بلاگ کالمز

ہمیشہ دیر کر دینے والے

کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ تر کام ایمرجنسی میں کرنے پڑتے ہیں کہ ڈیڈ لائن سر پر آپہنچتی ہے اور بھاگم بھاگ کام نمٹائے بغیر چارہ نہیں ہوتا؟یقینا ایسا کرتے ہوئے آپ تھک جاتے ہوں گے؟ بل جمع کرانے کی آخری تاریخ آ گئی، بنک گئے تو لمبی لائن لگی تھی، خیال آیا کہ اشتہاروں میں موبائل ایپ کے ذریعے بل جمع کرادیاجاتا ہے، موبائل میں وہ ایپ انسٹال ہی نہیں ہوئی، پھر معلوم ہوا کہ نیٹ پیکیج ہی ختم ہوگیا، ری چارج کرانا ہے۔ مجبوراً ٹوکن لے کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ جاب کرنے والوں کو اکثر باس حضرات کوئی سی بھی اسائنمنٹ تھما دیتے ہیں کہ ہفتے بعد فلاں ایشو پر تفصیلی رپورٹ چاہیے،آپ بل جمع کرا کر گھر آئے تو خیال آئے کہ آج اس ڈیڈلائن کا آخری دن ہے، کل

ہر حال میں جمع کرانی ہے، ورنہ حشر نشر ہوجائے گا۔ رات بھر جاگ کر اسائنمنٹ بنانی پڑی۔اسی طرح بائیک یا گاڑی کا کوئی مسئلہ تھا، آواز آرہی تھی، مگر مکینک کے پاس جانے کا وقت نہیں ملاتھا۔جس دن باس نے صبح انتہائی ضروری میٹنگ کال کی، اسی دن وہ نحوست ماری موٹر سائیکل یا گاڑی بھی جواب دے گئی ۔اسی طرح لیپ ٹاپ کا کوئی تکنیکی ایشو تھا، کسی کو دکھانے کا وقت نہ ملا اور ضرورت کے وقت اچانک ونڈو کرپٹ ہوگئی ۔دانت میں درد تھا، ڈاکٹر کو دکھانے کا سوچا، مگر مصروفیت کے باعث نہ ہوپایا۔ اچانک کسی شام شدید درد اٹھا، ویک اینڈ کی وجہ سے ڈینٹسٹ بھی نہ مل پایا،پین کلر گولی بھی کامیاب نہ ہوئی ، رات بھر تڑپتا رہا۔زیادہ پریشانی کا سامنا تب کرنا پڑتا ہے جب چھاتی میں درد اٹھتا ، مگر سوچتے رہنے کے باوجو چیک اپ نہیں کرایا۔کسی نے کہا کہ گیس ہوگی ،گرین ٹی پی لو تو خوش ہوکر قہوے سے وقتی طور پر دل بہلا لیا۔ پھر اچانک کسی دن معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، شدید درد نے ہسپتال پہنچایا اور معاملہ سٹنٹ ڈلوانے تک جا پہنچا۔

