بلاگ معلومات

ہمیں کیسے علم ھو ” آیا کہ پانی آلودہ ھے؟

آلودگی کی کچھ صورتیں بہت واضح ھوتی ہیں. کوئی ہیلی کاپٹرز یا ڈرونز کی مدد سے بنی ویڈیوز دیکھ سکتا ھے جن میں بلندی سے پانی پر بننے والی تیل کی تلچھٹ کو فلمایا گیا ھو. آبی آلودگی زیادہ تر غیر نمایاں اور کھوجنے میں اس سے مشکل ھوتی ھے. ھم کیسے اسکی موجودگی کا پتا چلا سکتے ہیں؟ اسکی پیمائش کیسے کی جا سکتی ھے جبکہ یہ ناقابلِ دید حالت میں ھو؟پانی کا معیار جانچنے کے دو بنیادی طریقے ہیں. ایک یہ کہ پانی کا نمونہ حاصل کرکے اس میں پائے جانے والے کیمکلز کی آمیزش کی پیمائش کی جائے آیا کہ کیمیکلز خطرناک ہیں یا نہیں اور انکی شرح آمیزش(concentration in water) کتنی زیادہ ھے. اس طرح سے ھم کسی پانی کو آلودہ یا غیر آلودہ قرار دے سکتے ہیں. اس قسم کے پیمائشی طریقہ کار کو کیمیائی تجزیاتی طریقہ chemical indicatorsکہتے ہیں.

♧پانی کے معیار کو جانچنے کا ایک اور طریقہ حیاتیاتی تجزیہ ھے. اس میں پرکھا جاتا ھے کہ کسی پانی میں مچھلیوں’ آبی حیات اور دیگر غیر فقاریہ کے پنپنے کی صلاحیت کتنی ھے. یعنی آبی حیات کی مد میں کسی پانی کا معیار کتنا مددگار ھے. اگر مختلف الانواع آبی مخلوق کسی دریا یا پانی کے ذخیرے میں پنپتی ھے. تو اسکا مطلب ھے کہ اسکے پانی کا معیار بہت بلند ھے. اگر آبی ذخیرہ آبی حیات مچھلیوں وغیرہ کو بالکل سپورٹ نہیں کرتا یا آبی حیات اس میں معدومیت کی سمت گامزن ھو. تو مطلب ھوا کہ پانی کا معیار بہت پست یا پستی کی سمت گامزن ھے. آزمائش کے اس طریقہ کار کو biological indicators کہتے ہیں.

آبی آلودگی کے اسباب کیا ہیں؟زیادہ تر آبی آلودگی خود پانی کے اندر سے آغاز نہیں پکڑتی. سمندر کو لے لیجیے” تقریباً 80 صد آلودگی ھمارے سمندروں میں خشکی سے داخل ھوتی ھے. انسانی سرگرمیاں آبی ماحول اور معیار پر اثر انداز ھوتی ہیں. جب کسان فصلوں پر سپرے کرتے ہیں. کیمیکلز بارش کے پانی کیساتھ قریبی سطحی یا زیر زمینی ذخائر میں جا ملتے ہیں. کبھی کبھار آبی آلودگی کے اسباب کافی حیران کن اور خلاف معمول ھوتے ہیں. مثال کے طور پر چمنیوں سے اگلا جانیوالا گاڑھا دھواں جو اپنے اندر مختلف کیمیکلز بھی سموئے ھے. اکثریت اس مظہر کو فضائی آلودگی کے ضمن میں تصور کرتی ھے. مگر ھوتا یہ بھی ھے کہ اس فضائی آلودگی میں پائے جانے والے کیمیکلز بارش کیساتھ مل کر واپس زمین پر آن گرتے ہیں. زمین سے یہاں مراد دریا سمندر جھیلیں اور زیر زمینی ذخائر سبھی کچھ ھے. اسطرح سے بھی آبی آلودگی جنم لیتی ھے. اسطرح کا مظہر Atmospheric deposition کہلاتا ھے. آبی آلودگی کے بہت سے مختلف عوامل ہیں. یہی وجہ ھے کہ اس مسلے کا حل مشکل ھے.

☜نکاسی آب.اپنے سینے پر اربوں لوگوں بسائے سیارہ زمین پر نکاسی آب(سیوریج) ایک بڑا مسلہ ھے. 2015 کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کیمطابق کوئی 2.1 ارب لوگوں کو پینے کے صاف’ محفوظ پانی کی سہولت میسر نہیں ھے. یہ زمین کی کل آبادی کا اٹھائیس فی صد بنتا ھے.جبکہ2.3 ارب لوگوں کو صاف ستھری لیٹرینوں کی سہولت sanitation میسر نہیں. یہ کل آبادی کا تیس فی صد بنتا ھے.تاھم پچھلی دہائی کے دوران دنیا بھر میں صاف پانی تک رسائی کی قابلِ قدر کاوشیں ہوئی ہیں. ساتھ ہی تھوڑی بہت امپروومنٹ sanitation کی مد میں بھی ھوئی ہیں. نکاسی آب لوگوں کے گردونواح ماحول کو فوری متاثر کرتی ھے. اور پانی سے متعلق بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ھوتی ھے جیسا کہ اسہال کی بیماری جو پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بڑی تعداد میں شرح اموات کا سبب بنتی ھے

2002 میں عالمی ادارہ صحت نے تخمینہ لگایا کہ پانی سے متعلق بیماریاں 2020 تک 135 ملین لوگوں کی موت کا پیش خیمہ ثابت ھو سکتی ہیں. 2016 کے تخمینوں کے اعتبار سے بھی سالانہ ملینز افراد ان بماریوں کے سبب موت کے منہ میں جا رھے ہیں.ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کو فلش سسٹم کی سہولت میسر ھے جو نکاسی کے مواد کو صفائی اور سرعت کیساتھ گھروں سے دور لیجاتا ھے. باوجود اسکے سیوریج کا پرابلم خاطر خواہ انداز میں حل نہیں ہوجاتا ھے. جب آب فضلے کو فلش آوٹ کر دیتے ہیں. اس نے کہیں نہ کہیں تو جانا ھے. حتی اکہ اگر یہ کسی سیوریج ٹریٹمنٹ (گندے پانی کو صاف کرنے کے مراحل) سے گزرتا ھے. تب بھی ٹھکانے لگانے کو فضلے کی ایک مقدار اپنا وجود تو رکھتی ھے. بعض اوقات اس فضلے بنا کسی علاج کے (untreated) سمندر برد کر دیا جاتا ھے. 1990 کے اوائل تک پانچ ملین ٹن سالانہ فضلہ صرف نیویارک شہر سے سمندر برد کر دیا جاتا.

تمام سمندروں میں پائی جانے والی آلودگی کا تقریباً نصف سیوریج اور نکاسی آب کے سبب ھے. ہر سال دنیا میں تقریباً پانچ سے دس بلین ٹن صنعتی فضلہ بنتا ھے. جسکا زیادہ تر بنا کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر برد ہوتا ھے دریاؤں میں بہا دیا جاتا ھے یا دیگر آبی گزرگاھوں کے حوالے ھوتا ھے. تاھم واٹر ٹریٹمنٹ کی مد میں بڑی اصلاحات بھی جاری ہیں.