جب ہمیں پتہ ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر سے دہشت گردی کے الزام سے باز نہیں آ سکتا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اب ہمیں حافظ سعید احمد، مولانا مسعود اظہر، علامہ خادم حسین رضوی اور دیگر کی خدمات کو مثبت سمت میں استعمال کرنا ہوگا۔ یہ ہماری حمیت اور غیرت کا تقاضا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے جنہیں ہم نے غیر ریاستی ؑعناصر کا درجہ دیا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم سہتی ہوئی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے دفاع کی پہلی لکیرثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمیں گرے لسٹ، بین الاقوامیت اور بے غیرتی کے ساتھ خاموشی میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔ اگر یہ سوچنے میں ہم نے دیر کردی تو ہمارا حال بھی غلام قادرر وہیلہ کے سامنے ناچتی حمیت سے عاری شہزادیوں جیسا ہوگا جن کے اوپر کسے گئے بھاری بھر کم بھارتی طعنوں سے مقبوضہ وادی اور پاکستان کی تاریخ کی بنیادیں صدیوں تک دہلتی رہیں گی۔ ّ(خدانخواستہ)