اگر یہ کالم پڑھنے والاطالب علم ہے تو اس کے دکھ کا بخوبی اندازہ کر سکتا ہوں۔ اسائنمنٹ ، پراجیکٹ، تھیسس وغیرہ بنانے کی مصیبت۔بھلے سے یہ دو مہینے بعد جمع کرانے ہوں، مگر نجانے کیوں یہ ساٹھ دن گزرتے پتہ ہی نہیں چلتا۔ تین چار دن پہلے جا کراحساس ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ۔ پھر دن رات جاگ کر تھیسس لکھنے یا پراجیکٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ایسا کرتے ہوئے ننھی سی جان پر کیا گزرتی ہے، وہ اندازہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔اگر آپ کو لکھنے سے دلچسپی ہے، کسی ویب سائٹ وغیرہ کے لئے بلاگ لکھتے ہیں یا اخبار میں کام کرتے، اس کے میگزین کے لئے آرٹیکل ، ادارتی صفحات کے لئے کالم دینا پڑتا ہے تو پھر آپ کے دیرینہ مسائل اور پریشانیوں کا خاکسار بخوبی اندازہ کر سکتا ہے۔یقیناً آپ کا وقت بجلی کی سی تیزی سے گزرتا اور دن گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔آپ سوچتے ہوں گے کہ قدرت کے کلا ک کی لکھنے والوں کے ساتھ دشمنی کیوں ہے ؟
اگر آپ کے ساتھ اوپر بیان کی گئی مختلف سیچوئشنز میں سے کسی ایک سے واسطہ پڑتا ہے تو پھر آپ کے لئے میرے پاس دو خبریں ہیں۔ ایک بری ، دوسری اچھی۔ بری خبر یہ کہ آپ قطعی طور پر مظلوم نہیں ہیں، زیادہ چہرے پر خودترسی اور مظلومیت لانے کی کوشش نہ کریں،قصور وقت ، حالات یازمانے کا نہیں بلکہ سراسر آپ کا ہے ۔اچھی خبر جوکہ اتنی زیادہ اچھی بھی نہیں ، وہ یہ کہ آپ اور یہ خاکسارایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔ ہمارے مابین ایک نہایت مضبوط اور اٹوٹ رشتہ ہے۔بے فکر رہیں جب تک زندگی کا رخ نہ بدلے، یہ رشتہ بھی ایسا ہی رہے گا۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے ماہرین نے ایک خاصی منحوس سی اصطلاح Procrastinationوضع کر رکھی ہے، ایسا کرنے والوں کوProcrastinator کہتے ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ تاخیر کرنے والے ، چیزوں کو زیرالتوا ، لٹکائے رکھنے والے بنتا ہے۔ ”پروکراسٹی نیشن “پرریسرچ سے پہلے مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی کہ میرے اہداف بروقت پورے کیوں نہیں ہوتے؟ ان لوگوں کو رشک کی نظر سے دیکھتا جوپنجابی محاورے کے مطابق ہمیشہ ٹھنڈ رکھتے، سکون سے بروقت اپنا کام کر لیتے۔ ہمارا یہ حال کہ قریبی دوستوں کو ازخود بتا رکھا ہے کہ جہاں کہیں ضروری بلانا ہو، ہمیں ایک گھنٹہ پہلے کا وقت دینا اور پھر اس پر اصرار کرناکہ اسی وقت پہنچنا لازم ہے۔

ایسی صورت میں ہماری شمولیت کے امکانات روشن ہوں گے، ورنہ کسی سے ملنے کا وقت طے ہوجائے تو پھر تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اسی میں صرف ہوتی ہیں کہ کسی طرح وقت پر پہنچ سکیں۔ اسی وجہ سے ہمارا کوئی فیس بک فرینڈ یا قاری ملنے کی بات کرے تو دل دہل جاتا ، پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ کبھی یہ راز بھی نہیں کھل پایا کہ کالم آخری لمحات (The Eleventh Hour )ہی میں کیوں لکھا جاتا ہے ، حالانکہ کئی گھنٹے پہلے بڑے ذوق شوق سے کمپیوٹر کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں تاکہ کالم لکھا جائے۔ ان لوگوں پر ہمیشہ رشک آیا جو ایک دن پہلے کالم اخبار کے دفتر بھجوا دیتے ہیںیا جنہوں نے ایک دو کالم ایڈوانس لکھ رکھے ہوتے ہیں کہ ایمرجنسی میں کام آئیں۔ خود احتسابی پر ہم یقین رکھتے ہیں اور اپنی غلطیوںکا اعتراف کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے ۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ جب کالم لکھنے کے لئے ”ان پیج “کی نئی فائل بنا لی، سرخی بھی لکھ ڈالی، ایک آدھ سطر سے آغاز بھی ہوگیا، پھر اچانک ہی گوگل سرچ کرنے، کسی نیوز ویب سائیٹ پر آخری نظر ڈالنے یا فیس بک نوٹی فکیشن کو دیکھ کر جوابی کمنٹ کرنے کا خیال آگیا۔ اب اتنا حق تو ہمیں ملنا چاہیے کہ لکھنے سے پہلے سوشل میڈیا کے جھگڑے نمٹا لیں۔ فیس بک پر جن لوگوں نے مینشن کیا ، ان کو جواب دیا جائے اور پھر واٹس ایپ چیک کر کے جن آٹھ دس گروپوں کا حصہ ہیں، وہاں تازہ ترین کمنٹس اور شیئر شدہ کالم وغیرہ دیکھ لئے جائیں، اب ظاہر ہے ان گروپوں میں لگائی گئی ایک آدھ ویڈیو تو بندہ دیکھ ہی لیتا ہے، اس کا کیا ذکر کرنا۔ مصیبت یہ ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے ، معمولی سے کاموں کو نمٹانے کے بعد جب کالم کی طرف لوٹتے ہیں تو کمپیوٹر کی گھڑی دو تین گھنٹے گزرجانے کی خبر سناتی ہے۔

سچ پوچھیں تویہ ہمیں قدرت کی ناانصافی محسوس ہوتی ہے۔ ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔ وقت اتنی تیزی سے کیسے بیت جاتا ہے؟ یہ راز بھی ہمیں گنجلک لگتا تھا کہ یا تو کئی گھنٹوں سے کالم لکھنے میں لگے ہیں اور یا پھر اچانک ہی کسی جناتی قوت کے تابع بمشکل پینتالیس پچاس منٹ کی تیز رفتار ٹائپنگ سے کالم لکھ کر بھجوا دیا۔ یہ سب باتیں ہم سوچتے اور اپنی درویشانہ طبیعت کے تحت اس مسئلے پر کسی فارغ وقت میں غور فرمانے کا تہیہ کرتے رہتے۔پھر ایک روز ٹیڈ ٹاک(TED Talk) میں اسی موضوع پر ایک ماہر کا لیکچر سنا۔ اٹھارہ منٹ کے لیکچر میں موصوف نے ہمارے تمام مفروضے تہس نہس کر دئیے ۔سمجھ میں آگیاکہ چیزیں التوا میں ڈالنے والا معاملہ ایک طرز زندگی ہے۔ اسے یکسر بدلنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح وزن صرف ڈائٹنگ، گولیاں لینے یا چربی نکالنے کے آپریشن سے کم نہیں ہوتا۔ ایسا ہر علاج وقتی ثابت ہوگا، جب تک لائف سٹائل یعنی طرز زندگی نہ تبدیل کریں، وزن بڑھنے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ یہی معاملہ اپنے ضروری کاموں کو التوا میں ڈالنے کا ہے۔ پروکاسٹی نیٹر (Procrastinator)پیدا نہیں ہوتے، بن جاتے ہیں۔ اس ماہر نے نقشہ بنا کر بتایا کہ انسانی دماغ میں ایک طرح کا گاڑوں کی طرح کا سٹیرنگ ہے، اسے جس سمت میں گھماﺅ انسان اسی طرف چل پڑے گا۔

 

تحقیق کے مطابق بیشتر پروکاسٹی نیشن کرنے والے کا یہ برین سٹیرنگ وھیل ایک شرارتی بندر کے ہاتھ میں رہتا ہے، جس کی واحد دلچسپی تفریح اور وقت گزارنا ہے۔وہ کام پر فوکس کے بجائے ادھر ادھر توجہ کر دیتا ہے، وقت گزرنے کا اندازہ نہیں ہوپاتا ، حتیٰ کہ ڈیڈ لائن کرائسس سر پر آپہنچے۔لیکچر میں بتایا گیا کہ اسی ذہن میں ایک ڈیڈ لائن عفریت یا مونسٹر بھی موجود ہے۔یہ صرف اسی وقت جاگتا ہے جب کسی ڈیڈ لائن سے واسطہ پڑے۔ ادھر وہ شرارتی بندر صرف اسی عفریت سے ڈرتا ہے، اس کے جاگنے پر غائب ہوجاتا ہے۔ یوں تمام تر دماغی قوتیں اس ڈیڈلائن کے چکر میں مرکوز ہوجاتی ہیں اورجیسے تیسے کام مکمل ہوجاتا ہے۔ پروکاسٹی نیشن ایکسپرٹ نے بتایا کہ دو مسائل پھر بھی باقی رہتے ہیں۔ ایک تو جلدی میں کیا گیاکام معیاری نہیں ہوتا، کئی نقائص رہ جاتے ہیں، دوسرا کہ جن معاملات میں ڈیڈ لائن کا پریشر نہیں، وہاں پھر اسی شرارتی بندر کا راج رہتا ہے اور پھر مکمل بیڑاغرق ہونے میں کسر نہیں رہتی۔ اسائنمنٹ، تھیسس، پراجیکٹ، یوٹیلیٹی بلز وغیرہ کے لئے تو ڈیڈلائن ہے، لیکن صحت کے معاملات ، کیرئر کے دیگر ایشوز پر ڈیڈلائن کا پریشر نہیں تو وہاں کارکردگی مایوس کن رہتی ہے۔فیملی ریلیشن،دوستوں سے تعلقات ، قرضوں کی ادائیگی اور اسی طرح کے بہت سے اہم ترین معاملات ہیں، وہاں پر ہمیں ڈیڈ لائن عفریت کی مدد حاصل نہیں ہوپاتی۔ اس لئے ڈیڈلائن پر کام مکمل کر لینا خوشی یا آسودگی کی علامت نہیں، اصل کام اپنی پروکراسٹی نیشن کی عادت کو بدلنا ہے۔ یہ کام پختہ عزم اور قوت ارادی ہی سے ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے اس حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے، نیٹ پر سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہوا تو اگلی کسی نشست میں اس پر لکھوں گا